Loading
چین خطے کا وہ اہم ملک ہے جس نے آزادی حاصل کرنے کے بعد بڑے یقین، اعتماد، شبانہ روز محنت اور خاموشی کے ساتھ جملہ شعبہ ہائے زندگی میں تسلسل سے ترقی و کامیابی کے مدارج طے کرکے عالمی سطح پر اپنا مقام بنایا اور یہ ثابت کیا کہ چینی قوم اپنے عظیم قائد اور رہنما ماؤزے تنگ کے فکر و فلسفے اور ان کے اصولوں و نظریات پر عمل کرکے چین کو دنیا کا طاقت ور ملک بنانے کے جذبے اور ہنر سے مالا مال ہے۔
چیئرمین ماؤ نے ایک طویل جدوجہد کے بعد یکم اکتوبر 1949 عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا تھا، وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کے چیئرمین تھے۔ انھیں جدید چین کا معمار اور بانی تسلیم کیا جاتا ہے۔ ماؤزے تنگ نے اپنی قوم کو غیر ملکی تسلط سے نجات دلا کر جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کیا اور چین کی ترقی کی بنیاد رکھی اور چینی قوم نے اپنے قائد کے رہنما اصولوں کی پاسداری کرکے آج چین کو دنیا کا ایک عظیم ملک اور ترقی کا رول ماڈل بنا دیا۔ چین کے موجودہ صدر شی جن پنگ کی ولولہ انگیز قیادت میں چین ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے۔
آج پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام کو چین کی بے مثال دوستی پر ہمیشہ سے فخر رہا ہے۔ چین نے پاکستان کی سماجی، معاشی، صنعتی، ٹیکنالوجی، تعلیم و ثقافت غرض ہر شعبے میں عملی اور معاونت کا شان دار کردار ادا کیا ہے۔ علاقائی و عالمی تنازعات سے لے کر خطے کے دیگر مسائل اور امن و امان کے قیام تک چین اور پاکستان کا ایک ہی موقف رہا ہے۔
75 برس پہلے چین اور پاکستان نے اعتماد، خلوص اور باہمی احترام کے جس رشتے کی بنیاد رکھی تھی آج وہ دونوں ملکوں کی بصیرت افروز قیادت، غیر متزلزل یقین اور اعتماد و اعتبار کی بدولت ہمالیائی بلندی کو چھوتی نظر آ رہی ہے، چین خطے میں پاکستان کا سب سے زیادہ قابل اعتماد دوست ہے۔ دونوں ملکوں کے سربراہان ایک دوسرے کے ہاں وقفوں وقفوں سے دورے پر آتے جاتے رہتے ہیں جس سے دوستی اور تعاون اور باہمی احترام کے رشتے مزید مستحکم اور مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔
اس حوالے سے پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے گزشتہ دنوں عوامی جمہوریہ چین کا سرکاری دورہ کیا اور چین کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں جس سے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون اور اشتراک عمل کے حوالے سے نتیجہ خیز مذاکرات کیے گئے۔ وزیر اعظم نے چینی صدر شی جن پنگ کی دور اندیش قیادت کی تعریف کرتے ہوئے چین کے لیے ان کی خدمات اور پاکستان سے خوشگوار تعلقات کے فروغ اور دو طرفہ مستحکم سفارتی تعلقات اور پاک چین دوستی کو مستحکم کرنے میں ان کے کردار کو سراہا۔ وزیر اعظم نے چینی ہم منصب لی جیانگ سے بھی ملاقات کی اور پاک چین تعلقات اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ملاقاتوں میں سیاسی، معاشی، تزویراتی شعبوں میں دو طرفہ تعاون کا جائزہ لینے کے پہلو بہ پہلو سی پیک فیز ٹو کو آگے بڑھانے، تجارت، سرمایہ کاری، زرعی، جدید کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کو مربوط و مضبوط بنانے کے حوالے سے بھی مفید گفتگو کی گئی۔
وزیر اعظم کے دورہ چین کے دوران مختلف ایم او یوز پر بھی دستخط کیے گئے جن سے پاکستان اور چین کے درمیان صوبائی سطح پر بھی دو طرفہ تعاون کو فروغ حاصل ہوگا جیساکہ وزیر اعظم نے چین کے صوبے ژجیانگ کی شان دار ترقی کو سراہتے ہوئے صدر شی جن کے وژن کی تعریف کی۔ اس حوالے سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے جو پاکستان کے صوبے پنجاب اور چینی صوبے ژجیانگ کے درمیان سسٹر پراونس یعنی ’’بہن صوبہ‘‘ یا ’’ہم پلہ صوبہ‘‘ تعلقات کے قیام سے متعلق تھی جس کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، ثقافت، سیاحت اور عوامی رابطہ کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
آزادی کے بعد پاکستان پہلا اسلامی ملک تھا جس نے چین کو تسلیم کیا اور دو طرفہ دوستی کی ایسی بنیاد پڑی جو وقت گزرنے کے ساتھ مستحکم ہوتی گئی۔ آج پاکستان کے علاقائی و عالمی معاملات پر چین حمایت کرتا ہے جیساکہ کشمیر کا تنازعہ چین نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کی حمایت کی۔ اسی طرح پاکستان چین کے ون چائنا پالیسی کی مکمل طور پر حمایت کرتا ہے۔ امریکا ایران جنگ کے حوالے سے پاکستان ثالثی کا جو کردار ادا کر رہا ہے چین اس کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
تائیوان کے مسئلے پر پاکستان چین کے موقف کا مکمل طرف دار ہے۔ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے حوالے سے پاکستان اور چین میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اسی حوالے سے صدر زرداری نے بھی گزشتہ دنوں چین کا دورہ کیا تھا، چین کی ترقی اور کامیابی ہمارے لیے ایک مثال ہے۔ چینی قوم نے تو اپنے عظیم قائد ماؤزے تنگ کے اصولوں اور نظریات پر عمل پیرا ہو کر اپنے ملک کو دنیا کی سپرپاور بنا دیا ہے۔ پاکستانی قوم اور حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنے رہنما قائد اعظم کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر اپنے ملک کو آج تک عظیم ملک کیوں نہ بنا سکے؟
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل