Loading
لاہور پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے معاملے میں دہشت گرد ریحان بٹ کے اشتہاری ہوتے ہوئے پولیس کے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد بچ نکلنے کا انکشاف ہوا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق راوی روڈ کے علاقے میں پولیس نے کچھ عرصہ قبل ریحان بٹ کو اس کے بہنوئی طارق کے ساتھ دوران چیکنگ پکڑا، چیکنگ کے دوران طارق کے بیگ سے ایک پسٹل برآمد ہوا۔
ملزمان نے بتایا کہ پسٹل ’’گستاخ کو مارنے‘‘ کے لیے رکھا ہے، پولیس نے طارق پر مقدمہ درج کیا جبکہ ریحان کو شناختی کارڈ نہ ہونے اور کم عمر سمجھ کر چھوڑ دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ریحان بٹ کو جب پولیس نے پکڑا تو وہ تھانہ شفیق آباد کے مقدمے کا اشتہاری ملزم تھا۔ پولیس نے دسمبر 2024 میں ریحان بٹ کے خلاف شہید ہونے والے سب انسپکٹر عدیل کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کا مقدمہ درج کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق طارق نامی دہشت گرد بھی ٹارگٹ کلنگ کے دوران ریحان اور فیاض بٹ کے ساتھ موجود تھا، طارق مارے جانے والے ریحان بٹ کا بہنوئی اور آزاد کشمیر کا رہائشی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ریحان بٹ کو پکڑے جانے اور چھوڑنے کے حوالے سے سابق ایس ایچ او راوی روڈ اور دیگر پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
دہشت گرد باپ بیٹے کی مقابلے میں ہلاکت کی تفتیش کا سلسلہ جاری ہے، پولیس کی جوائنٹ ٹیم ٹارگٹ کلر طارق کی گرفتاری کے لیے آزاد کشمیر بھی پہنچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس ٹیم ملزم کی گرفتاری کے لیے باغ شہر پہنچی ہے، پولیس ٹیمیں موٹر وے اور دیگر شاہراہوں کی ٹریکنگ کے ذریعے آزاد کشمیر پہنچی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پولیس ٹیم ٹارگٹ کلر کے محلے داروں اور دیگر قریبی لوگوں سے ٹارگٹ کلر کے حوالے سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ ٹارگٹ کلر طارق وقوعہ کے روز بادامی باغ اور نواں کوٹ دونوں مقامات پر فائرنگ میں ملوث تھا، فائرنگ کے واقعات کے بعد باپ بیٹے سے الگ ہوکر فرار ہوگیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس کی گرفتاری کے لیے متعدد پولیس ٹیمیں مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل