Saturday, July 04, 2026
 

ون یونٹ اور اہل سندھ کی جدوجہد …سجاد ظہیر سولنگی

 



 ہمارے معاشرے میں شعوری طور پر بیگانگی کا احساس اس حد تک پیدا کر دیا گیا ہے کہ کسی سیاسی تحریک میں شرکت تو درکنار، سیاست پر بات چیت کو بھی وقت کا زیاں سمجھا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں، تاریخ کی کسی کتاب میں کسی سیاسی تحریک کے بارے میں پڑھنا یا کسی تجربہ کار سیاسی کارکن سے اس کا احوال سننا انتہائی متاثر کرتا ہے۔ پاکستان میں ایسی متعدد تحریکیں موجود ہیں، جن کا احوال تفصیل سے قلمبند کیا گیا ہے۔ان تحریکوں نے معاشرے میں آگاہی پھیلانے کی نئی راہیں ہموار کیں۔ ملک کی 79 سالہ تاریخ میں، یہ تحریکیں نصف صدی سے زائد عرصے علم و ادب کے تحریری کام کا موضوع رہی ہیں اور سیاسی فہم و ادراک کا ہنر سیکھنے کا ذریعہ ثابت ہوئی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ’’ون یونٹ مخالف تحریک‘‘ (Anti-One Unit Movement) ایک ایسی تحریک کے طور پر نمایاں ہے، جس میں قلم کی جدوجہد، فکر و نظر کی آبیاری، مزدوروں کی مشقت، کسانوں کا پسینہ، فکری شعور، سیاسی کارکنوں کی عظیم قربانیاں اور مفکرین کی قیادت شامل تھی۔ ’’ون یونٹ‘‘ کے خلاف اس تحریک کی کامیابی نے اس وقت کے حکمرانوں کو اپنی شکست تسلیم کرنے اور ون یونٹ نظام کے خاتمے کا اعلان کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس تحریک کی کامیابی کو نصف صدی سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ون یونٹ کے خاتمے کا اعلان اسی ماہ یکم جولائی 1970 کو کیا گیا تھا، لیکن باضابطہ طور 1972ء میں ہی یہ منصوبہ مکمل طور پر ختم ہوگیا۔آج بھی بہت سے حالات ویسے ہی محسوس ہوتے ہیں جیسے ون یونٹ کے خاتمے کے وقت تھے۔ اس تناظر میں، اس جدوجہد کے تمام پہلوؤں کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ون یونٹ ایک ایسی اسکیم تھی جسے حکومت ِ پاکستان نے مغربی پاکستان کے تمام صوبوں اور علاقوں کو یکجا کرنے کے لیے شروع کیا تھا۔ اس تجویز کو سب سے پہلے 22 نومبر 1954 کو وزیراعظم محمد علی بوگرہ نے پیش کیا تھا اور اسے 30 ستمبر 1955 کو قومی اسمبلی نے منظور کیا تھا۔اس انتظام کے تحت، پاکستان کے مغربی حصے کے تمام صوبوں کو ضم کر کے ون یونٹ (One Unit) تشکیل دیا گیا، جب کہ دوسرا حصہ مشرقی پاکستان کے طور پر قائم رہا۔ یوں پاکستان صرف دو صوبوں پر مشتمل ریاست میں تبدیل ہو گیا۔ون یونٹ کے تصور کا بنیادی مقصد پاکستان کو ایک ہی انتظامی اکائی میں یکجا کرنا تھا۔ اس کی ایک وجہ ملک کی آبادی، جغرافیہ اور ریاستی امور کو چلانے کے لیے کسی آئین کا موجود نہ ہونا بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے حق میں یہ دلیل دی جاتی تھی کہ انتظامی وحدت قائم کی جائے اور مشرقی و مغربی پاکستان کے درمیان نمائندگی کا توازن پیدا کیا جائے، جب کہ اس وقت مستقل آئین بھی موجود نہیں تھا۔ مغربی حصے کے اس واحد صوبے، جس کا دارالحکومت لاہور تھا،جس میں سندھ، بلوچستان، سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) اور پنجاب شامل تھے،جب کہ مشرقی بنگال کو مشرقی پاکستان کا درجہ دیا گیا اور ڈھاکہ کو اس کا دارالحکومت قرار دیا گیا۔ون یونٹ کے نفاذ کے بعد چھوٹے صوبوںیعنی سندھ، بلوچستان اور سرحدکی جانب سے شدید مخالفت کی گئی، تاہم حکومت کے اندر موجود دھڑے پہلے ہی اس کی حمایت کا عزم کر چکے تھے۔ سندھ میں مزاحمت اس وقت اور بھی شدت اختیار کر گئی جب صوبے کے وزیراعلیٰ عبدالستار پیرزادہ کوون یونٹ کی حمایت سے انکار کرنے پر برطرف کر کے ان کی جگہ ایوب کھوڑو کو تعینات کر دیا گیا،حالانکہ ایوب کھوڑو اسمبلی کے رکن نہیں تھے کیونکہ وہ اس سے قبل ’پروڈا‘ (PRODA) ایکٹ کے تحت نااہل قرار دیے جا چکے تھے۔ سندھ اسمبلی کے 110 ارکان میں سے 74 نے ون یونٹ کے خلاف ووٹ دیا۔ سائیں جی ایم سید کو پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا کیونکہ حکومت جانتی تھی کہ وہ کسی ایسے منصوبے کے حق میں کبھی ووٹ نہیں دیں گے۔ملک کے جمہوریت پسندوں، ترقی پسندوں اور سیاسی طور پر باشعور قوم پرست حلقوں نے اسے مقامی باسیوں کی قومی شناخت اور زبان پر حملہ قرار دیا۔ اس وقت ’’سندھ ہاری کمیٹی‘‘ عوام اور بالخصوص کسانوںکے ساتھ تعمیری بنیادوں پر سرگرمِ عمل تھی اور اس نے ’’ون یونٹ‘‘ کی مخالفت میں پہل کی۔سندھ ہاری کمیٹی نے ترقی پسند تحریک رہنما قاضی فیض محمد کی قیادت میں ون یونٹ کے خلاف پہلا کنونشن بھی منعقد کیا، اس اجتماع میں سیاسی رہنماؤں اور دانشوروں نے شرکت کی۔ بعد ازاں، قومی سطح پر کنونشن بلانے کا لائحہ عمل تیار کیا گیا اور اس سلسلے میں افتتاحی اجلاس حیدر منزل، کراچی میں منعقد ہوا۔ون یونٹ نظام کے تحت صوبوں کی حیثیت ختم کر دی گئی تھی اور یہاں تک کہ’’سندھ‘‘ کا نام لکھنا بھی ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ حیدر بخش جتوئی، سائیں جی ایم سید اور شیخ عبدالمجید سندھی نے ون یونٹ کی مخالفت میں مضامین اور کتابیں تحریر کیں۔ ادبی محاذ پر بھی ادیبوں اور شاعروں نے اس کے خلاف مزاحمت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سندھ کے مختلف شہروں کے دوروں کے دوران، شیخ ایاز نے سائیں جی ایم سید اور حیدر بخش جتوئی کے ہمراہ اپنی شاعری کے ذریعے عوام کو بیدار کیا۔ ون یونٹ کے خلاف جدوجہد کو تیز کرنے کے لیے شاعری، نثر اور صحافت کے ذریعے مزاحمت اور فکری بیداری کے پیغامات عام کیے گئے۔ ادیبوں اور شاعروں نے اپنی تحریروں کے ذریعے مزاحمت اور عوامی شعور کو فروغ دیا۔ ادیبوں کے فکری اور عملی کردار نے طلبہ، کسانوں اور مزدور طبقے کو اس قدر متحرک اور بیدار کیا کہ تاریخ کے نئے ابواب رقم ہونے لگے،ایسا کردار پھر کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ جب عوام ایک مشترکہ فکری اور نظریاتی پلیٹ فارم پر متحد ہوئے تو ون یونٹ کے حامیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اس دور کے ادب نے قوم پرستی، حب الوطنی اور ترقی پسندی کے نئے رجحانات متعارف کروائے۔ اس دور کی تخلیقی کاوشوں نے عوام کو جدوجہد سے جوڑنے کا جو فکری کارنامہ انجام دیا تھا، اس کی کمی آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔ ون یونٹ کے دور میں، سندھ کے بیراجوں سے سیراب ہونے والی زمینوں پر دوسروں کو بسایا گیا۔ مکھی جھیل(سانگھڑ) کے آس پاس کا علاقہ دوسرے صوبے کے لوگوں کے حوالے کر دیا گیا اور عوام دشمن زرعی اصلاحات نافذ کی گئیں۔ان سے مقامی آبادی کے بجائے جاگیرداروں اور غیرمقامی آبادی کو فائدہ پہنچا۔ دیگر لوگوں کو ملازمتیں دی گئیں جس سے مقامی آبادی متاثر ہوئی اور ڈیموگرافی پر اثر پڑا۔ ایک ایسا عمل جس نے بڑے شہروں میں مقامی لوگوں کے تناسب پر منفی اثر ڈالا اور وہ سلسلہ رکنے کے بجائے آج بھی جاری ہے۔معاشی طور پر لوگ ہجرت کرتے ہیں لیکن مقامی آبادیوں کے حقوق کا تحفظ ضرور ہونا چاہیے۔ سندھ کے عوام جن میں مزدور، کسان، فنکار، تخلیق کار، دانشور اور لکھاری شامل تھے،جن کی جدوجہد بالآخر کامیاب ہوئی، یکم جولائی کو، آج سے 54 برس قبل ون یونٹ کا نظام ختم کر دیا گیا،ایک ایسا اقدام جس کا اعلان کرنے پر حکومت خود مجبور ہو گئی تھی۔ ’’ون یونٹ‘‘ تحریک کی کامیابی اس حقیقت کا واضح اعلان ہے کہ جب معاشرے کے باشعور، متحرک اور سیاسی طور پر بیدار طبقات ایک مشترکہ مقصد پر متحد ہو جائیں تو وہ فرسودہ سیاسی نظام کو چیلنج کرتے ہوئے حقیقی جمہوری تبدیلی، عوامی حاکمیت اور مشترکہ مفاد پر مبنی سیاسی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل