Sunday, July 12, 2026
 

پنجاب میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مون سون بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

 



پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق راولپنڈی، اٹک، مری، چکوال، جہلم، میانوالی، سرگودھا، خوشاب، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، ساہیوال، اوکاڑہ، پاکپتن، قصور، بہاولنگر، بہاولپور، رحیم یار خان، ملتان، خانیوال، وہاڑی، لودھراں، مظفرگڑھ، کوٹ ادو، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، لیہ اور بھکر میں بارش کا امکان ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر صوبے بھر کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جبکہ صوبائی کنٹرول روم اور تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز بھی 24 گھنٹے فعال ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے ریسکیو 1122، واسا اور دیگر امدادی اداروں کو عملے اور مشینری سمیت مکمل تیار رہنے، نشیبی علاقوں اور چوکنگ پوائنٹس سے بارش کا پانی فوری نکالنے کی ہدایت کی ہے۔ ادارے نے شہریوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کے کھمبوں، لٹکتی تاروں، کچے مکانات اور بوسیدہ عمارتوں سے دور رہیں، جبکہ بچوں کو جمع شدہ بارش کے پانی کے قریب ہرگز نہ جانے دیا جائے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دوسری جانب پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش ریکارڈ کی گئی۔ سب سے زیادہ 51 ملی میٹر بارش نارووال میں ہوئی۔ راولپنڈی کے مختلف علاقوں گوالمنڈی میں 36 ملی میٹر، نیو کٹاریاں 35 ملی میٹر، شمس آباد 23 ملی میٹر، کچہری 21 ملی میٹر اور پیرودھائی میں 19 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح گجرات میں 28 ملی میٹر، سیالکوٹ میں 24 ملی میٹر، مری اور اٹک میں 19، 19 ملی میٹر، چکوال میں 4 ملی میٹر جبکہ لاہور میں 3 اور منڈی بہاؤالدین میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ آسمانی بجلی کی گرج چمک کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل