Sunday, July 12, 2026
 

شدید عوامی احتجاج کے بعد میٹا کو بڑا یوٹرن، متنازع اے آئی فیچر ختم کر دیا

 



کیلیفورنیا: سوشل میڈیا کمپنی میٹا نے شدید عوامی تنقید اور پرائیویسی سے متعلق خدشات کے بعد اپنا نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی تصویر سازی کا فیچر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق میٹا نے رواں ہفتے ’میوز امیج‘ نامی اے آئی فیچر متعارف کرایا تھا، جس کے ذریعے صارفین عوامی انسٹاگرام اکاؤنٹس پر موجود تصاویر کو استعمال کرتے ہوئے نئی تصاویر تیار یا ان میں تبدیلی کر سکتے تھے۔ یہ فیچر میٹا کے چیٹ بوٹ کا حصہ تھا اور صارفین کو اسکیچز اور تصاویر کی مدد سے نئی تخلیقی تصاویر بنانے کی سہولت فراہم کرتا تھا۔ تاہم فیچر کے آغاز کے فوراً بعد اس پر شدید تنقید شروع ہوگئی کیونکہ بہت سے صارفین کا کہنا تھا کہ یہ سہولت ان کی واضح اجازت کے بغیر خودکار طور پر فعال کر دی گئی تھی۔ میٹا نے ایک بیان میں کہا کہ کمپنی کا مقصد صارفین کو ایک مفید تخلیقی ٹول فراہم کرنا تھا اور انہیں یہ اختیار دینا تھا کہ آیا ان کے عوامی مواد کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ تاہم کمپنی نے اعتراف کیا کہ صارفین کی رائے سے واضح ہوا کہ یہ فیچر ان کی توقعات پر پورا نہیں اترا، اس لیے اسے فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس فیچر پر امریکی اداکارہ ہنّا آئنبائنڈر سمیت متعدد شخصیات نے بھی اعتراض کیا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ اس فیچر کو بند کر دیں تاکہ ان کی تصاویر مصنوعی ذہانت کے ذریعے استعمال نہ کی جا سکیں۔ اداکاروں اور میڈیا سے وابستہ افراد کی نمائندہ تنظیم نے بھی میٹا کے اس اقدام پر سخت تنقید کی تھی۔ تنظیم کا مؤقف تھا کہ صارفین کی تصاویر کو مصنوعی ذہانت کے لیے استعمال کرنے سے پہلے واضح اور باقاعدہ اجازت لینا ضروری ہے، جبکہ خودکار طور پر صارفین کو اس فیچر میں شامل کرنا ناقابل قبول ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کمپنیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے متعلق فیچرز میں صارفین کی رازداری، رضامندی اور ڈیٹا کے استعمال کے حوالے سے زیادہ شفاف پالیسیاں اختیار کریں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل