Monday, July 27, 2026
 

کیا آپ روزانہ سافٹ ڈرنکس پینے کے عادی ہیں؟ صحت کےلیے خطرات بھی جان لیجئے

 



مصنوعی یا کاربونیٹڈ مشروبات، جنہیں عام طور پر سافٹ ڈرنکس یا سوڈا کہا جاتا ہے، آج کل روزمرہ زندگی کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔ تقریبات، دعوتوں اور روزانہ کے کھانوں میں ان کا استعمال اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اکثر لوگ انہیں نقصان دہ سمجھنے کے باوجود باقاعدگی سے پیتے رہتے ہیں۔ تاہم ماہرینِ صحت خبردار کرتے ہیں کہ ان مشروبات کا مسلسل اور زیادہ استعمال جسم پر کئی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سافٹ ڈرنکس میں موجود زیادہ مقدار میں چینی، مصنوعی مٹھاس، کیفین اور مختلف کیمیائی اجزا جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سر درد، تھکن، قبض اور بعض افراد میں بلڈ پریشر بڑھنے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اگرچہ ڈی ہائیڈریشن کی ایک وجہ کم پانی پینا بھی ہے، لیکن شوگر سے بھرپور مشروبات بھی اس مسئلے کو بڑھا سکتے ہیں۔ تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض مصنوعی مشروبات میں استعمال ہونے والے رنگ اور دیگر کیمیائی اجزا طویل مدت میں صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مشروبات کے زیادہ استعمال کو مختلف اقسام کے کینسر، خصوصاً لبلبے، بڑی آنت، اینڈومیٹریئم، تھائرائیڈ اور خون کے سرطان کے بڑھتے ہوئے خطرات سے جوڑا گیا ہے، اگرچہ اس حوالے سے مزید تحقیق بھی جاری ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق سافٹ ڈرنکس میں موجود چینی اور مصنوعی مٹھاس آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کے توازن کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اس تبدیلی کے باعث ہاضمے کے مسائل پیدا ہونے، زیادہ بھوک لگنے اور جسم کے میٹابولزم میں خرابی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جس سے وزن میں اضافہ بھی آسان ہو جاتا ہے۔ دانتوں کی صحت پر بھی ان مشروبات کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان میں موجود تیزابی اجزا دانتوں کی بیرونی حفاظتی تہہ (اینمل) کو نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ زیادہ چینی دانتوں میں کیڑا لگنے اور کیویٹیز بننے کا خطرہ کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ قلبی امراض کے حوالے سے بھی ڈاکٹرز احتیاط کی تلقین کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سافٹ ڈرنکس میں موجود زیادہ چینی اور کیفین بلڈ پریشر پر اثر ڈال سکتی ہے، جبکہ مسلسل استعمال دل کی بیماریوں کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے افراد میں جو پہلے ہی موٹاپے یا ذیابیطس جیسے مسائل کا شکار ہوں۔ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ ایک عام سافٹ ڈرنک کے ٹِن میں 200 سے زائد کیلوریز موجود ہو سکتی ہیں۔ اگر ان مشروبات کو روزانہ کی بنیاد پر استعمال کیا جائے تو اضافی کیلوریز جسم میں چربی کی صورت میں جمع ہونے لگتی ہیں، جس سے موٹاپا بڑھنے کے ساتھ ساتھ ٹائپ ٹو ذیابیطس اور دل کے امراض کا خطرہ بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ صحت کے ماہرین کا مشورہ ہے کہ پیاس بجھانے کے لیے سافٹ ڈرنکس کے بجائے پانی، تازہ پھلوں کے رس، لسی یا دیگر قدرتی مشروبات کو ترجیح دی جائے، جبکہ مصنوعی مشروبات کا استعمال صرف کبھی کبھار اور محدود مقدار میں رکھا جائے تاکہ طویل مدت میں صحت کو لاحق خطرات سے بچا جا سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل