Loading
اٹلی کے دارالحکومت روم میں کئی ہفتوں تک بارش نہ ہونے کے باعث دریائے ٹائبر کی سطح میں نمایاں کمی آگئی، جس کے نتیجے میں دریائے ٹائبر میں موجود ایک قدیم پُل کے آثار دوبارہ نمایاں ہوگئے ہیں۔
’نیرو کا پُل‘ کے نام سے مشہور یہ پُل سینٹ پیٹرز باسیلیکا کے قریب دریائے ٹائبر میں واقع ہے۔ تاریخی طور پر یہ پُل روم کے مرکزی علاقے کو دریائے ٹائبر کے مغربی کنارے سے ملاتا تھا۔
اگرچہ پُل کا نام رومی شہنشاہ نیرو سے منسوب ہے، ماہرین آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ پُل نیرو کے دور سے بھی پہلے تعمیر کیا گیا تھا۔ روم کے ثقافتی ورثے کے ادارے سے وابستہ ماہر آثارِ قدیمہ انتونیلا بونینی کے مطابق اس پُل کی تعمیر کا تعلق نیرو کے چچا اور رومی شہنشاہ کیلیگولا سے ہوسکتا ہے اور اس کے 39 عیسوی تک موجود ہونے کے شواہد ملتے ہیں۔
بونینی کے مطابق اس علاقے کا تعلق نیرو سے اس لیے بھی جوڑا جاتا ہے کیونکہ جہاں آج ویٹیکن واقع ہے، وہاں قدیم دور میں نیرو کا سرکس موجود تھا اور اسی علاقے میں سینٹ پیٹر کو قتل کیے جانے کا ذکر تاریخی روایات میں ملتا ہے۔
روم کے سول پروٹیکشن سروس کے واٹر مینجمنٹ مرکز کے کوآرڈینیٹر جیوانی گیگانتی کے مطابق دریائے ٹائبر میں پانی کا بہاؤ 80 مکعب میٹر فی سیکنڈ سے بھی کم ہوگیا ہے، جو جولائی کے تاریخی اوسط کا تقریباً نصف ہے۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کو شدید آبی بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ موسمِ سرما میں خاصی بارش ہوئی تھی لیکن اس کے بعد طویل خشک ادوار نے پانی کے ذخائر اور دریائی بہاؤ کو شدید متاثر کیا۔
قدیم پُل کے آثار کا دوبارہ منظر عام پر آنا جہاں ماہرین آثارِ قدیمہ کے لیے تاریخی اہمیت رکھتا ہے، وہیں دریائے ٹائبر میں پانی کی غیر معمولی کمی روم کو درپیش بڑھتے ہوئے آبی بحران کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل