Saturday, July 04, 2026
 

قوم کا مستقبل خطرے میں ہے

 



شاعر ِ مشرق علامہ اقبال نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے بیشمار نظمیں قلمبند کی ہیں۔ ہمیں اقبال کی شاعری میں بیشتر مقامات پر اُن کی بچوں اور نوجوانوں کے لیے فکرمندی واضح طور پر دیکھائی دیتی ہے۔ ’’بچے کی دعا‘‘ کے عنوان سے اپنی مشہور نظم میں علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ۔  ہو میرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت  جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت نوجوانوں کو پرندوں کے بادشاہ ’’شاہین‘‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے علامہ اقبال لب کشائی کرتے ہیں کہ،  شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گِرتا  پُر دَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرہ اُفتاد دنیا کا کوئی ملک اُس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا ہے جب تک وہ اپنی قوم کے بچوں اور نوجوان نسل کی ذہنی نشوونما کے لیے وسائل پیدا نہیں کرتا ہے۔ جس ملک و قوم کے بچوں اور نوجوانوں کی اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ صحت مندانہ تفریح تک رسائی آسان ہوتی ہے وہ ہی ممالک زمین پر حکمرانی کو اپنا ہدف بناتے ہیں اور خلاء کی دنیا کے رموز سمجھنے کے لیے سیاروں پر قدم رکھ کر ہی دم لیتے ہیں۔ اپنے قیام کے اتنے سال بیت جانے کے بعد بھی پاکستان کا ترقی کی چوٹی سر نہ کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہاں1947سے موجودہ وقت تک قوم کے بچوں اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اُٹھایا گیا ہے۔ اس ملک کے عوامی نمائندے جب کبھی عوام کے پاس ووٹ مانگنے کی غرض سے تشریف لائے ہیں ،انھوں نے بچوں اور نوجوان نسل کو بامِ عروج تک پہنچانے کے بہتیرے خواب دکھلائے ہیں لیکن کرسی حاصل کرتے ہی وہ وعدے پہلے ارادے کا روپ دھارتے ہیں پھر آہستہ آہستہ اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔  پاکستانی بچے اپنے ہوش سنبھالنے سے ہی بین الاقوامی کارٹون اور نظموں کے دلدادہ ہوتے ہیں اور کیوں نہ ہوں جب ہمارے ملک میں اُن کے لیے کوئی معقول ذرائع تفریح و تربیتی مواد ٹیلی ویژن پر موجود نہیں ہے۔ ہمارے یہاں ٹی وی کیبل پر آنے والے تمام کارٹون چینل دوسرے ممالک کے تخلیق کردہ ہیں۔ آج سے کئی سال پہلے 1990 کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) پر ہر صبح و شام بچوں کے پروگرام باقاعدگی سے آیا کرتے تھے۔ جن میں تفریح و تربیت دونوں کا عنصر وافر مقدار میں پایا جاتا تھا پھر نجانے کیا ہوا کہ سرکاری ٹی وی چینل نے ہماری قوم کے مستقبل کی آبیاری کا عمل یکدم معطل کردیا۔ کورونا لاک ڈاؤن میں جب دنیا کا پہیہ جمود کا شکار ہوا تو ہر ادارہ آن لائن حرکت کرنے لگا تھا تب ہی پاکستانی طالبعلموں کو گھر بیٹھے تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے ’’پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک‘‘ کے پلیٹ فارم سے ’’ٹیلی اسکول‘‘ کے نام سے ایک چینل کا آغاز کیا تھا جو کہ بہتری کی جانب ایک خوش آیند قدم تھا۔ جہاں تک بات رہی اس قوم کے بچوں کی صحت مندانہ تفریح کی تو وہ پہلے حکومت کی ترجیحات میں شامل تھا نہ اب اُنھیں اس چیز کا کوئی احساس ہے۔ سال 2000 سے لے کر موجودہ سال تک پاکستان میں مشکل سے کوئی بیس، پچیس متحرک فلمیں (Animated movies) بچوں کے لیے بنائی گئی ہیں، جن میں سے ٹی وی کی زینت محض پانچ یا چھ فلمیں ہی بن پائی ہیں جو کہ کسی بھی لحاظ سے تسلی بخش اعداد نہیں ہیں۔ اس ملک کے بچوں سے نظریں ہٹا کر نوجوان نسل کی تفریحی کے ذرائع کا جائزہ لیں تو عقل ماؤف اور سوچ فکر میں ڈوب جاتی ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل بیشمار صلاحیتوں سے مالا مال ہے مگر افسوس یہاں اُن کی خوبیوں کو بروئے کار لانے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ کوئی بھی بیج تب ہی پھل، پھول دیتا ہے جب اُس کو خیال سے سینچا جائے اگر ہم بیج ہی کیچڑ، گندگی میں لگائیں گے، دھوپ کے بجائے اُسے آلودہ ہوا کے مرہون منت چھوڑ دیں گے اور اُمید رکھیں گے کہ نتیجہ ہمارے حق میں نکلے تو یہ سراسر بیوقوفی ہے۔ اس قوم کے مستقبل کو ڈیجیٹل تفریح کے طور پر گندبلا دیا جارہا ہے۔ چوبیس کروڑ آبادی والے اس ملک میں ایک ٹیلی ویژن چینل بھی سائنسی اور معلوماتی پروگرام کے لیے مختص نہیں کیا گیا ہے۔ جس کا نقصان آج نہیں تو کل اس قوم کو بھگتنا پڑے گا۔ دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے، جو قومیں اپنے بچوں اور نوجوان نسل کو مطابق ِ روشِ زمانہ تفریح مہیا کرنے سے قاصر ہیں وہاں کا نوعمر طبقہ دوسرے ممالک کے تفریحی مواد سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ دور حاضر میں ترقی کی عروج تک پہنچنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان مقابلہ بہت سخت ہے، سب سے آگے نکل جانے کی دوڑ میں کوئی ملک پیچھے نہیں رہنا چاہتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں نے ہم جیسے غریب ممالک کے لیے رفاہی ادارے نہیں کھولے ہوئے ہیں کہ جو سہولیات ہمارے حکمران قوم کے بچوں اور نوجوانوں کو دینے سے قاصر یا معذرت خواں ہیں وہ نیک دلی کے ساتھ اُن کی جگہ ہمیں عنایت فرمائیں گے۔ نفسانفسی کے اس دور میں بِنا مطلب کوئی کسی کی مدد نہیں کرتا ہے۔ اپنی ثقافت و تمدن کا سودا کرکے ’’اُن‘‘ سے تفریح کی خرید مسلسل جاری ہے۔ مستقبل قریب میں اس لین دین سے ہمارے معاشرے میں خطرناک مسائل جنم لے سکتے ہیں جس کے قصوروار صرف اور صرف ہمارے حکمران ہونگے۔ ابھی بھی زیادہ کچھ نہیں بگڑا ہے، وقت رہتے سنجیدہ حکمت عملی سے معاملات سدھارے جاسکتے ہیں اور ہماری قوم کے بچوں اور نوجوانوں کو بند گلی کے بھٹکے مسافر بننے سے روکا جا سکتا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل