Friday, February 13, 2026
 

امریکا؛ خالصتان رہنما کو قتل کرنے کی سازش پر بھارتی شہری نے جرم قبول کرلیا

 



بھارتی شہری نکھل گپتا نے مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں سکھ علیحدگی پسند رہنما کو قتل کرنے کی سازش پر اپنے خلاف عائد تمام الزامات قبول کرلیے۔ امریکی استغاثہ کے مطابق نکھل گپتا پر الزام تھا کہ انھوں نے نیویارک میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی سازش تیار کی تھے۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ سکھ رہنما کے قتل کی ہدایات بھارتی حکومت کے ایک اہم اہلکار کی جانب سے دی گئی تھیں۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق نکھل گپتا پر کرائے کے قاتل کے ذریعے قتل کی کوشش اور سازش کے دو الزامات عائد تھے۔ جس وقت یہ الزام سامنے آیا تھا، مودی سرکار نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا تھا۔ تاہم اب گرفتار بھارتی شہری نے وفاقی عدالت میں پیش ہو کر تینوں الزامات قتل کی سازش تیار کرنا، کرائے کے قاتل سے ساز باز اور منی لانڈرنگ کا اعتراف کرلیا۔ استغاثہ کا اندازہ ہے کہ سنگین جرائم کے اعتراف پر وفاقی قوانین کے تحت بھارتی شہری نکھل گپتا کو تقریباً 40 برس تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ یاد رہے کہ نکھل گپتا کو 2024 میں امریکا کے حوالے کیا گیا تھا تاکہ وہ اس مقدمے کا سامنا کریں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کیس عالمی سطح پر سکھ برادری کے خلاف مبینہ حملوں اور دھمکیوں کے ایک وسیع تر پس منظر سے جڑا ہوا ہے جس پر واشنگٹن میں تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ یہ معاملہ امریکا اور بھارت کے درمیان سفارتی سطح پر بھی حساسیت اختیار کر چکا ہے۔ مزید تفصیلات اور عدالتی کارروائی سے متعلق پیش رفت آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔ خیال رہے کہ قتل کی سازش بروقت پکڑے جانے کے باعث زندہ بچ جانے والے سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نیویارک میں قائم تنظیم سکھس فار جسٹس کے رہنما ہیں۔ وہ  امریکی شہری ہیں اور بھارتی ریاست پنجاب کی آزادی کے حامی سمجھے جاتے ہیں جب کہ طویل عرصے سے خالصتان تحریک سے متعلق سرگرمیوں میں نمایاں کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔ سکھ رہنما قتل سازش کیس کی تفصیلات     بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق نکھل گپتا کو جون 2023 میں چیک جمہوریہ سے گرفتار کرکے امریکا کے حوالے کیا گیا تھا جہاں اس پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ نکھل گپتا ایک بزنس مین ہے جو کئی ممالک میں فضائی سفر کرتا رہتا ہے اور اسے بھارتی انٹیلیجنس آفیسر آکاش یادیو نے سکھ رہنما کو قتل کرنے کا ٹاسک دیا تھا۔ تاجر نکھل گپتا پر بھارت میں دھوکہ دہی سمیت متعدد مقدمات تھے جن سے بری کرانے کی یقین دہانی بھارتی انٹیلی جنس ادارے را سے منسلک آفیسر آکاش یادیو نے کرائی تھی۔ آکاش یادیو نے نکھل یادیو سے کہا تھا وہ بس ایک سکھ رہنما کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل کرے۔ تاہم امریکی انٹیلی جنس کو خبر ہوگئی تھی اور سکھ رہنما محفوظ رہے۔  بلومبرگ کے بقول عدالت دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ نکھل گپتا اور یادو نے نیپال اور پاکستان میں ایک اور ہدف کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی تھی۔ نکھل گپتا اور یادو کا تعلق 2023 میں کینیڈا میں خالصتان کے سرگرم کارکن ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سے بھی ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق گروپت ونت سنگھ اور ہردیپ سنگھ نجر کینیڈا اور امریکا میں خالصتان تحریک کے ساتھی اور نمائندہ چہرے تھے۔ امریکی استغاثہ نے جو شواہد عدالت میں جمع کرائے ہیں ان میں نکھل گپتا اور یادو کے درمیان سیکڑوں واٹس ایپ پیغامات اور ای میلز شامل ہیں۔ بلومبرگ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمان کے ان موبائل پیغامات میں ہدف، ہتھیاروں کی فراہمی اور منصوبہ بندی پر بات چیت ہوئی۔ بلومبرگ کے مطابق بھارت نے بھی اعتراف کیا تھا کہ اس کے ایجنٹ ممکنہ طور پر امریکا میں قتل کی کوشش کی سازش میں ملوث ہو سکتے ہیں اور ایک فرد کو را سے برطرف کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی سرکار کی اس دراندازی اور دہشت گرد کارروائیوں سے پاکستان، نیپال، امریکا اور کینیڈا کے ساتھ بھارت کے تعلقات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل