Loading
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان۔چین شراکت داری ملک میں نئے صنعتی انقلاب کی بنیاد بنے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی تعاون میں ایک اہم سنگِ میل موون پک ہوٹل، سینٹورس اسلام آباد میں سیگولز گروپ (پاکستان) اور ہیبئی جوہانگ انرجی ٹیکنالوجی گروپ (چین) کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے معاہدہ پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ایم او یو کے تحت جدید لیتھیم آئن بیٹریوں، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، برقی گاڑیوں کے چارجنگ ڈھانچے اور صاف توانائی سے متعلق جدید ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
تقریب سے خطاب میں ہارون اختر خان نے سیگولز گروپ اور ہیبئی جوہانگ انرجی ٹیکنالوجی گروپ کو اس تاریخی شراکت داری پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی صنعتی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ چین نے منصوبہ بندی، مسلسل محنت اور اعلیٰ معیار کے عزم کے ذریعے برقی گاڑیوں، بیٹری ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، مصنوعی ذہانت اور جدید صنعتی شعبوں میں عالمی قیادت حاصل کی ہے جو ترقی پذیر ممالک کے لیے قابلِ تقلید مثال ہےپاکستان کو چین جیسے قابلِ اعتماد شراکت دار کے ساتھ مستقبل کی صنعتوں کی تعمیر پر فخر ہے۔
انہوں نے کہا ہم سرمایہ کاروں کے لیے رکاوٹیں نہیں بلکہ سہولتیں پیدا کر رہے ہیں، پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی تیاری اور اسمبلنگ کا مجوزہ منصوبہ صرف ایک سرمایہ کاری نہیں بلکہ ایک نئے صنعتی ماحولیاتی نظام کی بنیاد ہےجو چینی ٹیکنالوجی اور مہارت کو پاکستان کی صنعتی صلاحیت، کاروباری استعداد اور جغرافیائی اہمیت کے ساتھ یکجا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہےجس کے باعث قابلِ اعتماد توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے جدید لیتھیم آئن بیٹریوں کی مقامی تیاری سے درآمدات پر انحصار کم ہوگا، صاف توانائی کی رسد مضبوط ہوگی اعلیٰ معیار کے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے مقامی انجینئرنگ صلاحیتوں کو فروغ ملے گا اور معاون صنعتی شعبوں کی ترقی ممکن ہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل