Saturday, May 09, 2026
 

تعلیم، تعلیم کی طرح

 



تعلیم انسان کا ذہن کھولتی ہے، شعور بیدار کرتی ہے، تعلیم کے مدارج انسان کے معیار کو بناتے ہیں، گریجویشن، بی ایس، ایم ایس اور دیگر تعلیمی ڈگریاں حاصل کرکے انسان مختلف میدان زندگی میں ملازمت اختیار کرکے باعمل قدم اٹھاتا ہے، انسانی خدمت کا یہ سب سے اہم جز نگینے کی طرح جس مقام میں یا عہدے میں فٹ ہوتا ہے اسے اس عہدے، مقام پر رہ کر عوام کے لیے مثبت انداز میں کام کرنا ہوتا ہے۔ ان تعلیمی ڈگریوں کی بنیاد پر عہدے ترتیب دیے جاتے ہیں۔ میٹرک میں سائنس پڑھی ہے تو اس لحاظ سے میدان عمل کا انتخاب ہوتا ہے، آرٹس کے میدان میں بھی بہت سی ذمے داریاں پنہاں ہیں ،بظاہر آسان لیکن نہایت پیچیدہ اور مفید مضمون۔ اس طرح آگے کا سفر متعین ہوتا ہے انٹرمیڈیٹ ایک اور مشکل مرحلہ جو انسانی ذہن کو پروفیشنل ایجوکیشن میں قدم رکھنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ انتہائی اہم قدم جس سے گزر کر طبی میدان میں حقیقتاً انسانی خدمت، زندگی کو نئے سرے سے جینے کی آس تھماتے فرشتوں سا روپ دھارتے ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر پیرامیڈیک اسٹاف جن کی ذرا سی لغزش ایک جیتی جاگتی زندگی کو قبر کی نظر کر سکتی ہے۔ لغزش کے علاوہ، نااہلی، کم علمی اور ناتجربہ کاری بہت سے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔ اسی طرح دیگر اہم تعلیمی معیار مختلف میدانوں میں انسانوں کی بھلائی اور فلاح کے لیے کام کرتے ہیں۔ آخر کیوں اپنی پسند کے امتحانی مراکز پر زور دیا جاتا ہے، کیوں پرچے آؤٹ کیے جاتے ہیں، لاکھوں روپوں کے عوض امتحانات میں اعلیٰ گریڈز دلائے جاتے ہیں۔ ایک انتہائی تکلیف دہ بات سامنے آئی ہے جب کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ پر ناراض لوگ احتجاج کرتے ہیں کہ ان کو ان کی پسند کا امتحانی مرکز فراہم کیا جائے۔ سوال ابھرتا ہے آخر کیوں انھیں اس کے لیے بورڈ آفس میں جانا پڑا اور اپنا شکوہ ریکارڈ کرانا پڑا تاکہ ان کو ان کی پسند کے مطابق نتائج میسر ہوں۔ ان کی پسند کے نتائج، ان کی پسند کے نمبرز، گریڈز، تعلیمی اسناد پر بھاری بھاری نمبروں کا بوجھ اور آخر اور سب سے کامیاب مرحلہ جس کی وجہ سے اتنے پاپڑ بیلنے پڑے۔ نوکری کا مرحلہ جو پہلے ہی کوٹے کے منظر نامے کے باعث قدرے آسان ہو چلا ہے۔ پھر بھی امتحانی دشواریوں کو دور کرنے کا اتنا واویلا، ایک بات طے کر لی جائے کہ امتحانات کا سلسلہ ہی منقطع کر دیا جائے۔ بس پڑھیں، حاضری پوری کریں اور اپنے اپنے مطابق تعلیمی درجے عبور کریں اور اپنی استعداد کے مطابق رشوت ستانی، اقربا پروری، عصبیت اور دیگر لوازمات کے عوض نوکریاں حاصل کرتے جائیں کہ آپ کے لیے مشکل ہی کیا ہے۔ یہ سب ایک اچھی رنگین فلم کی مانند چلتا رہے تو سہانا لگتا ہے لیکن فلم جب حقیقت کی دنیا میں اترتی ہے تو پیسے کھلا کر میڈیکل یونیورسٹی میں پڑھ کر کسی نہ کسی طرح ڈاکٹر بننے والا ایک عام سے آپریشن کو کسی کی جان کا سبب بنا سکتا ہے۔ غلط انجکشن یا غلط دوائی بھی معمولی بیماری کو معذوری میں بدل سکتی ہے۔ ایک نکما، نااہل انجینئر ناقص عمارت یا پل بنا کر کئی معصوم انسانی جانوں کو ایک ساتھ خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ کیا آئے دن ہم اخبار و دیگر ذرائع سے اس طرح کی خبریں نہیں سنتے رہتے۔ ہم ایک بناوٹی معاشرے کی بنیاد کو پختہ کر رہے ہیں جس کی بنیاد میں ہماری روایتیں، قدریں، مذہب اور خلوص دفن ہو رہے ہیں۔معروف ناول نگار، ناراض کزنز کا کہنا ہے کہ ’’زندگی کا المیہ موت نہیں بلکہ وہ موت ہے جو جیتے جی ہم اختیار کر لیتے ہیں۔ ناکامی کو دل سے قبول کرنا اور اس کا سامنا نہ کرنے کا مطلب موت ہی ہے۔‘‘اگر ہمارے بچے پڑھنا نہیں چاہتے، کیونکہ انھیں پڑھنے میں دل لگانا پسند نہیں، کتابوں سے دل چسپی نہیں، آج کل علم حاصل کرنا، کتابوں تک ہی محدود نہیں بلکہ برقی تاروں کے مواصلاتی ذرائع تعلیم کے حصول کے لیے نہایت مفید ہیں لیکن ہمارے بچے ڈرامے، فلمیں، گانے، کھیل کود اور نجانے کتنی فالتو ویڈیوز تو شوق سے آنکھیں پھاڑ کر دیکھ سکتے ہیں لیکن تعلیم کے حوالے سے ایک ویڈیو یا کلپ سر سے گزر جاتا ہے۔ وہ دل کڑا کرنا ہی نہیں چاہتے، اس آزمائش سے گزرے بغیر ہی انھیں زندگی کی ساری آسائشیں چاہئیں اور مل بھی جاتی ہیں، پر اس کے نتائج ہمارے چہرے پر پلٹ وار کی طرح ہوتے ہیں بس ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ بے غیرتی کی کھال مگر مچھ سے بھی توانا ہوتی ہے۔ آخر ہم کب تک اپنی ناکامیوں کو قبول نہیں کریںگے، اپنی نسل کو ناکامی سے لڑنا کب سکھائیں گے کہ ان کا وجود اس ایک مقام پر نااہل ثابت ہو کر طے کر لیتا ہے کہ دو نمبر اور جگاڑ لگا کر کام نکالا جا سکتا ہے پر پڑھ لکھ کر صلاحیتوں کو چمکانے میں علت محسوس ہوتی ہے۔ ہماری زمین بہت زرخیز ہے پر ہم اس کی قدر نہیں کرتے۔انتھک محنت اور کارکردگی کی بہ دولت انسان ترقی کرتا ہے اور اس کا پھل نہ صرف ذاتی طور پر ہمیں اور ہمارے خاندان کو ملتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی خدمات انجام دے کر راحت باہم پہنچائی جاتی ہے۔ بات صرف اپنے نفس پر قابو پانے کی ہے لیکن ہم اسے مشکل قرار دے کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ کیا ہماری بڑی بڑی وہ جعلی، بوگس ڈگریاں جنھیں بغیر پڑھے حاصل کرکے لوگوں میں اکڑ کر چلتے ہیں ان کی بدولت پاکستان سے باہر کوئی مقام حاصل کر سکتے ہیں؟ اس لیے کہ بیرونی دنیا نہ صرف کاغذات کی ڈگریاں دیکھتی ہے بلکہ اپنا امتحان بھی پاس کرنا ضروری سمجھتی ہے اور بنا پڑھے یا ادھوری معلومات پر ہم کیا ہی کمال دکھا سکتے ہیں، سوائے نامعقولوں کی فوج جمع کرنے کے۔ آج ہر ایک ادارے میں ہماری ایسی ہی فوج جمع ہو رہی ہے، خدا خیر کرے، لہٰذا بنا امتحانوں کے اس کڑوے گھونٹ کو پی کر بات مک مکا کر دی جائے کہ جب ریوڑیاں اندھے کو ہی بانٹنا ہے تو نگاہ والوں کا کیا کام کہ ان چند فی صد لوگوں سے قوم کیا فائدہ اٹھا سکتی ہے جو واقعی ذہین اور دل لگا کر پڑھ کر کوئی مقام حاصل کرنے پر ہی توجہ دیتے ہیں۔ ایک قصائی جو دکان پر گائے، بھینس، بکری کا گوشت کاٹتا ہے سرجن بھی تو بن سکتا ہے۔ ایک دکان کا حساب کتاب کرنے والا عام سا منشی کسی بڑی کمپنی کا اکاؤنٹینٹ بھی بن سکتا ہے اور ایک ان پڑھ مستری، راج مزدور انجینئر کیوں نہیں بن سکتا۔ بس تجربوں کا تو فرق ہے جو انسانی سوچ پر محیط ہے پتا نہیں ہم کب یہ سمجھیں گے۔ چھوڑیں تعلیم کے دھندوں کو اور مل بانٹ کر سارے مراحل خود ہی طے کر لیتے ہیں۔ طے کر لیں کہ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ ایسا ہی تو ہو رہا ہے کہ اردو کے پروفیسر بننے والے اس محاورے سے نابلد اور تو اور محاورے کے معنی سے بھی نا آشنا۔ سب کچھ تو ہو رہا ہے اور کتنی ابتری دیکھنی رہ گئی ہیں۔ کہ یہ قوم تو اب بھی زندہ ہے۔ ہم ناامید نہیں کہ اس قوم کو اپنی بھرپور توانائیوں کے ساتھ زندہ رہنا ہے۔ ناسوروں کو صاف کرنا ہے اور فعالیت کا عمل شروع کرنا ہے کہ ہمیں لڑکھڑا کر پھر بھی چلنا آتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل