Thursday, July 02, 2026
 

معاشی ڈپلومیسی کا بڑا چیلنج

 



حالیہ کچھ عرصہ میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی سربراہی میں ہم نے عالمی سفارت کاری کے محاذ پر بڑی شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ان میں ایک بڑی کامیابی امریکا ایران عبوری معاہدہ اور جنگ کا خاتمہ بھی ہے ۔اس کا اعتراف امریکا یا ایران سمیت عالمی دنیا اور میڈیا کی سطح پر ایک بڑی پزیرائی کے طور پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔اسے سیاسی اور معاشی ماہرین پاکستان کی داخلی سیاست میں جہاں نئے امکانات کے طور پر دیکھ رہے ہیں وہیں ان کے بقول عالمی سیاست میں پاکستان کی اہمیت بھی بڑھی ہے جو ہمیں عالمی اورعلاقائی سیاست میں آگے بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس حالیہ سفارت کاری سے ملنے والی پزیرائی کو پاکستان کی داخلی معیشت کی مضبوطی اور بحالی سے جوڑ کر بھی دیکھا جارہا ہے ۔سوال یہ زیر بحث ہے کہ کیا ہماری قیادت عالمی دنیا یا بڑے ممالک سے اپنے لیے نئے معاشی امکانات یا کسی معاشی بیل آوٹ پیکیج یا بڑی سرمایہ کاری کو ممکن بنا سکے گی؟ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ہم اپنی داخلی معیشت سے جڑے بحران کو حل کرسکتے ہیں ۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہمارے معاشی یا مختلف نوعیت کے داخلی بحران وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے جائیں گے۔ اصل میں ہماری سیاسی حکومتوں چاہے وہ ماضی کی ہوں یا آج کی معیشت کی بحالی ان کی کبھی بڑی ترجیحات کا حصہ نہیں رہی بلکہ ان کی پہلی ترجیح عالمی مالیاتی اداروں یا بڑے ممالک سے امداد اور قرضوںکا حصول رہا ہے۔اسی طرح معیشت کی اصلاحات کے لیے جو بڑے فیصلے یا سخت گیر اقدامات یا اسٹرکچرل اصلاحات درکار ہیں اس سے بھی ہماری حکومتوں سمیت ادارہ سازی کا عمل سمجھوتے کی سیاست کا شکار رہا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم اپنی سیاست،جمہوریت کے نظام اور اس کی بہتری کے تعلق کو نہ تو معیشت کی اصلاح سے جوڑ سکے اور نہ ہی لوگوں کا حکومتی معیشت کے نظام پر اعتماد قائم ہوسکا۔یہ ایک بڑی خلیج ہے جو حکومت اور عوام کے درمیان ہمیں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ہمارا حکمرانی کا نظام معیشت سمیت دیگر معاملات کی سیاست کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔لانگ ٹرم،مڈٹرم اور شارٹ ٹرم پالیسی پر مبنی جامع پروگرام یا فریم ورک کی کمی کا بحران ہے۔حکومت کے معاشی ماہرین سیاست ،معیشت اور عوام کے باہمی تعلق کو سمجھ نہیں پائے یا وہ اس پہلو کو سمجھتے ہوئے بھی نظرانداز کر رہے ہیں۔ آج کی معیشت کا پہلا بڑا سوال غربت کی کمی ہے اور جو لوگ غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں ان کو کیسے اس لکیر سے نکالا جائے اور ان کی غربت اور معاشی بدحالی کو ختم کیا جائے ،دوئم کیسے پاکستان کی لوئر اورمڈل کلاس کو معاشی بنیادوں پر ترقی دی جائے یا ان کی ترقی کے لیے نئے معاشی امکانات پیدا کیے جائیں تاکہ مجموعی طور پر لوگوں کی آمدنی اور اخراجات میںجو عدم توازن پیدا ہورہا ہے اسے کیسے کم یا ختم کیا جائے۔ اگر ہم اپنی معیشت کے داخلی بڑے چیلنجز کو دیکھیں تو ان میںکم ٹیکس ریونیو یا کمزور ٹیکس بیس جی ڈی پی اشاریے ہیں۔اس کی وجہ ہم پر قرضوںکا بوجھ اور ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات میں کمی کی صورت میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔اسی طرح توانائی کا بحران اور سرکلر ڈیبٹ جس کی وجہ سے مہنگی بجلی کا بحران ہے ،کم پیداواری صلاحیت یعنی ان شعبوں کی ناقص کارکردگی،صنعتوں کے فروغ میں کمی،ماحولیات اور کلائمنٹ چینج سے جڑے مسائل،آبادی میں اضافہ،پانی مینجمنٹ کی کمی،بجلی کی قیمتوں میں بڑھتا ہوا اضافہ،کارخانوں کی بندش، نوجوانوں کی بے روزگاری کے مسائل ،ملک چھوڑنے والوں کی تعداد میں اضافہ،عوامی قرضوں کا بوجھ،کرپشن ،کمزور سطح کا سیاسی نظام،بھاری بھرکم بیوروکریسی،انسانی ترقی پر کم توجہ،غربت میں اضافہ،خوراک کی کمی،کم اخراجات تعلیم اور صحت جیسے مسائل اہم ہیں۔ آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی ادارے مسلسل ہمیں مشورہ دے رہے ہیں کہ اگر پاکستان نے معاشی بنیادوں پر آگے بڑھنا ہے تو اسے سیاسی،معاشی یا حکمرانی کے روائتی طور طریقوں سے باہر نکلنا ہوگا۔جہاں ریاست کا نظام سیاسی افراتفری اور سیاسی تقسیم یا سیاسی مہم جوئی کی بنیاد پر چلے گا تو وہاں نہ سیاست مضبوط ہوسکتی ہے اور نہ ہی معیشت کو مضبوط بنایا جاسکے گا۔پاکستان کے چھ بڑے مسائل ہیں۔اول، سیاسی بحران کا خاتمہ،دوئم، معاشی بحران کا خاتمہ، سوئم، سیکیورٹی اور دہشت گردی کا خاتمہ،چہارم، ملکی سطح پر شفاف گورننس اور مضبوط ادارہ جاتی نظام،،پنجم، احتساب اور جوابدہی کا نظام ،ششم، عوامی مفادات کا تحفظ ہیں، ان کو درست کیے بغیر اور ان معاملات میں غیر معمولی اقدامات کے بغیر کچھ بڑا نہیں ہوسکے گا۔پاکستان نے اگر آگے بڑھنا ہے تو اسے پائیدار پرائیویٹ سیکٹر کی گروتھ کی طرف جانا ہوگا۔ اسی طرح منصفانہ ٹیکس اصلاحات کے نظام کو لانا،توانائی سیکٹر کی اصلاح، زراعت اور صنعت کی پیداواری قوت میں اضافہ،انسانی ترقی کے ماڈل کی اصلاح کرنا اور نئی نسل کو معاشی ترقی کا حصہ بنانا،بیوروکریسی کی سطح پر بڑی انتظامی تبدیلیاں،ای گورننس کا نظام،سیاست کا تسلسل اور سیاسی استحکام، سرمایہ کاری کو فروغ اور تحفظ دینا، مالیاتی ڈسپلن کو پیدا کرنا، سخت گیر اصلاحات کا راستہ اختیار کرنا، اسی کو بنیاد بنا کر آگے بڑھا جاسکتا ہے  لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک کا طاقت ور حکمران طبقہ ان سب چیزوںکو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے یا وہ اسی طرح معاشی ترقی کے دعوؤں کو عوام کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔پاکستان کی سیاست، معیشت اور ادارہ جاتی سطح پر بہت کچھ تبدیل ہونا ہے لیکن بظاہر اس وقت ہماری سیاسی قیادت اس کے لیے تیار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر معیشت کی بحالی اور ترقی میں حکومتوں نے کچھ نہیں کرنا تو پھر ان حکومتوں کا بوجھ یہ ریاست کا نظام کیونکر اٹھا رہا ہے ۔ اس لیے جب یہ بات کی جا رہی ہے کہ ہمیں معاشی ترقی اور نئے امکانات کو پیدا کرنے کے لیے عالمی سطح پر معیشت کے تناظر میں بڑی ڈپلومیسی کی ضرورت ہے تو اس میں حکومت یا سیاست دانوں کا کردار کتنا بنتا ہے اور ان کو ہر سطح پر اپنی ترجیحات کو تبدیل کرنا ہے۔الزام تراشیوں کی سیاست سے باہر نکلیں اور جذباتیت کی بنیاد پر میثاق معیشت کے نعرے اور ان پر جو سیاست کی جا رہی ہے اس سے کچھ حاصل نہیں ہوسکے گا۔معاشی ڈپلومیسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوسکتی اور اس میں سب شعبہ جات کو اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا ۔حکمرانوں کے سامنے ان کے ذاتی مفادات کم اور ریاستی یا عوامی ترجیحات کی زیادہ اہمیت ہونی چاہے اور یہ اسی صورت ممکن ہوگا جب ہم مجموعی طور پر اپنے طرز عمل میں تبدیلی لائیں۔ اس وقت ہمیںاپنی درست ترجیحات کے تعین کے لیے اپنی معیشت کے داخلی بحران پر توجہ دینی ہوگی اور اس میں ہم غیر معمولی اقدامات کے ساتھ ہی کچھ بڑی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل