Loading
پاکستان 2023 میں منظور کی گئی پالیسی میں موجود خامیوں کے باعث غیر ملکی تیل فراہم کنندگان کو ملک میں بانڈڈ آئل اسٹوریج قائم کرنے کی جانب راغب کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اب اس پالیسی میں ترامیم کر رہی ہے تاکہ غیر ملکی سپلائرز کے لیے پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے کا ماحول سازگار بنایا جا سکے۔
پاکستان خطے کا واحد ملک ہے جس کے پاس تزویراتی (اسٹریٹجک) تیل ذخائر موجود نہیں، جبکہ پڑوسی ملک بھارت میں متحدہ عرب امارات کے تعاون سے اسٹریٹجک ذخائر قائم کیے جا چکے ہیں۔
وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے تمام تیل پیدا کرنے والے ممالک سے رابطہ کر کے انھیں پاکستان میں تیل ذخائر قائم کرنے کی دعوت دی، جس پر سب سے پہلے کویت نے دلچسپی ظاہر کی۔
نئی پالیسی کے تحت حکومت کو غیر ملکی سپلائرز کے زیر انتظام ذخائر سے تیل استعمال کرنے کا پہلا حق حاصل ہوگا، تاہم سپلائرز کو ان ذخائر سے تیل برآمد کرنے کی اجازت بھی دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو خلیفہ آئل ریفائنری اور تیل ذخائر کے لیے زمین مختص کی تھی، تاہم یو اے ای نے ان اسٹریٹجک ذخائر کی تعمیر نہیں کی۔
اب پاکستان سعودی عرب، کویت اور قطر کی جانب دیکھ رہا ہے تاکہ وہ تیل اور گیس ذخیرہ کرنے کی سہولیات قائم کریں۔پٹرولیم ڈویژن نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو غیر ملکی سپلائرز کے لیے کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولت کے ذریعے تیل درآمد کرنے کی پالیسی پر بریفنگ دی تھی، جس کی منظوری 26 جون 2023 کو دی گئی۔
بعد ازاں تمام متعلقہ اداروں نے پالیسی پر عملدرآمد کے لیے اپنے قواعد و ضوابط جاری کیے، تاہم اب تک کسی غیر ملکی سپلائر نے اس پالیسی کے تحت بانڈڈ اسٹوریج قائم نہیں کیا۔
ای سی سی کو بتایا گیا کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے دوران ملک کی توانائی سلامتی کی کمزوریاں نمایاں ہو گئیں۔
اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پٹرولیم ڈویڑن توانائی کے تحفظ کے اہم ستونوں، بشمول مقامی وسائل کے فروغ اور اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کی تعمیر، پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے فارمولے میں مسلسل تبدیلیوں کے باعث تیل کی صنعت نے خبردار کیا ہے کہ اس سے ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے لیے مجوزہ 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔
حکومت اس وقت غیر ملکی تیل سپلائرز کو اسٹریٹجک ذخائر قائم کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی دعوت دے رہی ہے، تاہم قیمتوں کے تعین اور معاشی پالیسیوں میں بار بار تبدیلیاں سرمایہ کاروں کو مستقبل کی سرمایہ کاری سے دور کر سکتی ہیں۔
حالیہ نظرثانی کے دوران حکومت نے تیل کی قیمتوں کا فارمولہ تبدیل کیا، جس کے نتیجے میں ڈیزل پر فی لیٹر 46 روپے اور پٹرول پر فی لیٹر 11 روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہوا، جس سے ریفائنریوں کو 100 ارب روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران متنازع حساب کتاب کے باعث ڈیزل پر تقریباً 75 روپے فی لیٹر اور پٹرول پر 35 روپے فی لیٹر کے مساوی نقصان ہوا، جسے سپلائی چین نے برداشت کیا اور صارفین تک منتقل نہیں کیا گیا۔
ایک سینئر صنعتی عہدیدار نے کہا اعداد و شمار متنازع نہیں ہیں۔ جب درست پریمیم اور پلیٹس اوسط قیمتیں استعمال کی جاتی ہیں تو نتائج بالکل مختلف آتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہی طریقہ کار کو مسلسل اور یکساں طور پر اپنایا جائے۔
اس تنازع نے اس وقت شدت اختیار کر لی جب بڑی تیل کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز نے وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک اور سیکریٹری پٹرولیم حامد یعقوب سے ہنگامی ملاقات کی اور فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ایک اور سینئر صنعتکار نے کہا بنیادی مسئلہ تسلسل کا ہے۔
قیمتیں بڑھنے پر ایک فارمولا اپنایا جاتا ہے اور کم ہونے پر دوسری تشریح سامنے آ جاتی ہے۔ صنعت بدلتے ہوئے قواعد کے تحت نہیں چل سکتی۔
وزیرِ پٹرولیم نے کہا کہ ان کی وزارت نے فنڈز بروقت اوگرا کو منتقل کر دیے ہیں اور اب ادائیگیوں کی ذمہ داری ریگولیٹر پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اوگرا کو زیر التوا دعووں کی فوری ادائیگی کی ہدایت دی جائے گی۔
صنعتی نمائندوں نے خبردار کیا کہ قیمتوں کے تعین کے نظام میں مسلسل غیر یقینی صورتحال ذخیرہ اندوزی، ریفائنری اپ گریڈیشن اور ایندھن کی ترسیل کے نیٹ ورک میں مستقبل کی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل