Loading
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ کراچی کے کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں طبی عملے کی غفلت کی وجہ سے 200 بچوں میں ایڈز ہوا اور 9 بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔
ایم کیوایم پاکستان کی سینئر رہنما کشور زہرا، زاہد منصوری اور سینئر ایڈوکیٹ طارق منصور کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں طبی عملے کی غفلت سے 200 بچوں میں ایڈز ہونا اور 9 بچوں کی ہلاکت ایک المناک حادثہ ہے۔
ایم کیوایم کے مرکزی رہنما زاہد منصوری نے کہا کہ ڈسپوزل سرنج کا دوبارہ استعمال سے بچوں میں ایڈز ہونا صوبائی حکومت کی نااہلی ہے اور اس میں حکومت سندھ کے افسران اور وزیر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرین کو فی الفور علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں اور جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے۔
سینئر ایڈوکیٹ طارق منصور نے کہا کہ سیسی کا 14.5 بلین سالانہ بجٹ ہے اور تقریباً 9.5 بلین روپے صرف میڈیکل سپلائیز اور سہولیات کے لیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 10 لاکھ رجسٹرڈ ورکرز اور ان کے 80 لاکھ فیملی افراد ہیں، اسپتال میں 200 سے زائد بچوں کو ایک ہی سرنج سے انجیکشن سے ٹیکے لگائے گئے جس سے بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹو آیا اور ایڈز میں مبتلا ہوئے اور اس میں 9 بچے جاں بحق ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہائی کورٹ میں کیس لگایا گیا ہے اور انصاف نہ ملنے پر اقوام متحدہ میں بھی درخواست دی گئی ہے، پرچیز کمیٹی اور افسران کے خلاف انکوائری کی جائے اور انہیں سزا دی جائے اور لواحقین کو فوری معاوضہ اور فری علاج کرایا جائے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس کے موقع پر متاثرہ خاندانوں کے افراد بھی موجود تھے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل