Sunday, June 28, 2026
 

غزہ کے محفوظ زون پر اسرائیلی ڈرون حملہ، 15 سالہ لڑکی اور اس کا بھائی شہید

 



غزہ کے جنوبی شہر خان یونس کے علاقے المواصی میں، جسے جنگ بندی کے تحت محفوظ علاقہ قرار دیا گیا تھا، اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک بہن اور اس کا بھائی شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ طبی ذرائع کے مطابق حملے میں 15 سالہ اسلام موسیٰ اور ان کے 30 سالہ بھائی عبداللہ موسیٰ جان کی بازی ہار گئے۔ دونوں بہن بھائی بے گھر افراد کے لیے قائم عارضی خیموں میں موجود تھے جب اسرائیلی ڈرون نے دو خیموں کو نشانہ بنایا۔ غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق امدادی ٹیموں نے حملے کے مقام سے کم از کم سات زخمیوں کو نکال کر خان یونس کے ناصر اسپتال اور ریڈ کراس اسپتال منتقل کیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ دوسری جانب ناصر اسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ 10 سالہ فلسطینی بچے ولید یوسف ابو جزار بھی چند روز قبل المواصی پر ہونے والے ایک اور اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔ ادھر غزہ شہر کے مغربی علاقے میں بے گھر افراد کے ایک اور خیمے پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 12 افراد زخمی ہوئے۔ فلسطینی ریڈ کریسنٹ کے مطابق زخمیوں میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں جبکہ دو افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ کے مختلف علاقوں، خصوصاً محفوظ قرار دیے گئے علاقوں میں فضائی حملے اور ڈرون کارروائیاں جاری ہیں، جس کے باعث بے گھر فلسطینی شہری مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں میں تقریباً 30 فیصد بچے شامل ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق جبکہ ایک لاکھ 73 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس جنگ بندی کے آغاز کے بعد بھی ایک ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک اور تین ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل