Loading
قطر نے ایرانی پائلٹس کو حراست میں رکھنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پائلٹس نے رواں سال کے آغاز میں قطری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اور حکام کی جانب سے رابطے کی کوششوں کا جواب نہیں دیا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ تلاش اور امدادی ٹیموں کو ایک ایرانی پائلٹ کی باقیات ملی ہیں۔
قطری حکام کے مطابق باقیات ملنے کے بعد ایران سے رابطہ کیا گیا تاکہ انہیں ایرانی حکام کے حوالے کرنے کے طریقہ کار پر تعاون اور رابطہ کیا جاسکے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ دوحہ نے تہران کو اس معاملے میں کارروائیوں کی تفصیلات کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دی ہے، تاہم ایران کی جانب سے ابھی تک اس دعوت کا جواب نہیں دیا گیا۔
قطر نے واضح کیا ہے کہ ایرانی پائلٹس کو حراست میں رکھنے کا دعویٰ درست نہیں۔ قطری مؤقف کے مطابق معاملہ فضائی حدود کی خلاف ورزی اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعے سے متعلق ہے۔
قطری حکام کے مطابق متعلقہ پائلٹس نے قطر کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد حکام کی جانب سے رابطے کی کوششوں کا جواب نہیں دیا تھا۔ اس کے بعد تلاش اور امدادی کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران ایک پائلٹ کی باقیات ملیں۔
اس واقعے کی مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئی ہیں کہ ایرانی طیارہ یا پائلٹس قطری فضائی حدود میں کس صورتحال میں داخل ہوئے تھے اور یہ واقعہ کب اور کیسے پیش آیا۔
قطر اور ایران کے درمیان خطے میں اہم سفارتی اور سیاسی تعلقات موجود ہیں، تاہم موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران فضائی حدود اور فوجی سرگرمیوں سے متعلق کسی بھی واقعے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔
قطری وزارت خارجہ کی جانب سے ایران کو باقیات کی حوالگی کے لیے رابطہ کرنے اور کارروائیوں کی تفصیلات کا جائزہ لینے کی دعوت دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوحہ اس معاملے کو سفارتی رابطوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے قطری مؤقف اور پائلٹ کی باقیات سے متعلق تازہ بیان پر فوری ردعمل سامنے آنے کی اطلاع نہیں ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل