Thursday, July 02, 2026
 

ملبے کا نوحہ: خلیج کا عارضی سراب

 



خلیج کی ایک خاموش رات میں، جب سمندر کی سطح پر لہریں بھی کسی مہیب خوف کے تحت اپنے اندر سانس روکے ساکت کھڑی ہوں، ایک دیوہیکل تیل بردار جہاز لنگر انداز تھا۔ اس کے فولادی پیٹ میں بھرا ہوا لاکھوں بیرل خام تیل محض ایک ایندھن نہیں، عالمی معیشت کی نبض ہے، طاقت کی حرکیات کا آخری سچ ہے اور اس مادی تہذیب کا خون ہے جس کے دَم سے مغرب کے چکا چوند ایوان روشن ہیں، لیکن اس عالمی شطرنج کو چالیس ہزار فٹ کی بلندی سے دیکھنے والے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ اسی ساکت جہاز کے نیچے بارود کی بو اور انسانی گوشت کی سڑاند اب بھی موجود ہے۔ چند ہفتے پہلے جب آبنائے ہرمز پر میزائل گرج رہے تھے، تو وہ صرف دو مقتدر ریاستوں کا وقتی تصادم نہیں تھا، اس تزویراتی بحران کے بطن سے بارہ ملاح سمندر کی بے رحم لہروں میں ہمیشہ کے لیے لاپتہ ہو گئے اور بحرین کی ایک دور افتادہ بندرگاہ پر کام کرنے والا ایک غریب ’’پاکستانی‘‘ مزدور گولیوں کا نشانہ بن کر سرمائے کی اس بے رحم جنگ کی نذر ہو گیا۔ اس انسانی لہو کی سرخی نے ابھی مٹی بھی نہیں پائی تھی کہ اچانک اخبارات کی شہ سرخیوں میں یہ مژدہ سنایا گیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان چودہ نکاتی مفاہمتی یادداشت پر ’’معاہدہ‘‘ ہو گیا ہے۔ دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے، اسٹاک مارکیٹوں میں جشن بپا ہوا، مگر تاریخ اور عمرانی شعور سے لیس آنکھ دیکھ سکتی ہے کہ طاقتوروں کے ہاں امن کبھی کوئی اخلاقی اصول نہیں ہوتا، یہ صرف اگلی جنگ کے آغاز سے پہلے کا ایک مہذب اور منافع بخش وقفہ ہوتا ہے۔ اس بین الاقوامی واقعے کی گہری فکری تفہیم کے لیے ہمیں عمومی سیاسی بیانیے سے بلند ہونا ہوگا۔ جدید مغربی تہذیب کوئی اخلاقی یا ایمانی مابعد الطبیعیات نہیں ہے، بلکہ یہ ارتکازِ سرمایہ کا ایک ہمہ گیر مادی منصوبہ ہے، جہاں معنویت کو افادیت کے تابع کر دیا جاتا ہے۔ اس تہذیب کا پورا وجود، اس کا بارود، اس کے الگورتھم اور وال اسٹریٹ کے سپر کمپیوٹرز، روزانہ کروڑوں بیرل سستی توانائی کے محتاج ہیں، جس کا دل خلیج کے پانیوں میں دھڑکتا ہے۔ جب تک یہ تیل مغربی منڈیوں کے حلق کو تر رکھتا ہے، جدیدیت کا مادی جادو چلتا رہتا ہے۔ چناں چہ، جب کوئی نظریاتی عنصر یا مزاحمتی ریاست اس مادی بہاؤ کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہے، تو نظامِ سرمایہ اپنے وجود کو بچانے کے لیے کبھی عسکری مہم جوئی کرتا ہے اور کبھی ’’معاہدوں‘‘ کا ریشمی جال بنتا ہے۔ یہ ڈیل دو ملکوں کا کوئی فکری یا اخلاقی ملاپ نہیں، بلکہ تیل اور منڈی کے درمیان ہونے والا وہ سودا ہے جس کے بغیر مادی ملوکیت کا بت دھڑام سے زمین پر آ گرے گا۔ اس بساط پر اسرائیل کا کردار کوئی تزویراتی حاشیہ یا دور کھڑا تماشائی نہیں تھا، بلکہ وہ اس مادی انجن کا اصل متحرک حصہ تھا۔ یہ موجودہ بحران کسی سفارتی غلط فہمی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ اس ہولناک جنگ کا تسلسل تھا جس کا آغاز اٹھائیس فروری کو امریکااور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں سے ہوا تھا، جس میں ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت بھی شامل ہے۔ اسرائیل مغرب کی اس مادی بالادستی کا وہ عسکری بازو ہے جو خطے میں کسی بھی غیر سرمایہ دارانہ یا نظریاتی متبادل کو کچلنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ان حملوں کے بعد پیدا ہونے والے شدید تزویراتی صدمے نے جہاں تہران کو اپنی بقا کے لیے میز پر آنے پر مجبور کیا، وہاں ’’اسرائیل کی ترجیحات اور واشنگٹن کی مجبوریاں اس مرحلے پر عارضی طور پر ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتی ہیں۔‘‘ اس سرمایہ دارانہ کھینچ تان میں یورپ، روس اور چین کے مفادات کی اپنی الگ الگ تہیں ہیں۔ چین، جو اپنی پچاس فی صد سے زائد توانائی کی ضروریات کے لیے اسی خلیج کا محتاج ہے اور جس کا کھربوں ڈالر کا ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبہ اس خطے کے استحکام سے جڑا ہے، اس عارضی معاہدے کے بعد ایک بڑی معاشی تباہی سے بچ گیا ہے۔ یورپ، جو پہلے ہی یوکرین جنگ کے بعد سے شدید صنعتی دیوالیہ پن اور توانائی کے بحران کا شکار تھا، خلیج میں جنگ بڑھنے کے خوف سے لرز رہا تھا، اس کے لیے یہ ڈیل سانس بحال رکھنے کا ایک عارضی ذریعہ ہے۔ دوسری طرف روس، اس بحران کو ایک تزویراتی پناہ گاہ کے طور پر دیکھ رہا تھا تاکہ واشنگٹن کی توجہ مشرقی یورپ سے ہٹ کر خلیج پر مرکوز رہے، مگر وہ بھی عالمی معیشت کے اس بڑے دھارے سے الگ تھلگ رہ کر تیل کی قیمتوں کے یک طرفہ کریش کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ چناں چہ، یہ معاہدہ بڑی طاقتوں کے مادی مفادات کا وہ عارضی نقطہ اتصال ہے جہاں ہر فریق اپنے سرمائے کے تحفظ کے لیے کھڑا ہے۔  اب سوال یہ ہے کہ ایران امریکا معاہدے کا ممکنہ مستقبل کیا ہے؟ یہ معاہدہ کوئی دائمی امن کا اعلان نہیں ،بلکہ عقل عیار کا پیدا کردہ ایک عارضی سراب ہے۔اس معاہدے کی پائیداری کا انحصار ان بنیادی تضادات کے حل پر ہے جو فی الحال اپنی جگہ برقرار ہیں، اس لیے اس کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ جب تک مغربی تہذیب کا پیٹ تیل مانگتا رہے گا، یہ عارضی سمجھوتے ہوتے رہیں گے اور جیسے ہی اس کا متبادل ملے گا، یہ چودہ نکات اسی خلیج کے پانیوں میں بہا دیے جائیں گے جہاں بارہ لاپتہ ملاحوں کا خون اب بھی انصاف کا منتظر ہے، کیوں کہ سرمائے کے اس بے رحم کھیل میں انسان صرف ایک عدد ہے اور عہد صرف ایک عارضی مصلحت، جس کا انجام ہمیشہ کسی نئے ملبے کی فضائی تصویر پر ہوتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل