Saturday, July 04, 2026
 

دو عملی کا شکار سماج

 



جہاں ہم عالمی اور ملکی سیاسی صورتحال پر تبصرے و تجزیئے کرتے ہیں،ملکی حکومت کی کارگذاری اور کوتاہیوں سے بڑھ کر نا اہلی کے تذکرے کرتے ہیں،وہیں ہم اپنے ملک کی سماجیات اور ملک کے سماجی ڈھانچے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر نجی محافل میں تذکرے تو کرتے ہیں مگر سماجی اخلاقیات کی بیٹھک میں بیٹھنے والے اور سماجی قدروں کے بگڑنے پر شاکی احباب ان سماجی تبصروں اور تجزیوں کو اپنی عملی زندگی کی درستگی کے لیئے استعمال کرنے سے نہ صرف گریز کرتے ہیں بلکہ سماجی بگاڑ پر فکرمند احباب اس سماجی کمزوری کو شخصی طور سے اپنے اندر ختم کرنے کی کوششوں سے پرے رہتے ہیں۔ سماجی رویوں میں عملی دوئی کے نتائج ایک ایسا بھیانک معاشرہ تشکیل کرنے کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں جس سے نسل کی تربیت میںجہاں فقدان پیدا ہوتا ہے وہیں نسل میں زندگی گذارنے کا عملی رویہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے،اور پھر ہم سب ہاتھ ملتے ہوئے نسل کی سرکشی ،بد اخلاقی یا بد عنوانی قرار دے کر اپنے کتھارسس کو فرضی مطمئن کر کے اسے اپنے سماجی فرض سے ادائیگی کا نام دے کر پھر ان تمام سماجی برائیوں یا کوتاہیوں کا شکار ہو جاتے ہیں ،جن پر نجی محفلوں میں بڑے بڑے بھاشن دے چکے ہوتے ہیں۔آج کی نشست میں ان چند معروضات کا جائزہ لیتے ہیں جن کو ہم سماجی بگاڑ کا ذمے دارتو سمجھتے ہیں مگر ہم خود ان سے عملی طور سے کنارہ کش ہونے کے لیے تیار نہیں۔ ہمارے ہاں اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم معمولی طرح کی تفریح و طبع کے طور پر اپنے خاندان اور احباب کے ساتھ ریسٹورنٹ کے کھانے یا اچھی سی چائے پینے کے بہانے چائے خانے اور ریسٹورنٹ کی ان غیر قانونی اور ناجائز قبضے کی جگہوں پر بیٹھنے میں کسی بھی قسم کا نہ عذر کرتے ہیں اور نا اعتراض البتہ ریسٹورینٹ یا چائے خانے کی اس قبضہ کی گھیری ہوئی جگہ پر بیٹھ کر اس جگہ کے ناجائز ہونے پر تبصرے کر رہے ہوتے ہیں جب کہ ہم مجموعی طور سے متعلقہ ریسٹورنٹ یا چائے خانے کی غیر قانونی کارروائی کو صحیح ہونے کی سند دیتے ہوئے حکومتی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہوتے ہیں جب کہ اپنے اخلاقی یا سماجی فرائض کسی بھی سطح پر نہیں کر رہے ہوتے؟سوال ہے کہ کیا غیر قانونی جگہ پر بیٹھنے کے عمل کو ہم رد نہیں کر سکتے؟کیا ہمارا ایک انکار متعلقہ ریسٹورینٹ یا چائے خانوں کے حوصلے پست کرنے کا سبب نہیں بن سکتا؟ مجموعی طور سے ہمارے اس اجتماعی سماجی جرم پر ہمارے صحافی دوست عابد خان کا یہ پر اثرتبصرہ دیکھیے کہ’’جب معاشرے کا ایک پڑھا لکھا ان چائے کے ہوٹلوں پر بیٹھے گا،کھانا کھائے گا،محافل سجائے گا تو ان ہوٹل کے ذمے داران کا حوصلہ بڑھے گا،ان کا نکتہ نظر ہے کہ اخلاقی لحاظ سے ایسے کسی غیرقانونی عمل کا حصہ نہیں بننا چاہیے جو پیدل چلنے یا ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بننے والے مجرمانہ عمل کرتے ہوں۔‘‘   اسی طرح ہم مجموعی طور سے قانون کے ہوتے ہوئے اس پر عمل نہ کرنے کی ایک ایسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہوچکے ہیں جس پر ریاست کی غفلت دراصل خود ایک سوال اور بے حسی کی مجرمانہ کوشش ہے جس کوکسی قیمت پر رعایت نہیں دی جا سکتی،قانون پر عملدرآمد اور بد عنوانی کو ختم کرنے میں ریاستی اداروں یا اہلکاروں کی غفلت دراصل جان بوجھ کر ایک ایسے بدعنوان اور غیر قانونی سماج بنانے کی وہ مجرمانہ کوشش ہے جو لگتا ہے کہ ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت سماج کی اخلاقی قدروں کو روندنے کا فرض ادا کر رہے ہیں تاکہ نچلی سطح تک لاقانونیت اور بد عنوانی کو اتنا پھیلا دیا جائے کہ عام فرد بھی قانون شکن ہونے اور بدعنوان ہونے کی بنا پر ملک کے طاقتوروں کی بدعنوانی کو ایک سماجی ضرورت سمجھ کر نظر انداز کردیں تاکہ سماج میں اعلیٰ صفاتی اخلاقی قدریں کسی بھی سطح پر سماج میں فروغ نہ پا سکیںاور سماج بکھر کر اتنا بے ترتیب اور بے حس ہو جائے کہ نہ عام فرد قانون کی پاسداری کر سکے نہ رشوت اور ناجائز آمدنی کو اخلاقی برائی سمجھا جائے اور جب سماج مکمل طور سے حواس باختہ ہو جائے تو نہ عوام کو ریاستی اداروںکے غبن نظر آئیں اور نہ ہی ریاستی بدعنوانی پر سوال اٹھانے کی عام فرد کوشش کرے۔ یہ کسی بھی سماج میں اخلاقی اور قانونی گراوٹ کا وہ عمل ہے جو ہمارے سماج کا طرہ امتیاز بنتا جا رہا ہے،ایسی بد ترین سماجی صورتحال میں قانون پسند اور سماجی اخلاق کی حرمت پر کام کرنے والے فرد کو پاگل قرار دے کر سماج کا ایک ناکارہ فرد سمجھ کر اس کے اخلاقی اصولوں کا تمسخر اڑایا جائے گا۔ ایسا کیوں لگنے لگا ہے کہ اس سماج سے باقاعدہ منصوبہ سازی کے تحت ریاستی طور پر اصول ضابطے اور سچ کا گلہ گھونٹ کر قانون پسند یا اپنے اخلاقی و سماجی اصولوں کو اپنانے والے فرد کو تنہا کیا جا رہا ہے،سماجی بندھن اور اخلاقیات کی جگہ عدم برداشت ،نا شناسی اور سماجی ربط کے مضبوط رشتوں کو نوجوان نسل واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کی ہیجان خیزی کو بڑوںکے آداب و تہذیب کے رویوں کے مقابل پاگل کی بڑ قرار دے رہی ہے،ہمارے ہاں عمومی طور سے گھر یا خاندان کے بڑوں کو سماجی ذمے داریوں کے ساتھ راہ و رسم برقرار رکھنے کا فاضل پرزہ گردانا جانے لگا ہے جب کہ جدید ترقی کی سوشل میڈیائی نسل سماجی راہ و رسم یا سماجی ہم آہنگی سے محروم کر دی گئی ہے،انفارمیشن ترقی کی دوڑ میں نئی نسل کسی حد تک کتاب سے رشتہ توڑ کر AIاور گوگل کو تاریخی معلومات کا ذریعہ سمجھنے لگی ہے؟  اب تو اس غیر اخلاقی اور لاقانونیت کے سماج میں عزیز رشتہ داروں کی شناخت ایک بے کار کام سمجھ کر نئی نسل نہ خاندانی تقریبات میں خود کو شامل کرنے کی ضرورت محسوس کرتی ہے نا کسی عزیز سے ملنے یا شناخت کرنے کو سماجی ضرورت سمجھتی ہے بلکہ بسا اوقات نسل جدید قریبی عزیز کے جنازے یا اس کے دکھ میں اخلاقی شرکت کو بھی وقت کا ضیاع سمجھنے لگی ہے،اس صورتحال میں ٹریفک قانون کی عملداری کو کیا کہا جائے جہاں زیادہ تر افراد ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑک پر الٹے رستے آنے کو نہ صرف فخر سمجھتے ہیں بلکہ بڑی بڑی گاڑی والے روڈ پر الٹا چلنے کو اپنا حق سمجھ کر درست راستے پر چلنے والے کو آنکھیں دکھا رہے ہوتے ہیں۔  یاد رکھا جائے کہ جب ریاست خود قانون شکنی کی مرتکب ہوگی تو وہ عام فرد میں قانون کی بالادستی اختیار کرنے کا رجحان کیسے پیدا کرے گی؟ پھر قانون کی کتاب میں درج قوانین ریاستی اداروں کا منہ ہی چڑا رہے ہوں گے،جب لاقانونیت پر قوانین کے مطابق انصاف کے اعلیٰ معیار کی بنیاد پر سزا و جزا نہیں دی جائے گی ،تو اس بے ترتیب اور بے ہنگم سماج میں غیر اخلاقی عمل مسلسل ہوگا اور ہو رہا ہے ۔پھر کسی بات یا قانون کو نہیں مانا جائے گا،قابض طاقتور افراد زمینوں پر ناجائز تعمیرات کرتے رہیں گے۔ نہ روڈ رستے بنانے کی کوئی مشترکہ سماجی تحریک ریاست کو اس بات پر کیسے مجبور کر سکے گی کہ وہ ادھورے روڈ رستے،ابلتے گٹر اورسیوریج کے صحت دشمن نظام سے عوام کو نجات دلوائیں؟ یا ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ پیدا کرنے والے ریسٹورنٹ اور چائے خانوں کو اپنی حدود میں رہنے کا پابند کریں؟بھلا یہ خیال عوام میں کیوں جڑ پکڑ رہا ہے کہ جب ریاستی ادارے بد عنوان یا لا قانونیت پسند ہیں تو عوام کو قانون پر چلنے کی یا بدعنوانی سے ریاست کیسے روکے گی۔ ریاستی لا قانونیت،بدعنوانی اور عوام کی جانب سے لاقانونیت وہ خطرناک رجحان ہیں جس نے نہ ریاست مضبوط ہوگی،نہ معاشی ترقی ہوگی اور نہ ہی عوام قانون پسند سماج کی تشکیل کر پائیں گے ،یہی اہم سوال آج کی ریاست کو حل کرنا ہے۔وگرنہ…… سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا  جب لاد چلے گا بنجارہ  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل