Saturday, May 09, 2026
 

قرآن حکیم کی عارفانہ تفسیر ’’تفسیر تستری‘‘

 



گزشتہ برسوں میں ہمیں کئی اہم شخصیات سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا انھی اعلیٰ حضرات میں قابل احترام ڈاکٹر مسعود احمد سہروردی اشرفی بھی شامل ہیں، ڈاکٹر صاحب سے ملاقات قائد اعظم رائٹرز گلڈ کے روح رواں جناب جلیس سلاسل نے کروائی تھی۔ ڈاکٹر مسعود سہروردی کا مشن تبلیغ دین ہے، آپ گلوبل اسلامک مشن (الک) نیو یارک امریکا کے چیئرمین کی حیثیت سے قرآنی تعلیمات کا پرچار اور انھیں دوسرے مذاہب کے ان لوگوں تک پہنچا رہے ہیں جو قرآن کریم کے معجزات برکات اور علوم سے ناواقف تھے ان لوگوں نے قرآن کو اپنی زبان میں پڑھا، سمجھا اور پھر دین کی طرف راغب ہوئے۔ ان میں سے کئی لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے چونکہ ڈاکٹر صاحب نے قرآن پاک اور اس کی تفاسیر و تراجم بہت سی مختلف زبانوں میں کرانے کا فریضہ انجام دیا ہے۔ آپ کے ادارے سے بے شمار دینی کتب اشاعت کے مرحلے سے گزر چکی ہیں۔ اللہ ڈاکٹر صاحب کی دین سے محبت اور تبلیغ اسلام کے جذبے اور ان کے کام کو قبول فرمائے۔( آمین) ایک بہت ہی خوب صورت کتاب جس کا نام ہے would you like to know something about islam? کیا آپ اسلام کے بارے میں کچھ جاننا پسند کریں گے؟ کتاب کے نام کی کشش مطالعہ کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہ 447 صفحات کا احاطہ کرتی ہے، کتاب کے مصنف ڈاکٹر محمد مسعود لکھتے ہیں ’’یہ کتاب سچائی کے قلم اور محبت کی سیاہی سے لکھی گئی ہے۔‘‘ انھوں نے ان علما کے بارے میں اپنی موقر رائے سے آگاہ کیا ہے کہ ’’ہمارے کچھ نام نہاد صوفیا و علما اور دعوت تبلیغ اسلام کے نام پر قائم کیے گئے دوسرے ادارے اپنے دینی فریضے سے آنکھ چرا کر دنیا کی صورت میں اپنے پیٹوں میں آگ بھر کر کس طرح دنیا میں عزت اور قبر میں سکون سے رہ سکیں گے؟ میدان حشر کی ہولناکیوں کی بات تو چھوڑیے، وہاں انصاف الٰہی ہمارے لیے کیا پیغام لائے گا، سوچ کر وجود کانپ جاتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر صاحب کی تحریر کردہ اس کتاب کا ایک نہیں بلکہ بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ کتاب اس قدر موثر انداز میں لکھی گئی کہ اسے پڑھ کر غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔ بے شک ڈاکٹر صاحب کے لیے یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔میں جس کتاب پر لکھنا چاہتی تھی گویا یہ اس کی تمہید تھی۔ ڈاکٹر صاحب کا اسلامی مشن کے حوالے سے چند سطور میں تعارف تھا۔ اگر تفصیل سے لکھوں تو کئی صفحات درکار ہوں گے۔ کتاب کا نام ’’تفسیر تستری‘‘ اور تالیف شیخ ابومحمد سہل بن عبداللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے۔ اس سے پہلے کہ میں کتاب کا تعارف کراؤں، بہتر یہ ہوگا کہ عرض ناشر کے عنوان سے جو مضمون درج ہے اس میں سے چند سطور کو قلم کی زینت بناؤں تو اس طرح کتاب کے بارے میں قارئین کو بہتر طریقے سے آگاہی ہوگی۔ نیز یہ کہ کتاب گلوبل اسلامک مشن، انک (نیویارک امریکا) سے شائع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر محمود مسعود سہروردی نے اپنے مضمون حق کی روشنی میں مدبرانہ اور مدلل انداز سے خامہ فرسائی کی ہے۔ ’’مشیت الٰہی تو ہر وقت ظاہر ہے، کیونکہ مشیت کے بغیر نہ کوئی پتہ ہلتا ہے اور نہ کوئی قطرہ گرتا ہے، لیکن رضائے الٰہی جاننے اور حاصل کرنے کے لیے پوری کائنات میں سوائے کتاب الٰہی اور پیغمبر کے کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔ (تاثراتِ قلبی) کلام الٰہی کی عظمت شان ہے کہ اس کو دیکھنا، پڑھنا، سمجھنا، اس کے مطابق عمل کرنا، اس کے علم و حکمت کے سمندر میں غوطہ زنی کرنا، اس کی آیات میں تدبر و فکر کرنا، اس کے پیغام کو عام کرنا سب عبادت الٰہی کے زمرے میں آتاہے اور ہر ایک طالب علم کو اپنی کوشش سے زائد بلکہ کئی گنا ثواب حاصل ہوتا ہے یہ کلام الٰہی وحی، کتاب الٰہی، ذکر الٰہی ہمارے لیے صراط مستقیم ہے، یہ قرآن عرفان اور بیان ہے جو مومن کے دل کا سکون، روح کی تسکین اور معرفت الٰہی کا خزانہ ہے یہ ہدایت ہی ہدایت اور دونوں جہانوں میں ہماری کامیابی کی ضمانت ہے اس کا علم حاصل کرنا اور اس پر عمل کرنا ہمارے لیے حتمی کامیابی ہے۔ اس کے ہر ہر لفظ میں بے شمار حکمتیں رکھی گئی ہیں۔ آج بے شمار تفاسیر قرآن امت مسلمہ میں موجود ہیں اور علما حق نے ہر انداز سے تفاسیر لکھی ہیں اور ان میں اضافہ ہوتا چلا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ’’تفسیر تستری‘‘ کا تعارف اس طرح کر ایا ہے کہ ’’یہ مکمل قرآن کریم کی تفسیر تو نہیں البتہ ایک نامور صوفی اور بقول امام عبدالرحمن سلمی علیہ الرحمۃ کے ریاضت نفس، اخلاص اور عیوب افعال کے علوم میں دنیائے تصوف کے مقتدر امام و متکلم تھے آپ شکر و ذکر الٰہی کثرت سے کرتے تھے ہمیشہ خاموش رہتے اور غور و فکر میں لگے رہتے۔ بقول امام ذہبی آپ طریقت میں بہت بلند پایہ تھے اور بقول امام قشیری علیہ الرحمہ کے آپ صوفیا کے اماموں میں سے تھے سورۃ حجر کی چالیسویں آیت کے متعلق فرماتے ہیں: ’’ لوگ سب کے سب مردہ ہیں، سوائے علما کے اور علما سب کے سب سوئے ہوئے ہیں سوائے ان کے جو عامل ہیں اور سارے عامل فریب میں ہیں مگر جو مخلص ہیں وہ بڑے خطرے میں ہیں۔‘‘ قابل احترام باعث عزت و توقیر ارشد علی جیلانی آیات ربانی کے مترجم ہیں جنھوں نے جناب ڈاکٹر مسعود کی خواہش پر اردو میں ترجمہ کیا اور بہت خوب، اعلیٰ اور آسان الفاظ میں کیا، میں انھیں ان کی اس دینی خدمت پر مبارک باد پیش کرتی ہوں۔ مترجم کی اپنی والدہ سے محبت و عقیدت کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے انتساب لکھ کر اس کا اظہار اور لائق فرزند ہونے کا حق ادا کیا ہے۔ میں اپنی اس ادنیٰ سی کاوش کو اپنی والدہ محترمہ مرحومہ حجن زرینہ بانو کے نام منسوب کرتا ہوں جن کی مخلصانہ اور بے پایاں توجہات سے میں نے اعتماد کے ساتھ جینا سیکھا جن کی اخلاقی تربیت نے مجھے معاشرے میں باعزت مقام دیا جن کی دعاؤں، شفقتوں اور حوصلہ افزائی کے بغیر اب تک کا سفر ناممکن تھا۔‘‘ تو خورشیدی و من سیارۂ تو سراپا نورم از نظارہ تو (جیلانی) ’’تفسیر تستری‘‘ وہ قرآن حکیم کی تفسیر ہے جس کے پڑھنے سے آیات کے تراجم اور تفسیرسے آگاہی حاصل ہوگی لیکن شرط یہ ہے کہ مکمل توجہ اور ایمان کی روشنی میں اسے پڑھا اور سمجھا جائے۔ مترجم نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ انسان کی ہدایت و رہنمائی اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی کتاب ہے۔ یہ علم و معرفت کا آفتاب جہاں تاب ہے جس میں زندگی کی حرارت اور ہدایت دونوں یکجا ہے۔ اس کی تعلیم نے انسان کو خودشناس بھی بنایا اور خداشناس بھی۔ اس کے مضامین و موضوعات انسانی زندگی کی فلاح و کامیابی کے ضامن ہیں۔‘‘ بے شک قرآن پاک ضابطہ حیات ہے ایک ایسی روشنی ہے جو تسکین قلب بھی پہنچاتی ہے اور اللہ کا قرب بھی حاصل ہوتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل