Loading
ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون کی ہدایات پر اور ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن کراچی کی نگرانی میں ایف آئی اے امیگریشن نے عمرہ ویزوں پر سعودی عرب جانے والی تین خواتین کو مشکوک سفری معلومات کی بنیاد پر آف لوڈ کر دیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق خواتین کی شناخت مسکان دختر اللہ دتہ، نسرین ندیم زوجہ محمد ندیم اور سویرا زوجہ محمد کامران کے نام سے ہوئی، تینوں خواتین پاکستانی پاسپورٹس پر عمرہ ویزوں کے ذریعے سعودی عرب روانہ ہو رہی تھیں۔ دوران امیگریشن کلیئرنس خواتین کو مزید جانچ پڑتال اور انٹرویو کے لیے روک لیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات میں مسکان نے انکشاف کیا کہ ماضی میں اس کا شوہر سندھ کے مختلف علاقوں میں اسے مبینہ غیر اخلاقی سرگرمیوں کے لیے گاہک فراہم کرتا تھا۔
مسکان نے مزید بتایا کہ وہ بعد ازاں ڈیفنس کراچی کے ایک اسپا اینڈ مساج سینٹر میں کام کرتی رہی، جہاں اس کی ملاقات دیگر دونوں خواتین سے ہوئی۔
مطابق مسکان نے اعتراف کیا کہ وہ پہلے بھی ڈیفنس کراچی میں جسم فروشی کے الزام میں گرفتار ہو کر ایک ماہ جیل میں رہ چکی ہے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق سویرا کے موبائل فون سے غیر اخلاقی سرگرمیوں سے متعلق ریٹ لسٹ اور واٹس ایپ ریکارڈ برآمد ہوا۔
سویرا نے بتایا کہ وہ گزشتہ دو برس سے اسپا سینٹر کے لیے آن لائن کسٹمر سروس کے ذریعے خواتین کو گاہکوں سے ملوانے کا کام کرتی رہی اور فی کس 2 ہزار روپے کمیشن وصول کرتی تھی۔
نسرین ندیم کے موبائل فون سے سعودی عرب میں موجود ماجد، مرتضیٰ، الطاف، سلمان (انڈین)، عمران، فیصل اور خرم کے ساتھ مشکوک واٹس ایپ چیٹس برآمد ہوئیں۔ واٹس ایپ ریکارڈ میں لڑکیاں بھجوانے، حوالہ/ہنڈی لین دین اور سعودی عرب میں رہائش و ٹرانسپورٹ کے انتظامات سے متعلق گفتگو سامنے آئی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق عمرہ ویزوں کی آڑ میں خواتین کو سعودی عرب بھجوانے اور تجارتی جنسی استحصال کے لیے منظم نیٹ ورک کے شواہد سامنے آئے ہیں، تینوں خواتین کو آف لوڈ کر کے مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل