Loading
پہلی بار ایسا ہوا کہ نئی نسل نے یکے بعد دیگرے پہلے سری لنکا، اس کے بعد نیپال اور پھر بنگلہ دیش میں بغیر قیادت کے انقلاب برپا کیے اور بظاہر مستحکم حکومتوں کو گھٹنے ٹیکنے اور حکمرانوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔ حکمرانوں کو یہ بات سمجھ میں ہی نہیں آئی کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے؟ خیر آج کا موضوع کچھ اور ہے اور آئیے اسی پر بحث کو آگے بڑھاتے ہیں۔
اسی طرح امریکا وینزویلہ میں حملہ کرکے صدر مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت اٹھاکر لے گیا، اگر اسی طرح لیڈروں کو مارنے اور اٹھانے کا سلسلہ جاری و ساری رہا تو کون بے وقوف ہوگا جو اپنے آپ کو قیادت کے لیے پیش کرے گا!؟
اسی طرح امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا۔ جسے ’’آپریشن رورنگ لائین اور آپریشن ایپک فیوری‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہ حملہ اٹھائیس فروری کو شروع ہوا اورآٹھ اپریل تک جاری رہا جس کے دوران آبنائے ہرمز بند ہوگیا۔
ایران نے اسرائیل سمیت قطر، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا جب کہ امریکی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی سمیت متعدد ایرانی لیڈر جرنیل ہلاک ہوئے۔
تاہم نہ تو امریکا اور اسرائیل اور نہ ہی ایران نے کوئی فوجی پیش قدمی کی۔ یہ جھڑپیں ہوائی حملوں کی صورت میں کی گئیں جن میں ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔ امریکا اور اسرائیل نے رجیم چینج کے لیے ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا مگر کوئی کامیابی نصیب نہ ہوسکی۔
پاکستان نے فریقین کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات اور مصالحت کرانے کے لیے اہم کردار ادا کیا اور بالآخر ثالثی کرانے میں کامیاب ہوا۔شروع شروع میں روس،یوکرین جنگ میں کچھ دنوں کے لیے بری فوج کا استعمال ہوا، تاہم اس کے بعد صرف ڈرونز اور میزائیل ٹیکنولوجی استعمال کی جا رہی ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ لڑائی کرنے والے فریقین بھی جانی نقصان سے بچنا چاہتے ہیں اور عوام کے جنگ مخالف ردعمل سے خائف ہیں۔
جانی نقصان سے بچنے کے لیے دشمن ممالک ایک دوسرے کے خلاف جدید حربی حکمت عملی پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔ جس کا مظہر ہم سب نے حالیہ جنگوں میں دیکھا ہے۔ تو کیا اب افکار کی جنگوں کا دور دورہ ہے؟ ممکن ہے کہ چند برس کے اندر ہی کسی نہ کسی ملک میں روبوٹ آرمی لانچ کی جائے۔ چین نے تو اس کا آغاز بھی کردیا ہے، کیونکہ جب تک دھرتی پر لکیریں (سرحدیں) موجود ہیں تب تک ان کی حفاظت کی ضرورت بھی پیش آتی رہے گی۔
اگر روبوٹک آرمی بنالی جاتی ہے جو کہ اب ناگزیر ہے تو پھر کیا آنے والی جنگوں میں انسانوں پر مشتمل بری فوج کی افادیت ختم ہوجائے گی؟ ظاہر ہے انسان مشینوں سے لڑنے کی جسارت کس طرح کرسکتا ہے؟ ممکن ہے کہ تھوڑی بہت انسانی فوجوں کی ضرورت ہو تاکہ اس روبوٹ آرمی کو کنٹرول کیا جاسکے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ روبوٹک آرمی کی تعداد بہت کم رکھی جائے کیونکہ ایک مشین ایک ہزار لوگوں کے برابر بھی کام کرسکتی ہے۔ تو کیا مستقبل کی جنگیں انسان کی ایجاد کی گئی مشینیں لڑیں گی؟ کم از کم موجودہ جدید دنیا تو اسی طرف جا رہی ہے۔
ہوائی فوج کے لیے ڈرونز اور میزائل متبادل کے طور پر لانچ ہوچکے ہیں اور بری فوج کی جگہ بھی ٹیکنالوجی لے رہی ہے اور یہ سب کچھ برق رفتاری سے ہو رہا ہے۔ تو کیا مستقبل میں جنگوں کی ضرورت رہے گی؟
کم از کم کوئی ذی شعور انسان تو جنگ نہیں چاہتا۔ جنگ ان تاجروں کی خواہش ضرور ہے جنھوں نے اسلحہ سازی کا دھندہ اپنا رکھا ہے اور حالیہ جنگوں میں انھوں نے خوب کمایا ہے یا پھر ان چند لوگوں کی جن کو حکمرانی اور لیڈری کا شوق ہے، مگر اس کے باوجود وہ دولت جمع کرنے میں ان لوگوں سے اب بھی بہت پیچھے ہیں جو کہ’’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘‘ سے دولت کما رہے ہیں، اب تو انٹرنیٹ کے بغیر تجارت کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔
بچے انٹرنیٹ گیمز میں محو ہیں اور بڑے بھی فیس بک، یوٹیوب، مذاکروں اور اس طرح کے دیگر انٹرنیٹ پر ہونے والی سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں، لہٰذا راقم الحروف اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اب لوگ جنگوں اور جہالت کے بجائے شعور اور آزادی کی جنگ میں جت چکے ہیں، وہ انٹرنیٹ پر پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتے۔
اس لیے مستقبل ’’افکار کی جنگوں‘‘ کا ہے، جس میں غربت کے خاتمے، انسان دوستی کو پروان چڑھانے اور خاص طور پر علمی، ادبی، تہذیبی، تمدنی اور ثقافتی یکجہتی کی ایک نئی جنگ شروع ہوچکی ہے۔ جس کے لیے ممتاز مفکر پیتر کروپوتکین بہت پہلے کہہ کر گئی ہیں کہ ’’مقابلہ بازی جنگل کا اور تعاون تہذیب کا قانون ہے‘‘ مگر پرانی سوچ کے لوگ آج بھی روایتی طور طریقوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور وہ ماضی میں زندہ رہنے کو ترجیح دیتے اور خوش ہوتے ہیں۔
اس کی وجہ بھی سرمایہ دار، جاگیردار اور حکمران طبقات ہیں جو ان جدید خیالات کو روکنے اور غلامی کو برقرار رکھنے پر تو اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں مگر خود اپنے لیے نئی ٹیکنالوجی سے استفادہ بھی کر رہے ہیں۔ دنیا کو پیچھے دھکیلنے کی ہر کوشش اب تک تو ناکام ہوچکی ہے اور آئندہ بھی یہ کوششیں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں۔
لوگ اب جنگوں سے تنگ اور عاجز آچکے ہیں۔ نسلی برتری، لسانی تفاخر اور جدید قومی ریاست جیسے تصورات اب اپنی اہمیت کھو رہے ہیں۔ بڑے بڑے بتوں کی جگہ اب بڑے بڑے ادارے بلکہ ریاستی ستون تک شکست و ریخت کے عمل سے دوچار ہیں اور جو بھی ان کے آگے بند باندھے گا، وہ خود بھی اس میں بہہ جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل