Loading
امریکا ایران مذاکرات کے باوجود کشیدگی میں حالیہ خوفناک اضافے میں ایران کے طرزِعمل پر دنیا حیران ہے۔ ایک طرف برسوں سے جاری معاشی پابندیاں، کمزور ہوتی معیشت، محدود عسکری وسائل اور عالمی سفارتی دباؤ، دوسری طرف امریکی حملوں کے مقابلے میں ترکی بہ ترکی جواب۔ بظاہر یہ حکمت عملی خلاف عقل دکھائی دیتی ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ اسے ’’جارحیت‘‘، ’’جنون‘‘ یا ’’خودکشی کی سیاست‘‘ قرار دے رہے ہیں مگر کیا حقیقت واقعی اتنی سادہ ہے؟
سوال یہ ہے کہ ایران ایسا کیوں کر رہا ہے؟ روایتی مغربی تجزیہ کاروں کا خلاصہ یہ ہے کہ ایران داخلی مشکلات، معاشی دباؤ اور نظریاتی سیاست کے باعث تصادم کو زندہ رکھنا چاہتا ہے۔ اس رائے میں کچھ وزن ضرور ہے لیکن کچھ معتبر تجزیہ کاروں نے تصویر کا دوسرا رخ پیش کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممتاز اسکالر پروفیسر ولی نصر نے فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے حالیہ مضمون میں ایران کی موجودہ حکمت عملی کو ایک بالکل مختلف زاویے سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
ولی نصر کے مطابق ایران کی قیادت کا اصل مسئلہ امریکا پر بے اعتباری ہے۔ ان کے خیال میں جنگ بندی کے بعد طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) نے اگرچہ وقتی طور پر لڑائی روک دی لیکن اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان اعتمادسازی کا عمل شکوک وشبہات کی نذر ہو گیا۔
تہران کو جلد ہی یہ محسوس ہونے لگا کہ واشنگٹن ایک طرف مفاہمت کی بات کر رہا ہے اور دوسری طرف ایسے اقدامات بھی کر رہا ہے جن سے ایران کی مذاکراتی برتری بتدریج ختم ہو جائے۔ ان کے مطابق ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی میں پیشرفت نہ ہونا، لبنان کے حوالے سے ایران کے مطالبات کو نظرانداز کیا گیا، خلیج میں امریکی عسکری موجودگی میں مزید اضافہ اور تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں ایرانی ہدایات سے صرفِ نظر کرنے کی حوصلہ افزائی ان سب واقعات کو ایران نے امریکا کی ایک مربوط حکمت عملی کے طور پر دیکھا۔
ایرانی قیادت کے نزدیک یہ سب اقدامات اس کی اسٹریٹجک پوزیشن کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کی کوششیں تھیں جسے ایران نے چالیس روزہ جنگ میں مہارت سے قائم کیا۔ ایران کا خیال ہے کہ اگر اس نے خاموشی اختیار کی تو مذاکرات کی میز پر معاملہ مزید دشوار ہو جائے گا۔ امریکا پر بے اعتباری کے پس منظر میں ضروری ہے کہ ایران کے پاس مؤثر جوابی دباؤ موجود رہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے معروف مفکر اور نوبیل انعام یافتہ ماہرِ حکمتِ عملی تھامس شیلنگ نے نصف صدی قبل لکھا تھا کہ طاقت کا استعمال ہمیشہ جنگ جیتنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات اس کا مقصد مخالف کو اپنی شرائط پر مذاکرات کرنے پر مجبور کرنا بھی ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک محدود مگر سوچی سمجھی کشیدگی (Calculated Escalation) بذاتِ خود ایک سفارتی ہتھیار بن سکتی ہے۔ شیلنگ کے اس نظریے کو سامنے رکھا جائے تو ایران کی موجودہ حکمت عملی قابلِ فہم دکھائی دیتی ہے۔
شاید اسی لیے بعض مغربی تجزیہ نگار ایران کی موجودہ حکمت عملی کو ’’Escalate to Negotiate‘‘ کا نام دے رہے ہیں یعنی مذاکرات کے دوران سودے بازی کی اپنی طاقت میں اضافہ۔ ایران یہ باور کرائے رکھناچاہتا ہے کہ اگر اس کے سلامتی خدشات، معاشی پابندیوں اور علاقائی کردار کو نظرانداز کیا گیا تو اس کی قیمت صرف ایران نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت ادا کرے گی۔
اس تناظر میں آبنائے ہرمز کی اہمیت غیرمعمولی ہے، یہ عالمی توانائی کی شہ رگ ہے۔ دنیا کی انرجی تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ایران جانتا ہے کہ وہ امریکا کی عسکری برتری کا مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز غیرمحفوظ ہو جائے تو اس کے اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایشیا، یورپ اور عالمی معیشت پر پڑیں گے۔ یوں ایران اپنے جغرافیے کو اپنی سفارتی قوت میں تبدیل کرنے کی کوشش میں ہے۔
اسی نکتے کو متعدد نمایاں مغربی تجزیہ کاروں نے بھی اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی حکمت عملی کا مقصد جنگ کی قیمت میں اضافہ کرنا ہے۔ عسکری اصطلاح میں اسے Asymmetric Strategy کہا جاتا ہے۔ جب کمزور فریق طاقتور دشمن کو میدانِ جنگ میں شکست نہیں دے سکتا تو وہ اس کے لیے جنگ کو سیاسی، معاشی اور سفارتی اعتبار سے اتنا مہنگا بنا دیتا ہے کہ بالآخر مخالف کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنا پڑے۔
تاہم بہت سے مغربی ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ ایران کی یہ حکمت عملی لازماً کامیاب ہوگی۔ ان کے خیال میں ایران اپنی برداشت اور اپنے اسٹریٹجک پوزیشن کا ضرورت سے زیادہ اندازہ لگا رہا ہے۔ اگر تصادم اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو ایران کی معیشت مزید دباؤ میں آ سکتی ہے، پابندیاں سخت ہو سکتی ہیں، عسکری صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے اور داخلی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یوں جس سودے بازی کی طاقت کے حصول کے لیے یہ خطرہ مول لیا جا رہا ہے، وہی طاقت بتدریج کم بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے ایران کی منطق کو سمجھنا اور اس کی کامیابی کی پیش گوئی کرنا، دو الگ الگ باتیں ہیں۔
اس پوری کشمکش میں سب سے زیادہ مشکل صورتحال خلیجی عرب ریاستوں کی ہے۔ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور عمان اس تنازع کے خاموش مگر سب سے زیادہ متاثر ہونیوالے ممالک ہیں۔
ان کی سلامتی امریکی دفاعی نظام سے وابستہ ہے مگر ان کا جغرافیہ ایران کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ وہ امریکا کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے اور ایران کے ساتھ مستقل تصادم بھی ان کے مفاد میں نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی میں گزشتہ چند برسوں کے دوران تصادم کے بجائے توازن، محاذ آرائی کے بجائے رابطہ اور طاقت کی سیاست کے بجائے سفارت کاری اہم عناصر رہے ہیں۔ قطر اور عمان مسلسل رابطوں کا ذریعہ رہے ہیں جب کہ سعودی عرب بھی محتاط سفارت کاری کے ذریعے اس بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے کوشاں رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے ممالک کو بخوبی اندازہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مستقل شکل اختیار کر گئی تو اس کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا معاشی بوجھ انھی کی بندرگاہوں، تیل کی برآمدات، سرمایہ کاری، بحری تجارت، سیاحت اور معاشی ڈھانچے پر پڑے گا۔ اس اعتبار سے خلیجی ممالک اس جنگ کے فریق کم اور جغرافیے کی مجبوری میں بندھے ہوئے زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے مسلسل جنگ بندی، تحمل اور مذاکرات پر زور محض رسمی سفارتی کوشش نہیں بلکہ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل جنگ خطے اور پاکستان کی توانائی، معیشت اور علاقائی استحکام پر بھی براہِ راست اثر ڈالے گی۔
قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور عمان کی طرح پاکستان بھی کشیدگی کم کرانے اور اعتمادسازی کے لیے کوشاں ہیں۔ اگرچہ ان ممالک کے پاس بڑی طاقتوں جیسا عسکری اثرورسوخ نہیں لیکن تاریخ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ کئی مرتبہ جنگیں میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ثالثوں کی خاموش سفارت کاری سے ختم ہوئی ہیں۔
اس تناظر میں دیکھیں تو ایران کے حالیہ اقدامات اس کی دانست میں ’’جنون‘‘ یا ’’خودکشی‘‘ نہیں بلکہ ان کے پیچھے ایک سوچی سمجھی اسٹریٹجک منطق ہے۔ اب یہ وقت ہی طے کرے گا یہ منطق درست ہوتی ہے یا غلط۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل