Wednesday, April 22, 2026
 

امریکی فوج کے میزائل ختم ہونے کے قریب؟ نئی رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

 



امریکا کو ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران میزائلوں کے بڑے پیمانے پر استعمال کے بعد مستقبل میں اسلحہ کی قلت کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین اور پینٹاگون کے جائزوں سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے اہم میزائل ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے۔ اس صورتحال میں اگر آئندہ چند برسوں میں کوئی نئی جنگ چھڑتی ہے تو امریکا کو میزائلوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک حالیہ تجزیے کے مطابق تقریباً 7 ہفتوں کی جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے میزائیلوں کے ذخیرے کا کم از کم 45 فیصد استعمال کیا۔ اس کے علاوہ بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے تھاڈ میزائلوں کا کم از کم نصف حصہ استعمال ہو چکا ہے، جبکہ انٹرسیپٹر میزائلوں کا بھی تقریباً 50 فیصد خرچ ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے رواں سال کے آغاز میں میزائلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے مختلف معاہدے کیے ہیں، تاہم ان ہتھیاروں کی تیاری اور فراہمی میں 3 سے 5 سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ جنگ بندی برقرار نہیں رہتی تو امریکا کے پاس ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے فوری طور پر کافی اسلحہ موجود ہو سکتا ہے، لیکن طویل المدتی سطح پر اس کے ذخائر کمزور ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر چین جیسے بڑے حریف کا مقابلہ کرنے کے لیے موجودہ ذخائر ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی اسلحہ ذخائر کو جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر طاقت کے توازن پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل