Thursday, July 02, 2026
 

فرانس میں شرحِ پیدائش بڑھانے کیلیے والدین کو اضافی تنخواہ سمیت چھٹی؛ نیا قانون نافذ

 



فرانس نے ملک میں مسلسل کم ہوتی شرحِ پیدائش اور خاندانی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے والدین کو اضافی تنخواہ سمیت چھٹی دینے کا نیا قانون نافذ کر دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کے تحت بچے کی پیدائش یا گود لینے کی صورت میں ماں اور باپ دونوں کو اضافی چھٹیاں اور مالی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔  یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونے والے اس قانون کے تحت ہر والدین کو بچہ پیدا ہونے پر یا گود لینے پر چھٹی کے علاوہ ایک سے دو ماہ کی اضافی رخصت کا انفرادی حق حاصل ہوگا۔ اس دوران پہلے ماہ میں تنخواہ کا 70 فیصد جبکہ دوسرے ماہ میں 60 فیصد ادا کیا جائے گا اور یہ چھٹی ایک ساتھ یا دو الگ الگ ایک ماہ کی مدت میں بھی لی جا سکتی ہے جبکہ دونوں میاں بیوی چاہیں تو بیک وقت یا باری باری بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔  حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نئی سہولت یکم جنوری 2026 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے یا گود لیے جانے والے بچوں کے والدین کے لیے دستیاب ہوگی جس کا مقصد نومولود بچوں کو زندگی کے ابتدائی مہینوں میں والدین کا زیادہ وقت فراہم کرنا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل سے والدین کو خاندان اور ملازمت کے درمیان توازن پیدا کرنے کا موقع ملے گا جب کہ اس طرح خواتین اور مردوں کے درمیان صنفی مساوات کو بھی فروغ ملے گا۔  یاد رہے کہ اس سے قبل فرانس میں پہلی مرتبہ ماں بننے والی خواتین کو تقریباً 16 ہفتے یعنی چار ماہ کی تنخواہ سمیت زچگی کی چھٹی جبکہ والد کو 28 روز کی پدری چھٹی دی جاتی تھی۔ نیا قانون ان موجودہ مراعات میں اضافہ ہے اور ان کی جگہ نہیں لے گا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے 2024 میں ملک میں ریکارڈ کم شرحِ پیدائش اور بانجھ پن کے بڑھتے ہوئے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خاندانی پالیسیوں میں اصلاحات کا اعلان کیا تھا۔ فرانس کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی بار فرانس میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد ملک میں ہونے والی اموات سے کم رہی جسے حکومت نے ایک سنگین آبادیاتی چیلنج قرار دیا ہے۔     

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل