Thursday, July 02, 2026
 

کراچی میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ ’ہمارے بچے باہرکھیلنے نکلتے ہیں تو پڑوسی اپنے بچوں کودور کردیتے ہیں‘

 



’ریاست کی ذمہ داری صحت، تعلیم اور روزگار ہے مگر یہاں ایسا کچھ نہیں، ہمارے بچے کھیلنے نکلتے ہیں تو پڑوس والے اپنے بچوں کو دور کردیتے ہیں۔‘ یہ الفاظ ہیں کراچی کے علاقے سائٹ ایریا میں واقع ولیکلا اسپتال میں ایچ آئی وی کا شکار ہونے والے بچوں کے والدین کے، جنہوں نے سندھ ہائیکورٹ کے باہر سماعت کے بعد احتجاج میں کہے۔ سندھ ہائیکورٹ میں ایچ آئی وی کیس پھیلنے سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد متاثرین نے احتجاج کیا۔ متاثرین میں وکیل طارق منصور، والدین اور ان کے بچے شامل تھے۔ متاثرین انصاف کی دہائی دے رہے تھے۔ سندھ ہائیکورٹ کے باہر احتجاج کرنے والے متاثرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ ولیکا اسپتال میں بچوں کے علاج و معالجے کے بعد مزید طبیعت خراب ہونے لگی۔ دوسرے اسپتال میں دیکھایا اور ٹیسٹ کروائے تو معلوم چلا کہ بچوں کو ایچ آئی وی ہے۔ مظاہرین کا کبنا تھا کہ یہ تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولت فراہم کرے لیکن یہاں تو ایسا کچھ نہیں۔ والدین نے کہاکہ کہ بچے جب کھیلنے کے لیئے نکلتے ہیں تو پڑوس والے اپنے بچوں کو کھیلنے نہیں دیتے کہتے ہیں کہ ان کو ایچ آئی وی ہے اور وہ اپنے بچوں کو ہمارے بچوں سے دور کردیتے ہیں۔ متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ بچوں کا بہتر علاج کرایا جائے۔ طارق منصور ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ ایک گھناؤنا جرم ہے کہ استعمال شدہ سرنج کو دوبارہ استعال میں لایا جائے، عدالت کو بھی آگاہ کیا ہے۔ تقریبا ہر فورم پر ہم نے آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے سیکریٹری صحت وہ دیگر سے جواب مانگا ہے۔ امید ہے کہ ان معصوم بچوں کو انصاف ملے گا اور بہتر علاج ہوسکے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں کراچی کے علاقے سائٹ ایریا میں واقع ولیکا اسپتال میں انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے 15 بچوں کو ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی تھی۔ اب ایک بار پھر چند روز قبل ایک اور بچے کو ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔ جس کی تصدیق دو روز قبل ٹیسٹ کی رپورٹ کے بعد ہوئیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل