Monday, July 06, 2026
 

گل پلازہ کیس؛ تنویر پاستا اور 11 سالہ بچے سمیت دیگر ملزمان کی درخواستِ ضمانت منظور

 



ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے سانحہ گلا پلازہ کیس میں تنویر پاستا اور اور دیگر کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔ جج ساؤتھ اسلم شیخ نے 11 سالہ ملزم حذیفہ کی 10 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی، بقیہ ملزمان فی کس 5 لاکھ روپے زر ضمانت جمع کروائیں گے۔ دوران سماعت، عدالت نے استفسار کیا کہ بچے حذیفہ کی درخواست یہاں کیوں دائر کی ہے؟ وکیل ملزمان نے بتایا کہ چالان ایک ہی کیس کا اسی لیے یہاں دائر کی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اس میں بچے کا کیا کردار ہے؟ وکیل ملزمان نے بتایا کہ 72 لوگوں کی جانیں چلی گئیں اور آدھے صفحے میں کیس نمٹا دیا ہے، پولیس کی جانب سے کسی سول ادارے پر کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس نے انکو رعایت دیتے ہوئے گرفتار نہیں کیا ہے، چارج شیٹ دو دفعہ مسترد ہوئی ہے اور وہی اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے دوبارہ چالان جمع کروایا ہے، کم عمر بچے کی یہ کورٹ نہیں ہے، کم عمر بچے کی الگ عدالت ہے۔ سیشن عدالت نے استفسار کیا کہ باقی ملزمان کا اس کیس میں کیا کردار ہے؟ وکیل ملزمان نے بتایا کہ تنویر پاستا پر بجلی بند کروانے کا الزام ہے، آج کل ہر کسی کی ہاتھ میں موبائل، ٹارچ ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ نعمت اللہ کون ہے؟ وکیل نے بتایا کہ بچے حذیفہ کا والد ہے، انہوں نے لوگوں کی جانیں بچائی ہیں اور ایک عہدیدار بھی شہید ہوا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ 322 کی سیکشن لگائی گئی ہے، دیت کی رقم تو بہت زیادہ بنتی ہے۔ ملزمان کے وکیل نے کہا کہ متاثرین کو ملزم بنایا جا رہا ہے اور جو انتظامیہ ہے اس کو بچایا جا رہا ہے۔ کیس میں نامزد دیگر ملزمان میں نائب صدر گل پلازہ عمار اسماعیل، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان، محمد امین، نعمت اللہ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ ملزمان نے ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ درخواست ضمانت میں موقف اپنایا گیا تھا کہ پولیس نے سرکاری اداروں کی نااہلی چھپانے کے لیے ہمیں ملزم بنا دیا ہے، ہم نے واقعے کے بعد سیکڑوں لوگوں کو باہر نکالا تھا، سرکاری ادارے تاخیر سے پہنچے اور انکے پسا پانی اور دیگر متعلقہ سامان بھی نہیں تھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل