Loading
وزیراعظم شہباز شریف نے پمز اسپتال کی نرسری میں لگنے والی آگ سے 15 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔
وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں کے سربراہان اور حکام کو وزیراعظم ہاؤس طلب کر لیا ہے تاکہ واقعے کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
انہوں نے پمز اسپتال میں معصوم بچوں کی جان جانے کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور لواحقین سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ والدین کے اس ناقابلِ تلافی دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
دریں اثنا انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس میں کیپٹل ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی، ایس پی سٹی، اسسٹنٹ کمشنر آئی نائن، ڈی جی سی ڈی اے کے علاوہ آئیسکو اور پمز کے افسران شامل ہیں۔ کمیٹی 24 گھنٹے میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
علاوہ ازیں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو وزیراعظم نے فوری اسلام آباد پہنچ کر اسپتال کا دورہ کرنے اور صورتحال کا جائزہ لے کر رپورٹ دینے کی ہدایت کی ہے۔ مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ اگر کسی کی لاپروائی ثابت ہوئی تو اسے ہرگز نہیں چھوڑا جائے گا، چاہے اس میں ان کی اپنی ہی غلطی کیوں نہ ہو۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سخت احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم بچوں کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ واقعے کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدِباب ہو سکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل