Loading
بھگونت مان‘ ستوج گاؤں میں پیدا ہوا۔ یہ جگہ سنگ رور ضلع کا حصہ ہے جو ہندوستانی پنجاب میں واقع ہے۔ 1973ء میں دنیا میں آنے والے بچے کا خاندان بالکل عام سا تھا۔ اور آج بھی حد درجہ عام سا ہے۔ اس کی ابتدائی تعلیم اودھم سنگھ گورنمنٹ اسکول ‘ چیمہ گاؤں میں ہوئی۔ پھر اودھم سنگھ کالج میں آ گیا۔ بھگونت مان کو بچپن سے طنز و مزاح سے حد درجہ دلچسپی تھی۔ اوائل عمری سے مزاحیہ پروگراموں میں شرکت کرتا رہا۔ پھر ٹی وی پر بھی مزاحیہ پروگرام’’جگنو کہندا اے‘‘ کرنا شروع کیا۔
جو حد درجہ کامیاب ٹھہرا۔ 2006ء میں ’’جگنو ست ست‘‘ نام کا ایک ٹی وی کامیڈی شو شروع کیا جو پہلے کی طرح عوام میں حد درجہ پسند کیا گیا۔ ایسے متعدد مزاحیہ شو‘ ڈرامے اور فلمیں ہیں جس میں بھگونت ‘ لوگوں کو ہنسانے کا کام کرتا رہا۔ اپنی جوانی میں ایک مستند مزاحیہ فنکار بن چکا تھا۔ مگر قدرت اسے جس کام کے لیے تیار کر رہی تھی۔ بھگونت اسے سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔مستقبل اس کے تصور سے بھی زیادہ درخشاں تھا۔ 2011ء میں ‘ باقاعدہ سیاست میں آ گیا۔ اور یہاں سے اس کامیڈین میں سے ایک ایسا نایاب لیڈر نکلا جس نے اپنے صوبہ یعنی ہندوستانی مشرقی پنجاب کی قسمت بدل ڈالی۔ 2014ء میں عام آدمی پارٹی سے اسمبلی کا الیکشن جیت گیا۔ اور لوک سبھا کا ممبر بن گیا۔ عام سا آدمی ‘ جس کی ہمارے جیسے ملک میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ عام آدمی پارٹی کا کنوینئر بن گیا۔ یہ 2017 کا وقت تھا۔
اروند کیجری وال‘ جو عام آدمی پارٹی کے سربراہ ہیں۔ انھوںنے پنجاب کی قیادت کے لیے ‘ اپنے آئین کے مطابق ‘ عوام میں سے ایک ہیرے کو تلاش کیا۔ اٹھارہ جنوری 2022ء کو وہ وزیراعلیٰ منتخب ہو گیا۔ یہ حیران کن کارناموں کی شروعات تھی۔ اس نے اپنا حلف کسی عالی شان گورنر ہاؤس یا سرکاری عمارت میں نہیں اٹھایا ۔ بلکہ آزادی حاصل کرنے میں جدوجہد کرنے والے عظیم مجاہد ‘ بھگت سنگھ کے آبائی گاؤں کھٹکار کلاں میں مکمل کیا۔ حلف برداری کی ‘ اس نئی روایت سے پہلے پولیس کے صوبائی سربراہ کو بلایا۔ اور وی آئی پی کلچر ختم کرنے کا حکم دے دیا۔ تمام سیاست دانوں سے سرکاری سکیورٹی واپس لے لی گئی۔ اس کا فیصلہ تھا کہ پولیس کا کام لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔سیاست دانوں کو کسی قسم کی سرکاری سکیورٹی رکھنے کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کو ضایع کرنے کے مترادف ہے۔
کابینہ کے پہلے اجلاس میں مان نے پچیس ہزار سرکاری ملازمتیں لوگوں کو دینے کا اعلان کر دیا۔ اس میں کسی ایم پی اے یا سیاست دان کا کوئی کوٹہ نہیں تھا۔ اور یہ حد درجہ شفاف طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچیں ۔ نگرانی‘ سی ایم خود کر رہا تھا۔ 2022ء ہی میں کپاس کی فصل کو ایک سنڈی نے بہت نقصان پہنچایا تھا۔ مان نے کسانوں کے سارے مالی نقصان کا سرکاری سطح میں ازالہ کیا۔ تقریباً گیارہ ملین ڈالرکے لگ بھگ امداد کسانوں میں تقسیم کی گئی۔ مان نے محسوس کیا‘ کہ اس کی کابینہ کے چند گھاگ سیاست دان ‘ ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں لوگوں سے من مانگے کرائے وصول کرتے ہیں اور ان پر آج تک کسی نے ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں کی۔ مان نے ‘ سرکاری بسوں کی تعداد کو بڑھایا اور کرایوں کو آدھا کر دیا۔ اس قدم سے ٹرانسپورٹ مافیہ کی کمر ٹوٹ گئی۔ یہ خوشبودار کام بھی وزیراعلیٰ بننے کے پہلے دو چار ماہ میں کردیا ۔
بھگونت مان نے ان کے علاوہ چند ایسے انقلابی اقدامات اٹھائے جو اس سے پہلے کے وزراء اعلیٰ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ جنوری 2024ء میں اعلان کر دیا کہ اس کی حکومت ‘ گوانڈوال تھرمل پاور پلانٹ خریدے گی جو کہ549میگاواٹ بجلی پیدا کرتا تھا۔ پنجاب کی حکومت نے یہ پرائیویٹ پلانٹ 1080 کروڑ میں خرید لیا۔پھر اسے عوام کے لیے مفت بجلی پیدا کرنے کی سہولت پر لگا دیا۔ جس سرکاری کمپنی نے یہ کارخانہ خریدا۔ اس کا نام پنجاب اسٹیٹ پاور کارپوریشن ہے۔
یہ کارنامہ آئی پی پی کی عوام دشمن پالیسوں کو ختم کرنے کی ابتدا تھی۔ ساتھ ہی ساتھ اعلان کیا گیا کہ چھ سو یونٹ تک بجلی گھروں کے لیے بالکل مفت ہو گی۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق ہندوستانی پنجاب کی اکثریت‘ بجلی کے بلوں کے بوجھ سے مکمل طور پر آزاد ہو گئی۔ کیا ہمارے ملک میں‘ کوئی بھی سی ایم ‘ ایسے انقلابی کام کرنے کی ہمت کر سکتا ہے یا سوچنے کی استطاعت تک رکھتا ہے۔ بالکل نہیں ۔ ہمارے ہاں تو ہر بربادی کو خوش نما اشتہارات میں لپیٹ دیا جاتا ہے تاکہ عوام کو اس بدقسمتی کا اندازہ نہ ہو‘ جو ہمارے یہاں ہر سطح پر برپا ہے۔ آج سے چند ہفتے پہلے‘ بھگونت مان نے فیصلہ کیا کہ جو لوگ غربت کی وجہ سے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ انھیں ’’میری رسوئی‘‘ پروگرام کے تحت چالیس لاکھ خاندانوں کو کھانے پینے کی مفت اشیاء فراہم کی جائیں۔ چنانچہ ہر گھرانے کے لیے ایک تھیلے میں ‘ دو کلو چنے کی دال‘ دو کلو چینی‘ ایک کلو نمک‘ ایک لیٹر تیل مفت تقسیم کیا جا رہا ہے ۔ اس قدم سے لاکھوں گھرانے خوراک کی قلت سے باہر نکل آئے ہیں۔
آج کل‘ یہ نوجوان سی ایم ‘ بجلی کے تمام کھمبوں کو اپنی ریاست سے ختم کر رہا ہے۔ ہر جگہ زیر زمین بجلی کے کیبل مہیا کر رہا ہے۔ چند ماہ میں ‘ ہندوستانی پنجاب میں بجلی کا ایک پول بھی نظر نہیں آئے گا۔ ذرا سنتے جائیے۔ پورے صوبے میں چودہ ہزار کلومیٹر کی نہروں کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔ دن کے وقت ‘ زرعی ٹیوب ویلوں کو مسلسل بجلی فراہم کی جا رہی ہے‘ جو کہ بالکل مفت ہے۔ ’’ماواں دھیاں ستکار یوجنا‘‘ پروگرام کے تحت ‘ اٹھارہ برس سے اوپر ہر لڑکی کو ایک ہزار روپیہ سرکاری امداد شروع کی گئی ہے۔ اگر خاندان کا تعلق‘ اقلیت سے ہے ‘ تو یہ رقم بڑھا کر پندرہ سو روپے کر دی گئی ہے۔’’مکھ منتری صحت یوجنا‘‘ پروگرام کے تحت‘ حکومت نے پورے صوبے میں دس لاکھ روپیہ تک علاج کے کارڈ جاری کیے ہیں۔
کوئی بھی شہری کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ اسپتال سے مفت علاج کروا سکتا ہے۔ ویسے‘ اس سی ایم نے ایک اور کام بھی کمال کا سرانجام دیا ہے۔ پولیس کو غیر جانبدار تفتیش کرنے کا ایسا حکم جاری کیا ہے کہ اب مجرموں کو عدالتوں کے ذریعے سزاؤں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جرائم کی قانونی طریقہ سے سرکوبی کی گئی ہے۔ جرائم کا تناسب بہت کم ہو رہا ہے۔
ان کے علاوہ کئی مزید ‘ فلاح و بہبود کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ جن پر ایک مختصر سے کالم میں روشنی ڈالنا ناممکن ہے۔ ذرا سوچئے۔ نوے فیصد لوگوں کے لیے مفت بجلی ‘ زرعی ٹیوب ویل کے لیے مکمل طور پر فری بجلی ‘ غریب خاندانوں کو خوراک کی فراہمی ‘ وی آئی پی کلچر کا کمر توڑ خاتمہ اور جرائم کی بیخ کنی ‘ کیا کسی بھی اعتبار سے یہ قابل ستائش کارنامے نہیں ہیں؟ بالکل ہیں اور ہمیں تعصب کے بغیر ‘ ان کی تعریف کرنی چاہیے۔ اس کے بالکل برعکس ‘ جب اپنے حکمرانوں کی کارکردگی کی طرف نظر دوڑاتا ہوں تو دل بیٹھ سا جاتا ہے۔ بہترین ملبوسات میں زیب تن‘ حد درجہ قیمتی گاڑیوں کے قافلوں میں رواں دواں یہ کوئی خلائی مخلوق معلوم پڑتے ہیں۔ ہمارے کسی شعبے کو پرکھ لیجیے۔ کرپشن‘ بے ایمانی اور سطحیت کی وہ مجرمانہ حقیقت نظر آئے گی کہ آپ گھبرا جائیں گے۔
دراصل ہم‘ منافقستان میں رہ رہے ہیں۔ جہاں سچ بولنا مکمل طور پر ممنوع ہے۔ کیا ہمارے کسی ایک حکمران میں ہمت ہے‘ کہ ہندستان کے صوبے کے وزیراعلیٰ کے اچھے کاموں کو اپنی طرف بھی جاری کر سکے ۔ نہیں جناب! ان کے دل میں نہ لوگوں کی خدمت کا جذبہ ہے اور نہ ہی نمود و نمائش سے بیزاری ۔ یہ تودن میں کئی کئی بار جوڑے بدل بدل کر‘ عوامی خدمت کے تصویری کارنامے‘ ترتیب دیتے ہیں۔ بلکہ درست فقرہ تو یہ ہے کہ ’’لوگوں کے دلوں پر مونگ دلتے ہیں‘‘ ۔ عوامی غصہ اور نفرت کے ادراک سے مبرا یہ حکمران طبقہ‘ صرف اور صرف Conflicts پیدا کرنے اور اس کو منفی طریقے سے بڑھانے پر ہی سانس لے رہا ہے۔
امریکا‘ ایران جنگ کے معاملات اپنی جگہ‘ مگر پہلے اپنے ملک کے گھمبیر مسائل کو تویکسوئی کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کریں۔ ذمے داری سے عرض کر رہا ہوں کہ ہمارا حکمران طبقہ‘ ایک‘ صرف ایک عوامی اجتماع میں جانے کی جرأت نہیں رکھتا۔ دراصل ان کو پتہ ہے کہ عوام میں ان کے خلاف کس قدر منفی جذبات ہیں۔ اور یہ کسی بھی چناؤ میں شکست کی علامت بننے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں۔ ایک کالم سے میں‘ مقتدر طبقہ کے مردہ ضمیر کو زندہ تو نہیں کر سکتا مگر پڑھنے والوں کو یہ تو بتا سکتا ہوں کہ ہمسایہ ملک میں‘ ایک منتخب وزیراعلیٰ ‘ لوگوں کی فلاح و بہبود کے نایاب جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ جوانی کے زمانہ میں مزاحیہ ڈرامہ میں کام کرنے والا‘ آج مشرقی پنجاب میں لوگوں کے لیے ایک نیک دل فرشتہ بن چکا ہے۔ بلکہ میرا سوال تو یہ ہے اصل کامیڈین کون ہیں؟ ذرا سوچ کر جواب دیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل