Wednesday, August 26, 2026
 

پمز اسپتال آتشزدگی: فائر سیفٹی کی سنگین خامیاں بے نقاب، تحقیقاتی کمیٹی قائم

 



 پمز اسپتال کے میٹرنٹی اینڈ چائلڈ ہیلتھ (MCH) مرکز میں علی الصبح لگنے والی آگ نے اسپتال کے حفاظتی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ ذرائع کے مطابق فائر ایمرجنسی کی اطلاع صبح تقریباً 6:45 بجے موصول ہوئی، جس کے بعد فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں صرف سات منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ آگ لگنے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے آگ کو مزید پھیلنے سے روکا اور مکمل طور پر قابو پا لیا، جبکہ کولنگ اور ابتدائی جائزے کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق واقعہ پمز اسپتال کی نرسری میں اس وقت پیش آیا جب مبینہ طور پر ایئرکنڈیشنر کا کمپریسر پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ ہنگامی صورتحال میں اسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات انتہائی ناقص پائے گئے، فائر ہوز میں کپلنگز موجود نہیں تھے جبکہ فائر پوائنٹ پر پانی بھی دستیاب نہیں تھا۔ مزید یہ کہ ہنگامی انخلا کے راستے بھی متاثر پائے گئے اور بعض مقامات پر تالے لگے ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس نے ریسکیو آپریشن کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق واقعے کے وقت انکیوبیشن سینٹر میں موجود عملے کی کمی نے بھی صورتحال کو سنگین بنا دیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق نرسری میں واقعے کے وقت 16 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے ایک بچے کو لیڈی ڈاکٹر نے بچا لیا جبکہ افسوسناک طور پر 15 نومولود جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد ضلعی انتظامیہ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل (ADCG) کی سربراہی میں آٹھ رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی آگ لگنے کی اصل وجوہات، ریسکیو کارروائی کی کارکردگی اور اسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کے تعین اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل