Loading
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ کئی دہائیوں سے جاری بداعتمادی، اقتصادی پابندیوں، پراکسی جنگوں، سفارتی تناؤ اور عسکری دھمکیوں کے بعد اگر امریکا اور ایران کسی جامع یا عبوری مفاہمت کے قریب پہنچ رہے ہیں تو یہ محض دو ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے پورے منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیانات، مغربی میڈیا کی رپورٹس، ایرانی قیادت کے اشارے اور مختلف سفارتی ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات اس امر کی غمازی کر رہی ہیں کہ دونوں ممالک کم از کم اس حقیقت کو تسلیم کرچکے ہیں کہ مسلسل تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی میں توسیع، جوہری پروگرام پر مذاکرات، پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور آبنائے ہرمز کی بحالی جیسے موضوعات اب صرف قیاس آرائی نہیں بلکہ عملی سفارت کاری کا حصہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔
یہ پیشرفت اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں خطے نے مسلسل عدم استحکام دیکھا۔ عراق، شام، یمن، لبنان اور غزہ جیسے تنازعات نے پہلے ہی پورے مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ تصادم مزید شدت اختیار کرتا تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہ رہتے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی منڈی، سمندری تجارت اور بین الاقوامی سلامتی بھی شدید بحران کا شکار ہوسکتی تھی۔ دنیا پہلے ہی یوکرین جنگ، معاشی سست روی، توانائی بحران اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی تقسیم کے مسائل سے دوچار ہے۔ اس صورتحال میں ایک اور بڑے عسکری تصادم کا خطرہ عالمی نظام کو مزید غیر مستحکم کرسکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ مذاکراتی عمل کو عالمی سطح پر امید کی کرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ اعتراف کہ دونوں ممالک ممکنہ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، دراصل اس بات کا اشارہ ہے کہ پس پردہ سفارت کاری کافی آگے بڑھ چکی ہے، اگرچہ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ابھی چند اہم نکات پر مذاکرات جاری ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حتمی منظوری نہیں دی، تاہم سفارتی دنیا میں ایسی زبان اکثر مثبت پیشرفت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
امریکا بخوبی جانتا ہے کہ ایران کو مکمل دباؤ کے ذریعے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ممکن نہیں۔ دوسری جانب ایران بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ مسلسل اقتصادی پابندیاں اس کی معیشت، عوامی زندگی اور علاقائی اثرورسوخ پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ اس لیے دونوں ممالک کے لیے مذاکرات ہی وہ راستہ بن چکا ہے جو تصادم کے مقابلے میں زیادہ سودمند دکھائی دیتا ہے۔ ایگزیوس اور گارڈین جیسی مغربی میڈیا رپورٹس میں سامنے آنے والی تفصیلات بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہیں، اگر واقعی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت، جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کے منجمد اثاثوں تک محدود رسائی جیسے نکات زیر غور ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فریقین محض وقتی جنگ بندی نہیں بلکہ اعتماد سازی کے عملی اقدامات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بحالی کی تجویز خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ دنیا کی توانائی سپلائی کا مرکزی راستہ ہے۔ اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تیل قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا کرتی ہے، اگر یہ راستہ مکمل طور پر محفوظ اور معمول کے مطابق بحال ہوجاتا ہے تو اس سے نہ صرف خلیجی ریاستوں بلکہ عالمی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔ یہ پیشرفت اس لیے اہم ہے کیونکہ ایران بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اعتماد سازی یکطرفہ نہیں ہوسکتی، اگر تہران اپنے جوہری پروگرام پر بات کرے گا تو واشنگٹن کو بھی پابندیوں میں نرمی اور اقتصادی سہولتوں کے ذریعے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
تاہم اس تمام پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایران اور امریکا کے درمیان بداعتمادی کی تاریخ بہت طویل ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب سے لے کر آج تک دونوں ممالک کئی مرتبہ مذاکرات کی میز تک پہنچے لیکن ہر بار کوئی نہ کوئی بحران اعتماد کی فضا کو تباہ کر دیتا رہا۔ 2015 کا جوہری معاہدہ اس کی واضح مثال ہے جسے عالمی سفارت کاری کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا، مگر بعدازاں امریکی پالیسی میں تبدیلی اور یکطرفہ انخلا نے ایران کے خدشات کو مزید گہرا کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی تہران کے اندر ایسے حلقے موجود ہیں جو امریکی وعدوں پر مکمل اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایرانی پارلیمانی کمیشن کے رکن فدا حسین مالکی کا یہ بیان کہ ایران کو اصل تشویش ٹرمپ کے وعدے پورے نہ کرنے کی عادت پر ہے، اسی تاریخی پس منظر کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب امریکا میں بھی ایسے سیاسی اور تزویراتی حلقے موجود ہیں جو ایران کے ساتھ کسی بڑے سمجھوتے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اسرائیل اور بعض علاقائی قوتیں بھی ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو اپنے لیے خطرہ تصور کرتی ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر عالمی برادری کو خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی بڑے تنازع کے حل کی امید پیدا ہوتی ہے تو بعض عناصر اپنے سیاسی، نظریاتی یا اسٹرٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں۔ ایسے میں کوئی اشتعال انگیز کارروائی، پراکسی حملہ، خفیہ آپریشن یا میڈیا پروپیگنڈا مذاکراتی فضا کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے تمام ذمے دار ریاستوں کو نہ صرف امن عمل کی حمایت کرنی چاہیے بلکہ ایسے عناصر پر بھی نظر رکھنی چاہیے جو کشیدگی کو ہوا دے سکتے ہیں۔
یہاں پاکستان کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان ماضی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کرتا رہا ہے۔ اسلام آباد کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ خطے کے تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، اسلامی دنیا میں اس کے تعلقات، چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ روابط، اور ایران کے ساتھ ہمسائیگی اسے ایک اہم سفارتی کردار عطا کرتے ہیں، موجودہ امن کوششوں میں پاکستان نے پس پردہ یا علانیہ کسی سطح پر جو بھی مثبت کردار ادا کیا ہے تو وہ قابلِ تحسین ہے۔ پاکستان کی ان امن کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کا براہِ راست اثر اس کی معیشت، توانائی ضروریات، داخلی سلامتی اور علاقائی تجارت پر پڑتا ہے۔
پاکستان کے لیے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ہمیشہ ایک پیچیدہ سفارتی چیلنج رہی ہے۔ ایک طرف پاکستان کے امریکا کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں، دوسری طرف ایران ایک ہمسایہ اسلامی ملک ہے جس کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور سرحدی روابط موجود ہیں۔ پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ آیندہ بھی اسی متوازن اور دانشمندانہ پالیسی کو جاری رکھا جائے۔اس مجوزہ معاہدے کا ایک اہم پہلو عالمی معیشت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی آتی ہے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر محفوظ ہوجاتی ہے تو اس سے عالمی توانائی منڈی میں استحکام پیدا ہوگا۔ اس استحکام کا فائدہ براہِ راست جنوبی ایشیا، افریقہ اور یورپ سمیت متعدد خطوں کو پہنچ سکتا ہے۔
چین کی جانب سے مجوزہ معاہدے کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے قانونی حیثیت دینے کی خواہش بھی عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے توازن کی عکاسی کرتی ہے۔ بیجنگ اب صرف اقتصادی طاقت نہیں رہا بلکہ وہ عالمی سفارت کاری میں بھی زیادہ فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ چین جانتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام اس کے اقتصادی مفادات، توانائی سپلائی اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کے لیے ضروری ہے۔ اسی لیے وہ ایسے کسی بھی معاہدے کو عالمی سطح پر قانونی اور سفارتی تحفظ دینا چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں کسی یکطرفہ اقدام سے اسے نقصان نہ پہنچے۔روس بھی اس پورے منظرنامے کو گہری نظر سے دیکھ رہا ہے۔ ماسکو کے لیے ایران ایک اہم علاقائی شراکت دار ہے، جب کہ امریکا کے ساتھ اس کی عالمی رقابت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں، اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے تو اس کے اثرات روس کی علاقائی حکمت عملی پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
یورپی ممالک بھی اس ممکنہ معاہدے کو مثبت نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ وہ طویل عرصے سے جوہری تنازع کے سفارتی حل کے حامی رہے ہیں۔ یورپ کو خدشہ ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو نہ صرف ایک نیا جنگی بحران جنم لے سکتا ہے بلکہ مہاجرین، توانائی اور سلامتی کے مسائل بھی مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔ دنیا کو اب جنگوں، پابندیوں اور محاصروں سے زیادہ مکالمے، تعاون اور مشترکہ سلامتی کے اصولوں کی ضرورت ہے، اگر ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ سفارتی پیشرفت ایک دیرپا معاہدے کی شکل اختیار کرلیتی ہے تو یہ صرف ایک سیاسی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ یہ اس حقیقت کا ثبوت ہوگی کہ سخت ترین تنازعات بھی تدبر، سفارت کاری اور سیاسی عزم کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مسلسل بحرانوں سے نکال کر استحکام، ترقی اور امن کی جانب لے جاسکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل