Loading
موجودہ زمانہ جمہوری حکومتوں کا ہے۔چند ہی بادشاہتیں ایسی رہ گئی ہیں جہاں بادشاہ مکمل اختیارات کے ساتھ حکمران ہیں۔یورپ مطلق العنان بادشاہتوں سے تقریباً جان چھڑا چکا ہے۔یورپ میں بادشاہتیں اب بھی ہیں لیکن اصل اختیارات عوام کے نمائندوں کے پاس ہیں۔بادشاہ اب پارلیمنٹ کو اپنی مرضی سے چلتا نہیں کر سکتے۔بادشاہ کو وزیرِ اعظم کے تجویز کردہ اقدامات پر مہرِ تصدیق ثبت کرنی ہوتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں البتہ ابھی شاہی اقتدار جاری ہے اور بادشاہ ہی کی مرضی چلتی ہے۔
وزیرِ اعظم اور پارلیمنٹ کے اختیارات بہت محدود ہیں۔مشرقِ بعید کے ایک دو ممالک میں بھی مطلق العنان بادشاہت ہے لیکن جاپان میں بادشاہت کا زور ٹوٹ چکا ہے اور ملک کی باگ ڈور عوام کے نمائندوں کے ہاتھ میں ہے۔افریقہ کے اکثر ممالک میں ڈکٹیٹرشپ نے قدم جما رکھے ہیں لیکن حالات جس تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں لگتا ہے کہ آنے والی چند دہائیوں میں ڈکٹیٹرشپ کا بوریا بستر لپیٹ دیا جائے گا اور اکثر ممالک میں اقتدار عوامی نمائندوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ آسٹریلیا میں بادشاہت برائے نام تو ہے لیکن جمہوری حکومت کے ہاتھ میں مکمل اقتدار ہے۔
قرآنِ کریم قوموں اور ملکوں کو قومی و ملی و سیاسی معاملات چلانے کے لیے مشاورت کا حکم دیتا ہے۔قرآن کے الفاظ میں معاملات شوریٰ آپس میں مشاورت سے چلانے میں بہتری اور خیر ہے۔مشہور برطانوی رومانٹک شاعر بائرن نے کہا تھا کہ Democracy is government of the people by the people and for the people.یعنی جمہوری حکومت عوام کے ذریعے منعقد ہوتی ہے،عوام ہی حکومت کے لیے اپنے لیڈران چنتے ہیں اور یہ جمہوری حکومت عوام ہی کی فلاح و بہبود کے لیے بنتی ہے۔ علامہ اقبال اس نظامِ حکومت کی ایک بڑی خامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، جمہوریت وہ طرزِ حکومت ہے کہ،جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔
ہر آدمی کی ایک شعوری سطح ہوتی ہے اور یہ یکساں نہیں ہوتی۔انسان،انسان کہلواتا ہی اس لیے ہے کہ وہ صرف جان نہیں رکھتا بلکہ شعور اور آگاہی رکھتا ہے لیکن ووٹ کا حق تو سبھی کو برابر ملتا ہے۔ہر ایک کا ایک ووٹ ہوتا ہے چاہے کوئی سمجھ بوجھ سے بالکل ہی عاری ہو ۔بہت سے افراد کو اسٹریچر یا چارپائی پر ووٹ ڈلوانے کے لیے لایا جاتا ہے۔ایسے میں وہ کیونکر صحیح نمایندہ چن سکتے ہیں۔
پاکستانی معاشرہ ایک انوکھا معاشرہ اور ریاست ایک مشکل ریاست ہے۔یہاں قائدِ اعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر جیسی نابغۂ روزگار،قدآور اور وژنری شخصیتوں نے جمہوریت کی ابتدائی آبیاری کی لیکن پھر جلد ہی ہم نے وہ بہترین راستہ کھو دیا ۔ 1958میں صدر سکندر مرزا کے ساتھ مل کر ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا لیکن چند ہی دنوں کے بعد سکندر مرزا کو راستے سے ہٹا دیا گیا اور زمامِ اقتدار ایوب خان نے سنبھال لی۔ایوب خان کو اس کے لمبے اقتدار کے بعد یحییٰ خان نے اقتدار سنبھال لیا۔ مسلسل غیر جمہوری حکومتوں کی وجہ سے سیاسی خلفشار بہت گہرا ہوتا چلا گیا۔ بھٹو صاحب ایک وڈیرہ تھے اور وڈیرہ پن ہی ان کی کمزوری تھا۔وہ چاہتے تو بہت پاپولر اور ذہین ہونے کے ناطے پاکستان کو سیاسی و معاشی استحکام کے راستے پر گامزن کر سکتے تھے لیکن سیاسی خلفشار بڑھا اور ان کی صنعتوں کو قومیانے کی پالیسی نے ایسی معاشی بدحالی کو جنم دیا کہ ملک بدحال ہو گیا۔
ہمارے ہاں جمہوریت کا مطلب انتخابات کروا دینا ہے چاہے یہ انتخابات کیسے بھی ہوں۔انتخابی نتائج کو ماننا نہ ماننا،عوامی رائے کا احترام کرنا نہ کرنا،منتخب نمائندوں کو اقتدار منتقل کرنا نہ کرنا،یہ مقتدر حلقوں کی صوابدید پر ہے۔ عام طور پر اقتدار کی منتقلی نہیں ہوتی، ہاں اقتدار میں کسی حد تک شریک کر لیا جاتا ہے۔یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جیت کسی امیدوار کی ہوتی ہے اور منتخب کوئی اور ٹھہرتا ہے۔ ہماری عدلیہ بھی اپنے مفاد کے مطابق جمہوریت کے ساتھ رومانس کرتی رہتی ہے۔ سب سے زیادہ کھلواڑ عوام خود کرتے ہیں۔کئی لاکھ ووٹرز کے حلقے میں انھیں ایک بھی ایسا فرد نہیں ملتا،جو ہر لالچ،ہر مفاد سے پاک پڑھا لکھا ہو اور حلقے میں ہر ایک کی فلاح و بہبود چاہتا ہو۔عوام کو وہی پرانے گھاگھ کھلاڑی درکار ہیں جو ووٹ لینے کے لیے تو ان کے پاس پہنچ جاتے ہیں لیکن عوام اگلے پانچ سال ان کی ایک جھلک کو ترستے ہیں۔ہر انتخابات میں انھی برادریوں اور دھڑوں کی سیاست ہوگی تو جمہوریت کیسے پروان چڑھے گی۔
اگر دیکھا جائے تو ہر کہیں جمہوری رویے زوال پذیر ہیں۔آپ پڑوسی ملک انڈیا کو لے لیں۔انڈین جمہوریت،دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار ہے۔انڈیا میں آزادی کے بعد جواہر لال نہرو جیسے پڑھے لکھے مدبر نے حکومت سنبھالی۔نہرو کی مدبرانہ قیادت اور جمہوری رویے کی بدولت دنیا بھر میں انڈیا کا اچھا امیج قائم ہوا۔انڈیا غیر جانبدار تحریک کے ابتدائی ارکان میں سے مانا گیا حالانکہ ایک طرف انڈیا سوویت یونین بلاک میں تھا اور دوسری طرف برطانیہ کی گود میں بیٹھا ہوا تھا۔انتخابات ہوتے رہے اور اب عوام کی چوائس کی داد دیجیے کہ جناب نریندر مودی جیسا نیم پڑھا لکھا کٹر ہندو وزیرِ اعظم ہے جو ہندوؤں کے علاوہ کسی کو بھی انڈین نہیں سمجھتا۔اسی طرح آپ امریکا کو دیکھیں۔ کہاں جارج واشنگٹن اور کہاں بائیڈن و ٹرمپ۔برطانیہ کی پارلیمنٹ کو مادر آف پارلیمنٹس کہا جاتا ہے۔ برطانیہ میں ڈیوڈ کیمرون کے بعد کوئی وزیر اعظم مدت پوری نہیں کر پا رہا۔دیکھیں جمہوریت نے برطانیہ کا کیا حال کر دیا ہے۔آپ جمہوری کلچر اور لیڈران کی اہلیت کے گراف کو نیچے ، انتہائی نیچے جاتے دیکھیں گے۔
پاکستان میں صدارتی نظام کا تجربہ ناکام ہوا۔ اس عظیم ملک کو غربت،معاشی بدحالی اور سیاسی خلفشار دیا گیا۔پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت پاکستان کے عوام پر ایک بوجھ ہے۔عوام کی فلاح و بہبود کا نعرہ لگانے والے،عوام کے اپنے منتخب کردہ نمائندے ملک کو نوچ نوچ کر کھاتے چلے آ رہے ہیں۔پارلیمان کا اجلاس شروع ہونے سے7دن پہلے ماہانہ تنخواہ کے علاوہ یومیہ الاؤنس جاری ہو جاتا ہے اور اجلاس ختم ہونے کے بعد سات دن جاری رہتا ہے۔عوام یعنی ٹیکس دہندگان کے پیسوں پر عیاشی ہوتی ہے اور حال یہ ہے کہ جس قانون کو پاس کر رہے ہوتے ہیں،اسے پڑھنا تو کجا دیکھا بھی نہیں ہوتا۔ پاکستان میں جمہوری رویہ پیداہی نہیں ہو سکا۔استدعا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت کے بارے میں اہلَ پاکستان بہت تنقیدی جائزہ لے کر آیندہ کا لائحہ عمل وضع کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل