Loading
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر میں منجمد 12 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر جلد جاری ہوں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے اعلان کیا ہے کہ قطر سے ابتدائی مرحلے میں منجمد اثاثوں میں سے نصف رقم جلد ایران منتقل کی جائے گی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں انھوں نے مزید کہا کہ منجمد اثاثوں میں سے باقی رقم کی واپسی کے لیے بھی تیز تر کوششیں کی جاری ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پیش رفت امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں سامنے آ رہی ہے جس میں منجمد اثاثوں کی بتدریج بحالی کے ہمارے مطالبے کو تسلیم کیا گیا تھا۔
دوسری جانب امریکی حکام نے ایرانی صدر کے دعوے کی تاحال تصدیق نہیں کی، امریکی حکام نے بتایا قطر میں موجود منجمد ایرانی فنڈز میں سے ابھی تک کوئی رقم ایران کے حوالے نہیں کی گئی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ایران کو فراہم کی گئی کسی بھی ممکنہ مالی سہولت یا اثاثوں کی بحالی کا انحصار مذاکرات میں پیش رفت اور طے شدہ شرائط پر عمل درآمد پر ہوگا۔
امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت قطر میں موجود 12 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثوں میں سے ابتدائی مرحلے میں 6 ارب ڈالر جاری کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے منجمد اثاثوں پر ہمارا کنٹرول ہوگا جس سے امریکا کے کسانوں اور مویشی بانوں سے خوراک اور جانور خرید کر ایران بھیجیں گے تاکہ غذائی قلت کو کم کیا جا سکے۔
جس پر ایران نے شدید ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ منجمد اثاثوں پر ہمارا حق ہے اور یہ کسی اور ملک کے مفاد میں استعمال نہیں کیے جا سکتے ایسا کسی صورت میں ہونے نہیں دیا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل