Saturday, July 04, 2026
 

غزہ میں 48 گھنٹوں کے دوران مزید 16 فلسطینی شہید؛ ملبے سے 9 لاشیں بھی برآمد

 



امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی اور صدر ٹرمپ سربراہی میں قائم ہونے والے پیس بورڈ کی تشکیل کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں ظلم و جبر کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 16 فلسطینی جان کی بازی ہار گئے جبکہ 9 افراد کی لاشیں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے نکالی گئیں۔ اسرائیل کے ان تازہ حملوں میں شدد زخمی ہونے والے 20 سے زائد فلسطینیوں کو تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا ہے۔ جن میں سے 4 کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ طاہر کیا جا رہا ہے۔ وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں تباہ شدہ علاقوں میں مسلسل ریسکیو آپریشن کر رہی ہیں۔ تاہم بھاری ملبے، ایندھن کی کمی اور محدود مشینری کے باعث کئی مقامات تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی جس کے باعث خدشہ ہے کہ مزید لاشیں ملبے تلے دبی ہو سکتی ہیں۔ غزہ کی سول ڈیفنس سروس کے مطابق امدادی کارکن انتہائی مشکل حالات میں ریسکیو کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بجلی کی طویل بندش، طبی سامان کی قلت اور ایمبولینس سروسز کو درپیش مشکلات نے زخمیوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں حماس کے عسکری ڈھانچے، اسلحہ کے ذخائر اور جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے لیے جاری ہیں۔ حماس شہری علاقوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے جس کے باعث شہری آبادی متاثر ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی اداروں نے غزہ کی بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خوراک، صاف پانی، ادویات اور طبی سہولیات کی شدید قلت برقرار ہے، جبکہ ہزاروں بے گھر خاندان عارضی پناہ گاہوں میں انتہائی دشوار حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ عالمی اداروں نے ایک بار پھر فوری جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر لڑائی اور محاصرہ اسی طرح جاری رہا تو غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل