Loading
ڈسٹرکٹ جیل ملیر سے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم جیل انتظامیہ کو چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور انتہائی اہم مقدمے میں گرفتار ملزم کے فرار کا علم ہوتے ہیں جیل انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں۔
ڈسٹرکٹ جیل ملیر کے ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کو ملیر جیل میں منعقدہ تقریب کے اختتام پر قیدیوں کی گنتی کی گئی تو ایک قیدی کم نکلا جس کی شناخت ملزم سید طاہر نوید عرف پولکا کے نام سے کی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ جوہر آباد پولیس نے فرار ہونے والے ملزم کو چند روز قبل گرفتار کیا تھا اور اس کی نشان دہی پر ابوالحسن اصفہانی روڈ پر قائم چیپل گارڈن اپارٹمنٹ کے فلیٹ سے مغوی ریحان احمد کی لاش پانی کے ڈرم سے برآمد کی تھی جبکہ پولیس نے اس مقدمے میں مغوی ریحان کے دوست فیصل اکرم کو پہلے ہی گرفتار کرلیا تھا۔
جیل ذرائع نے بتایا کہ مغوی مقتول 11 اپریل سے لاپتا تھا جبکہ فرار ہونے والے ملزم پر الزام تھا کہ اس نے ریحان نامی تاجر کو اغوا کے بعد قتل کیا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال ملیر کے علاقے میں زلزلے کے جھٹکوں کے دوران ڈسٹرکٹ جیل ملیر سے خوف زدہ ہو کر بڑی تعداد میں قیدی جیل توڑ کر فرار ہوئے تھے جس پر اعلیٰ حکام نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی انکوائری بھی کرائی تھی جس کے بعد چند افسران کو معطل بھی کیا گیا تھا۔
اعلیٰ حکام کی جانب سے جیل کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کو نصب کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی تھی جس کے بعد جیل انتظامیہ کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا بھی دعویٰ کیا گیا تھا تاہم ڈسٹرکٹ جیل ملیر سے جیل انتظامیہ کو چکمہ دے کر انتہائی اہم ملزم کے فرار ہونے کے واقعے نے جیل انتظامیہ کی جانب سے اپنائے گئے سیکیورٹی اقدامات کی دھجیاں اڑا دیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل