Loading
میں اس بات کی وضاحت اپنی ذمے داری سمجھتی ہوں کہ ایم کیو ایم کسی فرد کی جاگیر نہیں ہے، اصل حقیقت یہ ایک فلسفہ ہے، اس قوم کے لیے جو تحفظ کی خاطر اپنی زمین اپنا مکان سب چھوڑ آئے اور آج بھی ہمارا سر فخر سے بلند ہے کہ تمام ہجرت کرنے والے نہ ننگے اور نہ ہی بھوکے آئے تھے۔
بلکہ ہجرت کا جائزہ لیا جائے تو جغرافیائی آمد کی حقیقت یہ ہے کہ پورے ہندوستان سے ہجرت ہوئی جو لوگ آئے ،ان میں بڑے کاروباری اور تجربہ کار بھی شامل تھے جس میں شعبہ بینکنگ، شپنگ، ایئر لائنز اور انڈسٹریز کے علاوہ تعلیم یافتہ، ادیب، شعرائے کرام، تہذیب و تمدن والے اور ہنرمند کاریگروں کے علاوہ برصغیر کی نامور شخصیات کو قائد اعظم کی قیادت کی کشش یہاں لے کر آئی۔
لیکن تقسیم کے دوران ہی انگریز کے ہاتھوں پیدا کیے گئے حالات سے نہ صرف مسلم و غیر مسلم افراد کی اموات ہوئیں بلکہ ان کا مال بھی لوٹا گیا، اب اس تناظر کو چند لوگ کہہ بیٹھے ہیں کہ ہم ننگے بھوکے یہاں آئے۔ نہ ہم ننگے تھے اور نہ ہی بھوکے ہم نے ویرانوں کو جلا دی۔
اب آپ کراچی دیکھ لیجیے کہ ہمارے آنے سے پہلے کتنی آبادی تھی اور کتنا کاروبار تھا۔ یہ علاقہ ترقی سے عاری تھا لیکن ہجرت کر کے آنے والوں نے ہی اسے ملک کا معاشی حب بنایا ہے۔ ایم کیو ایم کی نمائندگی بے شک متوسط طبقہ کر رہا ہے لیکن ہجرت کر کے آنے والے تمام مہاجر اس موقف پر قائم ہیں کہ متوسط طبقے کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔
پاکستان میں چار قسم کے لوگ ہجرت کر کے پہنچے مال دار پیشہ ور تاجر، تعلیم یافتہ طبقہ، متوسط طبقے کے لوگوں کے علاوہ کم آمدنی والے بھی آئے اور حکومت کے سرکاری ملازمین جو برٹش حکومت کے زیر انتظام کام کر رہے تھے جن میں اعلیٰ بیوروکریٹ سے لے کر نچلے درجے کے اہلکار سب شامل تھے ہندوستان کی ساحلی پٹی سے لے کر ریگستانوں، میدانوں، کھلیانوں اور باغوں کو چھوڑ کر بلکہ وسیع محلات، حویلیاں اور پختہ گھر بھی چھوڑ کر آئے اور اس خطے کو آباد کیا جہاں نہ تو صنعت تھی ،نہ تجارت تھی آج پورے ملک سے عوام اس شہر کراچی میں روزگار کے سلسلے میں کیوں آتے ہیں ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس شہر کو مہاجروں نے آباد کیا جہاں تعلیم، معیشت اور علاج کے مرکز موجود ہیں، آج یہاں کے رہنے والے پورے ملک سے آنے والوں کو اس شہر کی سڑکوں پر مفت کھانا تقسیم کرتے ہیں بغیر پیسے علاج ہوتا ہے ۔
اب میں کالم کے ابتدائی الفاظ کی مزید وضاحت کی جانب آتی ہوں ایم کیو ایم کے حوالے سے اس کے ابتدائی وجود کا تقابلی جائزہ دوسری جماعتوں سے کیا جائے تو یہ عہدوں کی تقسیم، موروثی قیادت یا کسی فرد کی خواہش کے تابع ہونے کے لیے نہیں بلکہ حقوق کی جدو جہد اور کوٹہ سسٹم کے خاتمے کے لیے بنائی گئی تھی۔
سندھ کے شہری علاقوں میں دہائیوں سے بے چینی تھی اور آج بھی اسی طرح سے موجود ہے جیسے پہلے مارشل لاء میں تھی یعنی ایوب خان کے دور میں ہمارے ہی شہروں میں آکر مہاجروں کی املاک کو نذر آتش کیا گیا اور قتل و غارت گری کی گئی جس میں لیاقت آباد، ناظم آباد، گولیمار، برنس روڈ وغیرہ کے علاقے شامل تھے ،تاہم اس سب کے باوجود یہ بستیاں نہ صرف ہمارا فخر ہیں جب کہ یہ خالص مہاجر آبادیاں تھیں۔
لہٰذا ہم اور مضبوط ہوئے اور اپنی پہچان جو صرف پاکستان تھی لیکن ان حالات نے ہماری دوسری پہچان جو مہاجر تھی اس نے اپنا سر اٹھایا جو آج بھی قائم ہے اور یہ پہچان اور نام ہمارا فخر بھی ہے ،ناانصافیوں کی شکل اب بھی ہے جیسے کہ سرکاری ملازمتوں کی کمی، ہماری آبادیوں میں بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کو روکنا، راستوں کو دشوار گزار بنائے رکھنا، ٹریفک سسٹم کے نام پر بھاری چالانوں کا اجراء، دوسرے شہروں کے افراد کو جعلی ڈومیسائل جاری کرنا، شہریوں کا پانی شہریوں کو فروخت کرنا، ناجائز تجاوزات لگوانا جیسے دیگر عوامل شامل ہیں۔
یاد رہے کہ سندھ کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ہجرت کر کے آنے والے مہاجروں کی آبادیاں موجود ہیں یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ کراچی سے شروع ہونے والی تحریکیں ،وفاقی حکومتوں کی تبدیلی کا سبب بن جاتیں اور ریکارڈ پر موجود ہے کہ جو الزامات ہمارے اوپر لگائے جاتے تو حکومتوں کو ختم کرنے والے خود اپنے بیانیے میں اس کا ذکر ضرور کرتے کہ سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔
1986 کے فرقہ ورانہ فسادات میں شہر کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی تب مہاجر نوجوانوں نے گھروں سے نکل کر گلی محلوں، مساجد، امام بارگاہوں اور بازاروں میں جا کر یہ بات بتائی کہ یہ لڑائی ہماری نہیں بلکہ ہم پر مسلط کی جا رہی ہے اور اس یکجہتی کے پیغام کو ہر طبقہ فکر کے لوگوں تک پہنچایا اس وقت شہید عظیم احمد طارق موجود تھے۔ اس جدو جہد کی وجہ سے 30 نومبر 1987 کو مہاجروں نے بلدیاتی الیکشن میں بھر پور کامیابی حاصل کی اور اپنی قوت کو منوایا۔
میں نے اپنی زندگی کے پرائم ٹائم سے اس تحریک میں حصہ لیا مرکزی قیادت کے ہر فرد سے براہ راست گفتگو کرنا، مسائل کے تدارک کا حل نکالنا، عوام اور کارکن کی بات کو سمجھنا اور تحریک کے کام کو آگے بڑھانا اور جو ذمے داری ہمیں دی جاتی انتہائی جاں فشانی سے اس کی تکمیل کرنا ہم سب کی بنیادی ذمے داری ہوتی کہ جہاں تک ممکن ہو سکے عوام اور کارکن کو سہولت مہیا ہو سکے۔
یہ صرف میں ہی نہیں بلکہ ہم سب کی سوچ یہ ہی ہوتی تھی جو کام دیا جائے وہ ہو جائے اور ہم عوام اور پارٹی کے سامنے سرخرو رہیں جس کسی کو پارٹی کی جانب سے علاقائی ذمے داری دی جاتی تو اس کی نیند اڑ جاتی یعنی جس کے ذمے کام آتا تو اس کی پہلی کوشش ہوتی کہ کل واپس ہو جائے تو اچھا ہوگا کیونکہ ہم کام کے آگے وقت اور رکاوٹ کو نہیں دیکھتے تھے۔
یہی وجہ تھی کہ جب بھی مقامی حکومت میں ہمیں موقع ملا تو سندھ کے شہری علاقے ترقی کی جانب رواں ہوئے سڑکیں، گلیاں، پل، انڈر پاس اور پارک تعمیر کیے گئے، پانی کی نئی لائن سمندر سے گزار دی، کچرے کے انبار ختم کیے، تفریح کے مواقع فراہم کیے، کراچی کے لیے پانی کا اضافہ کیا، عوام کے لیے ایئر کنڈیشن ٹرانسپورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا، کراچی کے لیے ایک ماسٹر پلان بنایا۔
یاد رہے کہ کراچی میں نئے ماسٹر پلان میں ایک ایئر پورٹ کی پلاننگ بھی رکھی گئی تھی تاکہ کراچی کی ترقی کو مزید آگے بڑھنے کے مواقع پیدا ہوں اس کے علاوہ بھی منصوبے تھے جس میں ایک منصوبہ کراچی کے نکاسی آب کے پانی کو صاف کر کے سمندر میں شامل کرنا بھی تھا اس کے علاوہ پورے شہر کا نیا انفرا اسٹرکچر بنانا جہاں صنعتوں کے قیام کے لیے جگہ مہیا کرنا اور رہائش والے علاقوں کو ان سے براہ راست ملانا۔
جب کہ صنعتی ایریا کو پورٹ اور ہائی ویز سے منسلک کرنا شامل تھا ان تمام باتوں کو بتانا اس وجہ سے ضروری ہے کہ ایم کیو ایم کو جب بھی مقامی بلدیاتی حکومتوں میں شامل ہونے کا موقع ملا تو ایک تاریخ رقم کی ہمارے دور کی دستاویزات کی گواہی سپریم کورٹ کے فیصلے میں لکھی ہوئی ہے جو اس وقت کی مقامی حکومت نے بنائی تھی اس سے بڑا کوئی ثبوت نہیں۔
میرا استدلال یہ ہے کہ چھیننے اور مانگنے کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے چھیننا غنڈا گردی ہے جب کہ اپنا حق مانگنا ہر اعتبار سے جائز اور اصولی ہے جو شرافت کی نشانی ہے لہٰذا ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے آنے سے پہلے یہاں کیا تھا؟
سوا سمندر کے۔ ان تمام حالات و واقعات کے ہوتے ہوئے ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہونا ضروری ہے وہ یہ کہ قومی یکجہتی کا فروغ ملکی استحکام کے لیے انفرادی و اجتماعی کوشش اور معاشی ترقی کے منصوبوں کو اولیت دینا تاکہ عوام کو مہنگائی کے دورانیے سے نکالنے کی راہ ہموار ہو سکے سستی اشیاء کا حصول عوام کو زندگی میں چین دے گا، میں اپنی بات کو ابتدائی گفتگو سے منسلک کرتے ہوئے یہ بتانا چاہتی ہوں کہ نہ تو ہم سمندر میں کودیں گے نہ پلٹ کر سوائے اللہ کے پاس جانے کے کہیں اور جائیں گے ۔پاکستان پائندہ باد۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل