Loading
وہ لکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ چند نعروں سے انقلاب آجائے گا احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ سندھ میں لوگوںکی تعلیمی، اخلاقی، اقتصادی اور معاشرتی حالت غور طلب ہے۔
یہاں جاگیرداری نظام ہے، پیر پرستی اور غلط مذہبی عقائد کا غلبہ ہے جس نے سندھی عوام کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ قاضی صاحب نے بچپن کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہمارے گھر کے ساتھ ہندوؤں کے گھر بھی تھے۔
محلہ میں سیتا رام بڑے کانگریسی لیڈر تھے جو اسمبلی کے ممبر بھی بنے تھے۔ گھر کے وارث سب مر کھپ گئے۔ اماں ابھی جوان تھیں، ملکیت والی تھیں، پھر میرے چچا زاد ماٹو اور میری ماں کی شادی ہوئی۔ اگرچہ میں کم عمر تھا مگر دل بہت پریشان تھا کہ اب ماں کی ممتا سے محروم ہوجاؤں گا مگر ایسا نہیں ہوا۔
میرے سوتیلے والد اور تین بھائیوں کا انتقال ہوا، یعنی گھر میں تین بیوہ، اور چار یتیم چھوڑے۔ میں بڑا تھا۔ چھوٹے بھائیوں کو باپ کی طرح پالا۔ شاید امی جان نے دکھ بھری لوری دی تھی۔ آج میرے ہم جماعت اے کے بروہی جیسے دوست لکھ پتی ہیں۔ میں ان کے سامنے کنگال ہوں۔
قاضی اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ جب علی گڑھ سے واپس آیا تھا تو پنڈت جواہر لعل نہرو ہالانی اسٹیشن سے ہوتے ہوئے نوشہرو جا رہے تھے۔ گاؤں کے کانگریسی دوستوں نے پنڈت جی سے ملنے کے لیے اسٹیشن پر روک لیا۔
دوسرے کے ساتھ میں نے انھیں ہار پہنایا۔ اس زمانہ میں کراچی میں سبھاش چندر بوس کراچی آئے تھے۔ پولیس اور گاندھی جی کے درمیان رسہ کشی جاری تھی۔ سبھاش کانگریس کے صدر منتخب ہوگئے تھے۔ کراچی کے رام باغ جسے اب آرام باغ کہا جاتا ہے وہاں ایک بڑا جلسہ ہوا۔ ہم بھی شریک تھے۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔
مجھے بھی چوٹیں آئیں۔ قاضی فیض محمد لکھتے ہیں کہ کراچی میں میرا اس زمانے میں خاکسار تحریک سے واسطہ تھا، مسلم لیگ کا بھی نعرہ لگ رہا تھا۔ میں مسلم لیگ کے جلسوں میں جانے لگا۔ پھر شاہانی لاء کالج میں داخلہ لیا۔
مشہور وکیل اے کے بروہی میرے ہم جماعت تھے۔ میرے محسن آئی آئی قاضی وطن لوٹے۔ ان سے پہلے سے کوئی خاص واقفیت نہیں تھی۔ ان کے خاندان کے ہمارے خاندان سے اچھے مراسم تھے۔ آئی آئی قاضی جمعہ کو خطبہ بھی دیتے تھے۔
مصنف بنگال کے قحط کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مجھے ابھی تک وہ معصوم بچی یاد ہے جس کی عمر اندازاً 6 سے 7 برس ہوگی، ہندو ماں باپ کی بیٹی تھی۔ میں نے خود کو یتیموں کے حوالہ کردیا تھا۔
وہ لکھتے ہیں کہ معروف بیوروکریٹ مسعود احمد جب کلکٹر بن کر آئے تو میں ہاری کمیٹی میں پہلے ہی شامل ہوچکا تھا۔ انھوں نے کلکٹر مسعود کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ نواب شاہ میں کلکٹر ہوکر آئے تھے۔
انھیں ہاریوں سے دلی ہمدردی تھی۔ انھوں نے آتے ہی ایک طرح سے ہاری تحریک میں جان ڈال دی تھی، اگر کسی ہاری پر ظلم ہوتا تو زمیندار کو ایسا سبق سکھاتے کہ وہ یاد کرتا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ نواب شاہ میں مسلم لیگ کی کانفرنس میں مولانا حسرت موہانی کو مدعو کیا گیا۔
مولانا حسرت موہانی لاہور میل سے آئے۔ رئیس غلام رسول جتوئی نے موٹریں اسٹیشن پر کھڑی کردیں، اسٹیشن بنگلہ کو خوب سجایا گیا۔ کوئی سو ڈیڑھ سو کارکن انھیں اسٹیشن لینے گئے۔ گاڑی پلیٹ فارم پر رکی تو کوئی فرسٹ کلاس کی طرف بھاگا تو کوئی سیکنڈ کلاس کی طرف مگر مولانا نہ ملے۔
آخر میں ایک آدمی تھرڈ کلاس سے اترا۔ ٹرنک ہاتھ میں لیا، بستر بغل میں دبا کر جھولتا ہوا آرہا تھا۔ میں نے ان ہی سے پوچھا ،اس گاڑی سے مولانا حسرت کو آنا تھا، ان کا کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے۔ ’’بھائی وہ تو میں ہوں۔‘‘ مولانا اسٹیشن بنگلہ پر پہنچ کر ہتھے سے اکھڑنے لگے کہ یہ قالین وغیرہ نکالو، بان والی چارپائی منگوادی۔
زمینداروں نے چیف مسٹرایوب کھوڑو سے شکایت کردی۔ مجھے نور کلکٹر نے کنڈھیارو بلایا اور جیل بھیج دیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ لاہور کا پنجابی دوست کتنا مہربان تھا اور سندھی افسر اور زمینداروں نے میرے ساتھ کیا کیا ہے، یہ میری پہلی گرفتاری تھی۔
یہ گرفتاری کا سلسلہ بھٹو حکومت کے دور تک جاری رہا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ون یونٹ بن گیا تھا۔ شہید سہروردی عوامی لیگ کے صدر تھے۔ محمود الحق عثمانی عوامی لیگ کے سیکریٹری جنرل تھے۔
رسول بخش تالپور عوامی لیگ میں شامل ہوگئے، میں بھی شامل ہوا۔ اب تالپور عوامی لیگ سندھ کے صدر اور میں سیکریٹری جنرل تھا۔ سانگھڑ سے وزیر اعلیٰ کھوڑو نے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا۔ یہ سوچا کہ سندھ دشمن ہے، اس کا معاملہ کیا جائے۔
وہ کہتے ہیں کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے سانگھڑ کے قریب پہنچے تو لال پگڑیوں والے پولیس والے ہر سو چھائے ہوئے تھے۔ تھوڑ اآگے بڑھے تو سمجھ گئے کہ کھوڑو صاحب کا الیکشن ہے۔ پھر کلکٹر آفس پہنچے۔
وہاں افسر مجھے پہچانتے تھے۔ پولیس کا ٹولہ راستہ روکے کھڑا تھا۔ صوبیدار نے کہا کہ ’’کھوڑو صاحب کا حکم ہے کوئی بھی موٹر اندر نہ جانے پائے‘‘ مجبورا موٹروں کو چھوڑنا پڑا۔ پھر مجسٹریٹ کے دفتر سے کہا بھائی نامزدگی فارم چاہیے۔ ہم نامزدگی فارم بھرنے آئے ہیں۔ آج فارم بھرنے کی آخری تاریخ ہے۔
مجسٹریٹ نے کہا ’’ میری جان چھوڑو‘‘ پھر کلکٹر کے دفتر گئے، وہ نہیں ملے اور انتظار کی ہدایت کی گئی۔ قاضی صاحب نے خوبصورت انداز میں اپنی گرفتاری کا احوال بیان کیا اور پیر علی محمد راشدی نے اپنے ہاتھوں کی صفائی دکھائی۔ کھوڑو بلامقابلہ منتخب قرار پائے۔
مصنف نے ہاری کمیٹی کے حالات، حیدر بخش جتوئی کی سیاست، عوامی لیگ سے علیحدگی، نیشنل عوامی پارٹی کی سیاست، قاضی صاحب کے حیدر بخش جتوئی اور کمیونسٹوں سے اختلافات اور سندھی انتخابی فہرستوں کی تحریک ، ون یونٹ کے خاتمہ اور پیپلز پارٹی کے دور میں سندھ میں سندھی زبان کے قانون کے بعد فسادات وغیرہ پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔
جب 1971 میں عوامی لیگ کے صدر شیخ مجیب الرحمن ،یحییٰ خان اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو وغیرہ ڈھاکہ میں مذاکرات کررہے تھے تو قاضی صاحب بھی شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ تھے۔
اس کتاب کا ایک باب انتہائی سنسنی خیز ہے۔ جب قاضی فیض محمد بغیر پاسپورٹ تھر کے راستہ سرحد پار کر کے بھارت پہنچنے میں کامیاب ہوئے تو وہاں سے ڈھاکہ گئے اور چند ہفتے وہاں قیام کیا، وہاں سے لندن چلے گئے۔
ان کی بھارت بنگلہ یاترا ایڈونچر تھی۔ یہ کتاب سیاسی واقعات اور حقائق سے بھرپور ہے۔ اس کالم میں بہت مختصر واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ کے سربراہ ڈاکٹر سید جعفر اس کتاب کی اشاعت پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل