Loading
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی مفتی محمود مرکز پہنچے اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔
ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، صوبائی حقوق کے حصول کے لیے مشترکہ جد و جہد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگلے مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ ، صوبے کے شیئر سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سینیئر رہنما بھی ملاقات میں شریک تھے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو این ایف سی میں ضم اضلاع کا حصہ نہیں مل رہا، پنجاب حکومت نے خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے گندم کی فراہمی بند کر رکھی ہے، وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کو گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں انتہائی تشویش ناک ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا 500 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود صوبے کو اس کے جائز حصے سے محروم رکھا جا رہا ہے، صوبہ صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کرتا ہے، اس کے باوجود گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں ناقابل قبول ہیں، وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کا طرز عمل آئین کے آرٹیکل 151 اور آرٹیکل 158 کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ وفاق خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل