Monday, June 08, 2026
 

شدید گرمی سے کیسے بچا جائے؟ اہم مشورے اور احتیاطی تدابیر

 



شہر قائد میں درجہ حرارت بڑھنے اور شدید گرمی کے پیش نظر طبی ماہرین نے منفی اثرات اور احتیاطی تدابیر بیان کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاط کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں حالیہ گرمی کی لہر نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ درجہ حرارت اور ہوا میں نمی کا تناسب بڑھنے کی وجہ سے حبس کا سامنا ہے جس کی وجہ شہر بھر کے مکین پریشان ہیں۔ دوپہر کے اوقات میں سڑکوں اوربازاروں سمیت عوامی مقامات پر رش بھی  معمول سےکم نظر آرہا ہے۔ ایسی صورت حال میں طبی ماہر نے خدشہ ظاہر کیا کہ شدید گرمی میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور بلڈ پریشر کے کیسز بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔  طبی ماہر کا کہنا ہے کہ جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سے بڑھ جائے تو دماغ، دل اور گردوں پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ جناح اسپتال شعبہ ایمرجنسی کے سی ایم او ڈاکٹر عرفان صدیقی نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ گرمی سے شہریوں کے معمولات متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے رائے دی کہ  دن 11 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلیں، اگر مجبوری ہو تو سر ڈھانپیں اور دھوپ کا چشمہ استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیاس لگنے کا انتظار نہ کریں بلکہ ہر 20 منٹ بعد پانی پئیں۔ دن میں 3-4 لیٹر پانی، جوس یا لسی پینا ضروری ہے، پسینے سے جسم کے نمکیات کی کمی ہوتی ہے اس لیے دن میں 1-2 گلاس او آر ایس یا گھر کا بنا لیموں، چینی، نمک والا شربت پئیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ مرچ مصالحے، گوشت اور تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز کریں۔ دہی، تربوز، خربوزہ، کھیرا اور ہلکی خوراک استعمال کریں۔ ڈاکٹر عرفان نے کہا شہر میں بڑھتی ہوئی گرمی کے پیشِ نظر ہیٹ اسٹروک سے نمٹنے کے لیے خصوصی ہیٹ اسٹروک یونٹ قائم کر دیا گیا ہے، جہاں او آر ایس سمیت ضروری طبی سامان دستیاب رکھا گیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ شہری گرمی کے موسم میں ہلکے اور روشن رنگوں کے کپڑے پہنیں، جن میں سفید، آسمانی، گلابی اور پیلے رنگ شامل ہیں، سوتی، ڈھیلے اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں۔ تنگ اور مصنوعی کپڑے جسم کی گرمی خارج نہیں ہونے دیتےجبکہ گہرے رنگوں کے لباس سے حتیٰ الامکان گریز کریںڈھیلے اور آرام دہ کپڑے پہننے سے جسم کا درجہ حرارت متوازن رہتا ہے اور پسینہ مناسب مقدار میں خارج ہوتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ شدید گرمی میں جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھنے سے ہیٹ اسٹروک کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے، اگر کسی شخص کو ہیٹ اسٹروک ہو جائے تو فوری طور پر اسے ٹھنڈی جگہ یا ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں منتقل کیا جائے، اضافی کپڑے ڈھیلے کیے جائیں اور جسم کا درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ مریض کی حالت بہتر ہو سکے۔ ڈاکٹر عرفان نے کہا کہ دن میں پردے بند رکھیں۔ پنکھے، ایگزاسٹ چلائیں۔ فرش پر پانی کا چھڑکاؤ فائدہ دیتا ہے۔طبی ماہر نے گرمی بڑھنے کی صورت میں خطرے کی علامات بتاتے ہوئے آگاہ کیا کہ چکر آنا، شدید سر درد، متلی، جلد کا سرخ و خشک ہو جانا، الجھن یا بے ہوشی ہیٹ اسٹروک کی نشانیاں ہیں۔ ’ایسی صورت میں مریض کو فوراً سائے میں لے جائیں، کپڑے ڈھیلے کریں، ٹھنڈے پانی سے جسم پونچھیں اور فوری طبی امداد حاصل کریں۔طبی ماہرین نے کہا ہے کہ بچے، بزرگ، حاملہ خواتین اور دائمی امراض میں مبتلا افراد کو خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔ احتیاط ہی اس موسم میں سب سے بہتر علاج ہے۔‘

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل