Loading
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور آزاد کشمیر کی صورتحال پر بات چیت کی، دونوں رہنماؤں نے آزاد کشمیر کا معاملہ طاقت کے بجائے مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق حافظ نعیم ان سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ پہنچے، ان کے ساتھ وفد میں نائب امیر میاں محمد اسلم، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان اور سیکریٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی شامل تھے۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ طور پر میڈیا سے بات چیت کی۔
کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے پورا ملک تشویش کا شکار ہے، حافظ نعیم
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے اس نے پورے ملک کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے، کشمیر ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے، ہم نے 80 سال کشمیر کے لیے قربانیاں دیں اور اقوام متحدہ میں بھی معاملہ اٹھایا، اس وقت کشمیر میں خون خرابہ ہوچکا ہے اور دھرنا بھی موجود ہے، اس صورتحال میں مذاکرات کے علاوہ اگر کوئی بات ہوگی تو وہ مسائل بڑھائے گی۔
انہوں ںے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر آئین کی حدود میں رہتے ہیں معاملات حل کیے جائیں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے لانگ مارچ کو روکا تو اس سے امید پیدا ہوئی، ہم نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کہا آئین میں رہتے ہوئے بات ہوسکتی ہے، ہمیں حکومت کی جانب سے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں ںے کہا کہ آزاد کشمیر تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے،ہم حکومت سے کہتے ہیں آگے آئے، حکومت کو کہتے ہیں ہر اس عمل سے بچیں جس سے خون خرابہ ہو، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بھی کہتے ہیں ایسے اقدامات سے گریز کریں جس سے خون خرابے کا خدشہ ہو، کسی فرد پر کسی کو گلہ ہے تو وہ ایک شخص کا گناہ ہے، آج بھارت بہت خوش ہے اور یہ ہماری بدنصیبی ہے جو ہوگیا سو ہوگیا، اب آگے مثبت طرف جانا چاہیے، تمام اسٹیک ہولڈرز سے کہتے ہیں غنیمت سمجھیں ایسے لوگ ابھی بھی موجود ہیں جو امن کو موقع دے سکتے ہیں۔
صرف قوت کی بنیاد پر مسائل کے حل کی طرف نہیں جانا چاہیے، فضل الرحمان
سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان کی گفتگو ہماری سب کی آواز ہے، سب سے پہلے میرے ساتھ مشعال ملک نے رابطہ کیا تھا، ان کی بیٹی نے دس سال کی عمر کے بعد اپنے والد کو نہیں دیکھا،مشعال ملک کہتی ہیں ان کے شوہر بھارتی جیلوں میں ہیں ان کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے، یاسین ملک تک یہ حالات پہنچیں گے تو ان پر کیا گزرے گی؟ حریت کانفرنس نے ہر تحریک پاکستان کے جھنڈے تلے چلائی ہے ہمیں جذبات کی بجائے عقل ودانش سے آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایک وفد خط لے کر آیا تھا اور ثالثی کی پیشکش کی تھی میں نے کہا لانگ مارچ کو موخر کیا جائے جس پر انہوں نے لانگ مارچ موخر کیا اور مزید کوئی قدم نہیں اٹھایا اب ہم ہم دونوں طرف سے جواب کے انتظار میں ہیں۔
انہوں ںے کہا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی ساری قیادت اس صورتحال پر پریشان ہے، حکومت کہتی ہے ان کے مطالبات مانے بھی گئے اور معاہدے بھی کیے پھر حکومت نے ان کو کالعدم بھی قرار دیا ہمیں صرف قوت کی بنیاد پر مسائل کے حل کی طرف نہیں جانا چاہیے۔
سرفراز بگٹی کی بھی فضل الرحمان سے ملاقات
دریں اثنا وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بھی جے یو آئی سربراہ سے ملنے ان کی رہائش گا پہنچے، سیاسی صورتحال اور بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال پر گفتگو کی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل