Loading
بھارت نے مشرقِ وسطیٰ سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی بحال ہونے کے بعد گیس کی تقسیم پر عائد ہنگامی پابندیاں ختم کر دی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت میں یہ پابندیاں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث ایل این جی کی ترسیل متاثر ہونے پر مارچ میں نافذ کی گئی تھیں۔
بھارتی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مارچ میں آبنائے ہرمز کے ذریعے ایل این جی کی ترسیل متاثر ہونے کے بعد ہنگامی اقدامات نافذ کیے گئے تھے۔
ان اقدامات کے تحت غیر ترجیحی شعبوں کو فراہم کی جانے والی قدرتی گیس محدود کر کے بجلی گھروں، کھاد بنانے والی صنعت، گھریلو صارفین اور دیگر ضروری شعبوں کی ضروریات پوری کی جا رہی تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ سے ایل این جی کی سپلائی دوبارہ بحال ہونے اور بحری راستوں پر صورتحال میں بہتری کے بعد گیس کی دستیابی معمول پر آ گئی ہے، جس کے باعث ہنگامی پابندیوں کی ضرورت نہیں رہی۔
خیال رہے کہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک درآمدی ایل این جی پر انحصار کرتا ہے جس کا بڑا حصہ قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک سے آبنائے ہرمز کے راستے ملک پہنچتا ہے۔
بھارتی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر مستقبل میں سپلائی چین دوبارہ متاثر ہوئی تو حالات کے مطابق ضروری انتظامی اقدامات کیے جا سکتے ہیں، تاہم فی الحال ملک میں قدرتی گیس کی فراہمی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔
حالیہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران اس اہم بحری گزرگاہ میں رکاوٹوں نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کر دی تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل