Loading
وزیردفاع خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کے بیان بیان کو بے حسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی جوانوں کی وطن کیلیے قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا شہدا کے لواحقین کے جذبات مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع خواجہ محمد آصف مئ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب کہنہ مشق سیاست دان، ممتاز مذہبی رہنما ہیں، ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا غیرمنصفانہ ہے، ایسا بیان شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے، کوئی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے، عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے، آپ کا حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلاف ہو سکتا ہے، نظریے، وابستگی، محبت، قربانی کی توہین نہیں کر سکتے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اس وقت دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری ہے، ماؤں کے جوان بیٹے بشمول افواج پاکستان، قانون نافذ کرنے والے ادارے، سویلینز روز قومی پرچم میں لپٹے آ رہے ہیں، ان کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ مولانا صاحب نے ایک ادارے نہیں، ہزاروں شہداء، زخمیوں، بیواؤں، یتیم بچوں، سوگوار والدین کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل