Loading
کراچی پولیس نے افسران کی ذاتی تشہیر اور شخصی تشخص نمایاں کرنے والے تشہیری مواد کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کی جانب سے 24 اگست 2026 کو جاری سرکلر میں تمام پولیس یونٹس اور متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
سرکلر کے مطابق سرکاری تشہیر میں کسی فرد کے بجائے کراچی پولیس کے ادارہ جاتی تشخص، عوامی خدمت اور کارکردگی کو اجاگر کیا جائے گا۔ کسی بھی پولیس افسر کی تصویر یا پورٹریٹ بینرز، بل بورڈز، ہورڈنگز، پوسٹرز، اسٹینڈیز، بیک ڈراپس اور دیگر تشہیری مواد پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔
یہ پابندی پولیس گاڑیوں، پولیس عمارتوں کے باہر اور دیگر عوامی مقامات پر موجود تشہیری مواد کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور دیگر میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی لاگو ہوگی۔ سرکاری تشہیر کا مقصد کسی افسر کی ذاتی تشہیر نہیں ہوگا۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری تشہیر میں پولیس کی مجموعی کارکردگی، عوامی خدمات، اہم اقدامات، کامیابیوں اور عوامی آگاہی کے پیغامات کو نمایاں کیا جائے، تاہم پولیس شہدا کی تصاویر سرکاری یادگاری تقریبات، خراجِ عقیدت، میموریلز اور دیگر مجاز مواقع پر احترام اور وقار کے ساتھ استعمال کی جاسکیں گی۔
تمام متعلقہ افسران کو احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ترجمان کراچی پولیس کے مطابق بنیادی مقصد کسی فرد کو نمایاں کرنا نہیں بلکہ ادارے کی خدمت، کارکردگی اور عوام کے اعتماد کو مضبوط بنانا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل