Sunday, August 16, 2026
 

مصر بھی مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے، ترک صدر اردوان کا اعلان

 



ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مصر مستقبل میں مکہ معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ مزید ممالک کی شمولیت کے لیے کھلا ہے اور آنے والے وقت میں اس کے دائرہ کار کو وسعت دی جاسکتی ہے۔ عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رجب طیب اردوان نے تصدیق کی کہ مصر کو مکہ معاہدے میں شامل کرنے کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا مقصد شریک ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی رکن ملک کو بیرونی حملے کی صورت میں مشترکہ ردعمل کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ ترک صدر کے مطابق مکہ معاہدے کے تحت شامل ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اگر کسی رکن ملک پر بیرونی حملہ کیا جاتا ہے تو دیگر شریک ممالک اجتماعی طور پر اس کے دفاع اور جواب دینے کے لیے اقدامات کریں۔ مکہ معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید منظم کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت کا امکان اس دفاعی تعاون کو مستقبل میں وسیع علاقائی شراکت داری میں تبدیل کرسکتا ہے۔ اردوان نے یورپی یونین سے متعلق بھی اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ کی ترجیح یورپی یونین نہیں ہے۔ انہوں نے یورپ کی موجودہ صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپ ناکامی کا سامنا کر رہا ہے۔ ترک صدر نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم سمندری راستے کی طویل عرصے تک بندش کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ اس راستے سے بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔ اس لیے آبنائے ہرمز کی بندش یا طویل رکاوٹ سے عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی تجارت متاثر ہوسکتی ہے۔ اردوان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اس راستے کو کھلا رکھنا خطے اور عالمی معیشت دونوں کے مفاد میں ہے۔ مصر کی ممکنہ شمولیت سے مکہ معاہدے میں شامل ممالک کی تعداد اور دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوسکتا ہے، تاہم مصر کی باقاعدہ شمولیت کے لیے مزید سفارتی اور حکومتی مراحل مکمل ہونا ضروری ہوں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل