Sunday, June 28, 2026
 

ایران کے شہید سپریم لیڈر خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تفصیلات سامنے آگئیں

 



تہران: ایرانی حکام نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے وسیع پیمانے پر انتظامات شروع کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق نمازِ جنازہ اور سوگ کی تقریبات میں تقریباً دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق سوگ کی مرکزی تقریبات 4 جولائی سے تہران اور مقدس شہر قم میں شروع ہوں گی، جبکہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین 9 جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں کی جائے گی۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی حکومت، پولیس اور پاسدارانِ انقلاب مشترکہ طور پر سیکیورٹی اور انتظامی معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ لاکھوں زائرین اور شرکاء کی آمدورفت کو محفوظ اور منظم بنایا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق عراق کے مقدس شہر کربلا میں بھی ایک تعزیتی تقریب منعقد کرنے کی تجویز زیر غور ہے، تاہم اس کی سرکاری طور پر ابھی تک تصدیق نہیں کی گئی۔ واضح رہے کہ علی خامنہ ای فروری کے آخر میں تہران میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے تھے۔ اس وقت ان کی عمر 86 برس تھی۔ سیکیورٹی خدشات اور اعلیٰ سیاسی قیادت کی ممکنہ شرکت کے باعث ان کی آخری رسومات کئی مرتبہ مؤخر کی جاتی رہیں، جس کے بعد اب ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین کا باضابطہ شیڈول جاری کیا گیا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل