Sunday, July 12, 2026
 

بنگلادیش میں طوفانی بارشیں اور لینڈسلائڈنگ، 44 افراد ہلاک، بےشمار لاپتہ

 



بنگلا دیش میں کئی روز سے جاری شدید مون سون بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں مختلف حادثات میں کم از کم 44 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں چٹوگرام، کاکس بازار، بندربن، رنگامٹی، کھاگڑاچھڑی، مولوی بازار اور حبی گنج شامل ہیں۔ شدید بارشوں کے باعث متعدد سڑکیں اور پل تباہ ہو گئے، ہزاروں گھر زیرِ آب آ گئے اور امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ حکام کے مطابق تقریباً 2 لاکھ 68 ہزار گھرانے سیلاب سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش کی فوج، بحریہ اور دیگر امدادی ادارے کشتیوں کے ذریعے خوراک، پینے کا پانی اور طبی امداد دور دراز علاقوں تک پہنچا رہے ہیں۔ کاکس بازار میں واقع روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں بھی لینڈ سلائیڈنگ سے متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مسلسل بارش کے باعث مزید مٹی کے تودے گرنے کا خدشہ برقرار ہے، جس کے پیشِ نظر حساس علاقوں سے لوگوں کی منتقلی جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو مون سون بارشوں، سیلاب اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اور حالیہ آفات نے ایک بار پھر ملک کے کمزور بنیادی ڈھانچے اور نشیبی علاقوں کی مشکلات کو نمایاں کر دیا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل