Thursday, July 02, 2026
 

گنج پن کے علاج میں بڑی پیش رفت، کھوئے ہوئے بال دوبارہ اگانے کی امید روشن

 



گنج پن سے متاثرہ افراد کے لیے سائنس دانوں کی تازہ تحقیق امید کی نئی کرن لے کر آئی ہے۔ بالوں کے جھڑنے کے علاج سے متعلق حالیہ سائنسی پیش رفت سے یہ امکان مزید مضبوط ہوا ہے کہ مستقبل میں صرف بالوں کا گرنا روکنے کے بجائے مکمل طور پر ختم ہو جانے والے بال دوبارہ اگانا بھی ممکن ہو سکے گا۔ ماہرین کے مطابق اب تک استعمال ہونے والے علاج، جیسے منوکسڈیل اور ڈی ایچ ٹی (DHT) ہارمون کو کم کرنے والی ادویات، بہت سے مریضوں میں مؤثر ثابت ضرور ہوتی ہیں، لیکن ان کے نتائج ہر فرد میں یکساں نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ علاج بند کرنے کے بعد اکثر افراد میں بال دوبارہ گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان اب ایسے جدید طریقہ علاج پر کام کر رہے ہیں جو بالوں کی جڑوں (فولیکلز) کو اندر سے دوبارہ فعال کریں یا نئے فولیکلز تیار کرنے میں مدد دیں۔ اس سلسلے میں ABS-201 نامی ایک تجرباتی علاج کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اسمارٹ انجیکشن پرولیکٹن ریسیپٹر کو ہدف بنا کر غیر فعال ہو جانے والے بالوں کے فولیکلز کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جانوروں پر ہونے والی آزمائشوں میں اس طریقہ علاج سے گنج پن کے شکار بندروں میں بالوں کی کثافت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ چوہوں میں بھی روایتی علاج کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بال اگے۔ اس وقت اس علاج کی انسانوں پر کلینیکل آزمائش جاری ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس (UCLA) کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ اگر بالوں کے فولیکلز کے اسٹیم سیلز میں لیکٹیٹ کی پیداوار بڑھائی جائے تو انہیں دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔ اسی تحقیق کی بنیاد پر PP405 نامی ایک مقامی دوا تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد فولیکلز کو اندرونی سطح پر متحرک کرکے بالوں کی قدرتی نشوونما بحال کرنا ہے۔ سائنس دانوں نے قدرتی شکر ڈی آکسی رائبوز کو بھی بالوں کی افزائش کے حوالے سے امید افزا قرار دیا ہے۔ جانوروں پر ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مادہ بالوں کی جڑوں کے اردگرد نئی خون کی نالیاں بنانے میں مدد دیتا ہے، جس سے آکسیجن اور غذائی اجزا کی فراہمی بہتر ہوتی ہے اور بالوں کی نشوونما میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اسی دوران جاپان اور امریکا کے سائنس دانوں نے اسٹیم سیلز اور ٹشو انجینئرنگ کی مدد سے لیبارٹری میں نئے بالوں کے فولیکلز تیار کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ مصنوعی فولیکلز قدرتی بالوں کی طرح مکمل نشوونما کے مراحل سے گزرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے شدید گنج پن، جلنے کے واقعات یا جلدی بیماریوں کے باعث مستقل طور پر بال کھو دینے والے افراد کے علاج کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ جدید امیجنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی ایک اور تحقیق میں بالوں کی افزائش کے طریقہ کار سے متعلق بھی اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔ سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ بال صرف جڑ سے اوپر کی طرف دھکیلے نہیں جاتے بلکہ فولیکل کے مخصوص خلیے انہیں منظم انداز میں اوپر کی جانب کھینچتے بھی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں ایسے علاج کی بنیاد بن سکتی ہے جو براہِ راست اسی حیاتیاتی عمل کو ہدف بنائیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ ان میں سے زیادہ تر علاج ابھی تحقیق اور کلینیکل آزمائش کے مراحل میں ہیں، اس لیے عام مریضوں تک پہنچنے میں ابھی چند برس لگ سکتے ہیں، تاہم مصنوعی ذہانت، اسٹیم سیل ریسرچ اور ری جنریٹو میڈیسن میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت نے گنج پن کے دیرپا اور زیادہ مؤثر علاج کی امید کو پہلے سے کہیں زیادہ روشن کر دیا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل