Loading
تہران: ایران کی وزارتِ خارجہ نے ملک کے جنوبی ساحلی علاقوں پر ہونے والے حالیہ امریکی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکا کی تازہ فضائی کارروائیاں ’وحشیانہ حملے‘ ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ان حملوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکا اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور کیے گئے وعدوں کی کوئی قدر نہیں کرتا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق ’وعدہ خلافی اس حکومت کی فطرت کا حصہ ہے‘ اور حالیہ کارروائی اسی رویے کی عکاسی کرتی ہے۔
ایران نے اس موقع پر ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے، جبکہ دونوں ممالک ایک جنگ بندی اور سفارتی مفاہمت کے فریم ورک پر بھی بات چیت کر رہے تھے۔ تازہ امریکی حملوں کے بعد خطے میں امن کی کوششوں کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل