Friday, May 29, 2026
 

اداس بلوچستان

 



بلوچستان میں تعلیمی معیار بنیادی ڈھانچے کی کمی، وسیع جغرافیائی رقبے، غربت اور انتظامی چیلنجز کے باعث پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت انتہائی پسماندگی کا شکار ہے۔ اگرچہ حکومتی سطح پر خواندگی کی شرح میں اضافے اور تعلیمی اصلاحات کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ متعدد تعلیمی جائزوں اور سروے رپورٹس کے مطابق بلوچستان میں نہ صرف تعلیمی سہولیات ناکافی ہیں بلکہ معیار تعلیم بھی شدید زوال کا شکار ہے۔ لاکھوں بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں اور سیکڑوں اسکول عملاً غیر فعال ہیں اور دور دراز علاقوں میں تعلیم اب بھی ایک خواب دکھائی دیتی ہے، مگر ان تمام مسائل کے باوجود اگر کچھ لوگ امید کا چراغ جلائے ہوئے تھے تو وہ استاد، ادیب، محقق اور دانشور تھے۔ افسوس کہ اب یہی لوگ بھی خوف، تشدد اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ بلوچستان میں اساتذہ، ادیبوں اور علمی شخصیات کے قتل اور اغوا کے واقعات نے پہلے سے زبوں حال تعلیمی ماحول کو مزید تاریکی میں دھکیل دیا ہے۔ مئی کے دوسرے ہفتے میں اس خوفناک صورتحال کی ایک اور مثال اس وقت سامنے آئی جب یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر سید منظور احمد، لیکچرار شکیل احمد اور ان کے ڈرائیور کے مبینہ اغوا کی اطلاعات سامنے آئیں۔ (وائس چانسلر اور ان کے ساتھی اب بازیاب ہوگئے ہیں۔) اطلاعات کے مطابق مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں نامعلوم مسلح افراد ناکہ بندی کرکے انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔ اس واقعے نے پورے بلوچستان کے تعلیمی حلقوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کردیا۔ جامعات کسی بھی معاشرے میں تحقیق، شعور اور مکالمے کی علامت ہوتی ہیں، اگر یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور تعلیمی شخصیات بھی غیر محفوظ ہوجائیں تو یہ صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے فکری مستقبل پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ گوادر، لسبیلہ، سبی اور دیگر جامعات میں اساتذہ، طلبہ اور افسران کی جانب سے احتجاجی مظاہرے اس بات کی علامت تھے کہ بلوچستان کا تعلیمی طبقہ شدید خوف اور بے چینی کا شکار ہے۔ بلوچستان میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہر طبقہ عدم تحفظ کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ طالب علم، استاد، صحافی، سیاسی کارکن، وکیل، ڈاکٹر، ماہی گیر، کسان حتیٰ کہ عام دیہاتی بھی مسلسل خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں تعلیم اور تحقیق جیسی سرگرمیاں شدید متاثر ہوتی ہیں، کیونکہ علم صرف کتابوں سے نہیں بلکہ ایک محفوظ اور آزاد فضا میں پروان چڑھتا ہے۔اسی خوف اور تاریکی کی ایک اور دردناک مثال مئی کے تیسرے ہفتے میں سامنے آئی جب نوشکی کے علاقے کلی مینگل ایریا میں پروفیسر غمخوار حیات کو نامعلوم مسلح افراد نے قتل کردیا۔ ان کا قتل بلوچستان کی ادبی، فکری اور تہذیبی روایت پر ایک گہرا حملہ تھا۔ وہ بندوق بردار نہیں تھے، کسی جنگی محاذ پر موجود نہیں تھے، بلکہ ایک استاد، شاعر، محقق اور زبان کے سپاہی تھے، مگر شاید بلوچستان میں اب لفظ بھی خطرہ سمجھے جانے لگے ہیں اور کتاب سے جڑا ہوا انسان بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔پروفیسر غمخوار حیات، جن کا اصل نام محمد خان تھا، ضلع نوشکی سے تعلق رکھتے تھے اور معروف سماجی کارکن عبدالمجید ساسولی کے صاحبزادے تھے۔ انھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 2014 میں براہوی زبان کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ بعدازاں وہ ڈگری کالج نوشکی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ مگر ان کی اصل شناخت صرف ایک استاد کی نہیں تھی، بلکہ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جو بلوچستان میں زبان، ادب اور قومی شعور کے رشتے کو گہرائی سے سمجھتے تھے۔غمخوار حیات نے کئی کتابیں تصنیف کیں اور شاعری، تحقیق، تنقید اور ثقافتی موضوعات پر لکھا، وہ نئی نسل کو اپنی زبان، تاریخ اور تہذیب سے جوڑنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے۔ ان کی نظر میں براہوی زبان صرف ایک بولی نہیں تھی بلکہ ایک تاریخی شناخت اور اجتماعی یادداشت تھی۔ انھوں نے براہوی ادب کو صرف علاقائی ادب کے دائرے سے نکال کر ایک فکری تحریک بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔راسکوہ ادبی دیوان اور اوتان کلچر اکیڈمی جیسے پلیٹ فارمز کا قیام ان کی اسی فکری جدوجہد کا حصہ تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ادب صرف ذاتی اظہار نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی تعمیر کا ذریعہ بھی ہے۔ بلوچستان جیسے خطے میں، جہاں دہائیوں سے محرومی، سیاسی کشمکش اور خوف موجود ہو، وہاں ادب ایک سماجی ضرورت بن جاتا ہے۔ان کی زندگی کا آخری اور شاید سب سے اہم مشن براہوی زبان کو گوگل کی زبانوں میں شامل کروانا تھا۔ یہ صرف ایک تکنیکی منصوبہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی خواب تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ براہوی زبان جدید ڈیجیٹل دنیا میں اپنی جگہ حاصل کرے تاکہ آنے والی نسلیں اپنی زبان کو عالمی سطح پر پہچان سکیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ہزاروں الفاظ پر مشتمل مواد تیار کیا تھا، مگر ان کے قتل کے بعد یہ خواب ادھورا دکھائی دیتا ہے۔انھوں نے 2020 میں یونیورسٹی آف بلوچستان سے ایم فل مکمل کیا۔ ان کے تحقیقی مقالے کا عنوان ’’براہوی مزاحمتی شاعری کا تحقیقی جائزہ (1839 تا 2018)‘‘ تھا۔ یہ موضوع اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ ادب کو محض جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ تاریخ، مزاحمت اور اجتماعی شعور کا آئینہ سمجھتے تھے۔ وہ میر گل خان نصیر اور نادر قمبرانی جیسے ادبی و فکری شخصیات سے متاثر تھے جنہوں نے بلوچستان میں ادب کو سیاسی اور قومی شعور سے جوڑا۔  بلوچستان کے سیاسی اور معاشی امور کے ماہر عزیز سنگھور کے مطابق بلوچستان میں استادوں، دانشوروں اور ادیبوں کا قتل کوئی نیا واقعہ نہیں۔ ماضی میں کئی اساتذہ کو اسی طرح قتل کیا گیا مگر پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں ان اساتذہ کے قتل کے ذمے دار افراد کو گرفتار نہیں کرسکیں۔ان سب کی مشترکہ شناخت یہی تھی کہ وہ تعلیم، سوال اور شعور پر یقین رکھتے تھے۔ غمخوار حیات کے قتل کے بعد بلوچستان صرف ایک استاد سے محروم نہیں ہوا بلکہ براہوی زبان ایک ایسے سپاہی سے محروم ہوگئی جو خاموشی سے اپنی تہذیب اور زبان کے لیے لڑ رہا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی معاشرہ اپنے استادوں، ادیبوں اور محققوں کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے؟ جب کسی خطے میں کتاب لکھنے والے قتل ہونے لگیں، جب زبانوں کے محافظ خاموش کردیے جائیں اور جب استاد خوف میں جینے پر مجبور ہوجائیں، تو پھر صرف افراد نہیں مرتے بلکہ پورا معاشرہ آہستہ آہستہ فکری بانجھ پن کا شکار ہونے لگتا ہے۔ غمخوار حیات اب اس دنیا میں نہیں رہے، مگر ان کے لفظ، ان کے خواب اور ان کی ادھوری جدوجہد بلوچستان کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہی وقت ہے کہ پورے ملک کے اساتذہ، دانشور، ادیب، باشعور شہری، پروفیسر غمخوار کے قتل کے خلاف آواز اٹھائیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل