Loading
ہمارے ملک کے نامور اور بے شمار صلاحیتوں اور علمیت و قابلیت سے مالا مال لوگ جن کی پوری دنیا عزت کرتی ہے اور اپنے ملک کے مختلف شعبہ جات میں متعین کرکے فخر محسوس کرتی ہے ،ان کی قابلیت سے فائدہ اٹھا کر اپنے ملکی و قومی اداروں کو مضبوط اور عوام کی خوشحالی کے لیے راہیں ہموار کرتی ہے۔
ہمارے ملک پاکستان میں پیدا ہونے والے نوجوان اپنی ذہانت کی بنا پر تعلیمی سرگرمیوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، بہترین نمبروں سے پاس ہوتے ہیں لیکن جب ملازمت کا وقت آتا ہے تب انھیں سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن سیٹوں کے وہ حق دار تھے وہی سیٹیں ان لوگوں کو محض اقربا پروری، سفارش اور رشوت کے عوض پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دی جاتی ہیں۔
کارہائے نمایاں انجام دینے والوں کے حصے میں محرومی اور مایوسی آتی ہے وہ نہ اپنے گھر کی غربت دور کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے دیرینہ خوابوں کی تعبیروں میں رنگ بھرنے کے عمل سے گزرنے کے لیے کوئی ایسی راہ تلاش کر پاتے ہیں جہاں ان کی ڈگریوں کی اہمیت کو شان دار ملازمت دے کر اجاگر کیا جائے۔
گزشتہ سالوں میں ہزاروں اعلیٰ دماغ رکھنے والے طالب علموں نے دیار غیر کا سفر کیا اور انھیں دوسرے ملکوں میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ یہ خیال مجھے اس لیے آیا کہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق منصوری نے نہ صرف یہ کہ ایک بہت ہی اہم شخصیت ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کی خبر سنائی اور ان کے علمی و عملی کارناموں سے بھی آگاہ کیا، پھر ہمیں نابغہ روزگار ہستی کی پاکستان میں ناقدری کا احساس شدت سے ہوا۔
پروفیسر ڈاکٹر اسحاق منصوری آج کل ملائیشیا میں مقیم ہیں اور دینی خدمات اور فلاحی کاموں میں مصروف ہیں۔ انھوں نے ہی مکمل تعارف کچھ اس طرح کرایا ہے:
اسلامی دنیا کے نامور ماہر معاشیات، فقیہ معیشت ڈاکٹر محمد عمر چھاپراؒ انتقال فرما گئے ہیں ان کی نماز جنازہ آج صبح 10جون مسجد الحرام میں ادا کی گئی اور تدفین جنت المعلیٰ میں عمل میں آئی ڈاکٹر محمد عمر چھاپراؒ کی خدمات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر چھاپرا کا شمار ان معدودے چند مفکرین میں ہوتا ہے جنھوں نے جدید معاشی نظام کے چیلنجز کو اسلامی نقطہ نظر سے سمجھنے اور اس کا متبادل پیش کرنے کی سعی کی اور جب دنیا بھر کے دانشور سرمایہ دارانہ اور سودی نظام کی خرابیوں پر بحث کر رہے تھے، ڈاکٹر چھاپرا عملی تجاویز اور قابل عمل سفارشات کے ساتھ میدان میں تھے۔
ان کا سعودی عریبین مانیٹری ایجنسی میں معاشی حوالے سے کلیدی کردار رہا، اس کے ساتھ اسلامک ڈیولپمنٹ بینک جدہ میں سینئر عہدے پر فائز رہتے ہوئے اسلامی مالیاتی اداروں کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا۔ خادم الحرمین الشریفین کے معاشی مشیر کی حیثیت سے سعودی حکومت کو پالیسی سازی میں رہنمائی فراہم کی۔
ان کی علمی و تحقیقی خدمات کا اعتراف عالمی سطح پر کیا گیا 1990 میں انھیں شاہ فیصل انٹرنیشنل ایوارڈ برائے اسلامیات سے نوازا گیا، یہ ایوارڈ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ عرب دنیا نے ان کے فکری سرمائے کی نہ کہ قدر کی بلکہ استفادہ بھی کیا۔
ڈاکٹر اسحاق منصوری نے اپنے ملک پاکستان کے اس رویے کا ذکر بے حد دکھ کے ساتھ کیا کہ پاکستان جس نے ڈاکٹر عمر جیسی نابغہ شخصیت پیدا کی، بدقسمتی سے پاکستان ان کے ٹیلنٹ کی قدر نہ کر سکا، انھوں نے مزید کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں اعلیٰ معاشی عہدے حاصل کرنے کے لیے یا تو مغربی یونیورسٹیوں سے وابستگی کو اہمیت دی جاتی ہے یا کسی یورپی و امریکی ادارے کی تائید کا ہونا ضروری ہے۔ ڈاکٹر چھاپرا نے اس روش سے ہٹ کر خالص اسلامی فکری بنیادوں پر کام کیا اور عرب دنیا نے ان کی اسی سوچ و فکر، مہارت اور صلاحیت کی قدر کی۔
دراصل ڈاکٹر چھاپرا کا تعلق ابتدا ہی سے اسلامی جمعیت طلبا اور جماعت اسلامی سے رہا ،وہ تحریک اسلامی کے ایک تربیت یافتہ کارکن تھے جنھوں نے اپنی صلاحیت کو دین کے غلبے کے مقصد کے لیے وقف کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ترجمان القرآن کے لیے بھی کئی اہم اور فکری مضامین تحریر کیے، جن میں انھوں نے اسلامی معاشی نظام کے نظریاتی اور عملی پہلوؤں کو نہایت سادہ اور مدلل انداز میں پیش کیا۔
اپنی تحریر و تقریر کے اختتام پر ڈاکٹر اسحاق منصوری نے ڈاکٹر عمر چھاپراؒ کی روح کو ایصال ثواب کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ان کا انتقال اسلامی معاشیات کے لیے ایک بڑا نقصان ہے ،وہ ایک ایسے فکری مینار تھے جس کی روشنی میں آنے والی نسلیں سود کے بغیر معیشت کا راستہ تلاش کر سکیں گی۔
اس بات میں شک کی گنجائش ہرگز نہیں ہے کہ پاکستان کی مٹی نے بے شمار سونے، ہیرے اور موتیوں جیسے لوگ پیدا کیے جنھوں نے اپنے ملک کا نام روشن کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر ایسے کام کیے جن کی پوری دنیا معترف ہے۔ کچھ اہم وہ شخصیات جن کا تعلق طب، سائنس، ٹیکنالوجی اور آرٹ سے ہے ان کا ذکر بھی موضوع کی مناسبت سے کرنے کی گنجائش نکلتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالسلام (ڈاکٹر آف فزکس) انھیں 1979 میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ دوسرا اہم نام جو میرے دماغ کے دریچوں میں روشن ہوا ہے وہ ہے پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن کا، کیمسٹری کی دنیا میں ایک بہت بڑا نام جن کی تحقیق پر بین الاقوامی سطح پر کام ہوا۔
انھوں نے نامیاتی مرکبات Organic Compounds اور خاص طور پر جڑی بوٹیوں سے کینسر جیسی بیماریوں کے علاج کے لیے دوائیں بنانے کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر نوید سید جوکہ نیورو سائنسدان ہیں دنیا میں پہلی بار انسانی دماغ کے خلیات کو سلیکان چپ (Silicon Chip) سے جوڑنے والے پہلے سائنسدان ان عظیم کارناموں اور پاکستان کی شناخت کے حوالے سے جناب ڈاکٹر طارق مصطفی (خلائی سائنسدان) کا نام بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔
اس کے علاوہ پاکستان کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بھلا کون واقف نہیں ہے وہ محسن پاکستان، فخر پاکستان اور استحکام پاکستان ہیں ان کی ایٹمی صلاحیتوں نے پاکستان کو مضبوط اور محفوظ بنا دیا ہے پاکستان کو کوئی ٹیڑھی نگاہ سے دیکھنے کی ہمت نہیں کر سکتا ہے ،ان کا یہ عظیم کارنامہ رہتی دنیا تک انھیں امر کر گیا ہے۔ اللہ ان کی مرقد پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔( آمین)
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل