Loading
سابق میئر کراچی وسیم اختر نے پارٹی میں اندرونی اختلافات پر کہا ہے کہ ایم کیو ایم میں کوئی چہرہ قیادت کے قابل نہیں ہے، اگر اختلافات رہے تو پھر عوام میں جانا مشکل ہوجائے گا۔
تفصیلات کے مطابق سابق میئر کراچی وسیم اختر ایم کیو ایم پاکستان کے خاموش رہنماؤں کے ساتھ اچانک کراچی پریس کلب پہنچے، ان کے ساتھ سلیم تاجک اور وسیم آفتاب بھی موجود تھے۔
ایم ایم کیو ایم کے سابق میئر کراچی بولے صحافیوں سے گفتگو کا مقصد اپنی سوچ اور فکر ایم کیو ایم کے کارکنان تک پہنچانا ہے، ایم کیو ایم آج جن اختلافات کا شکار ہے ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا، آج اجلاسوں میں ایم کیو ایم کے قیام پر اپنے ہی متنازع باتیں کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم 22 اگست 2016 کو نہیں 18 مارچ 1984 کو بنی تھی، پارٹی چیئرمین بننے والے تمام امیدوار وقت کا انتظار کریں، اختلافات سے کارکنان تقسیم در تقسیم ہورہے ہیں۔
وسیم اختر نے کہا کہ ہمارے اختلافات کے باعث اپنے اور دوسرے سب ہم پر طنز کررہے ہیں، بائیس اگست سے پہلے والی ایم کیو ایم اپنے نظم و ضبط سے پہچانی جاتی تھی، آج ہمیں ایم کیو ایم کے اسی نظم و ضبط کو لیکر چلنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی انتخابات جب ہونگے تو جسے چیئرمین بننا ہے بن جائے گا، ابھی ایم کیو ایم پاکستان کے تمام عہدیدار صبر سے کام لیں، انٹرا پارٹی انتخابات تو ہوجائیں گے بلدیاتی انتخابات کا کیا ہوگا؟ اختلافات برقرار رہے تو عوام میں کس منہ کے ساتھ جائیں گے۔
وسیم اختر بولے ایک وقت تھا جب وفاقی اور صوبائی حکومت کے لئے سیاسی جماعتیں ایم کیو ایم کے در پر آتی تھی، ہم آپس لڑرہے ہیں، حقوق کے لیے سڑکوں پر کیسے جاسکتے ہیں۔
وسیم اختر نے کہا کہ پارٹی قیادت حاصل کرنے کیلیے جدوجہد کی جا رہی ہے اور کراچی کے ایشوز کوپس پشت کردیا گیا ہے، سینئر رہنما آپس میں دست وگریباں ہیں اور مذاق بنادیا گیا ہے جبکہ انٹراپارٹی الیکشن ہوں گے پتہ چل جا ئے کارکنان کس کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر بندے نے ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بناکر ایم کیوایم خراب کردی ہے، کارکنان آپ سے بدظن ہورہے ہیں اور ایم کیوایم کو چھوڑ کر جارہے ہیں، ماضی میں لندن سے پالیسی آتی تھی ہم اس پر عمل در آمد کرتے تھے، ہمارے وہ چہرے لیٹر والے نہیں ہے وہ لیڈر لندن میں تھا اس سے علیحدگی ہوگئی اب ہم کو اس پارٹی کو لے کر چلنا ہے اور آج ہم ذمہ دار اقتدار کے لئے اس طرح کی حرکتیں کریں گے بازار میں لڑائی جگڑا کریں گے تو کارکنان کیا کریں گے۔
وسیم اختر نے کہا کہ یہ ہی وجہ ہے کہ کارکنان کی بڑی تعداد خاموش ہو کر بیٹھ گئی، پانی اب سر سے گزر چکا ہے خدا کا واسط ہے، آپ کون ہوتے ہے ایم کیوایم پراس طرح بات کرنے والے جلسوں میں ہماری پارٹی میں چہرے کی اہمیت نہیں پارٹی کی اہمیت ہوتی ہے، ابھی تک کو ئی ایسا نہیں جس نے اپنا چہرہ بنایا ہو اس مقام تک کوئی نہیں پہنچا ہے ہاں سب اجتماعی طور پر مل کر ایم کیوایم بناسکتے ہے۔
انہوں نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی پارٹی چلا سکتے ہے یا نہیں یہ فیصلہ کارکنان کو کرنا ہے، الیکشن ہوں گے جو نتائج آئے گے فیصلہ ہوجائے، اختلافات کے باعث لوگوں کے ذہن خراب ہورہے ہیں۔ وسیم اختر کا کہنا تھا کہ پی ایس پی ایم کیوایم اتحاد پر اب بات نہیں کرنا چاہتا جو ہونا تھا ہوگیا، اب آگے کی طرف دیکھنا ہوگا اس وقت ایم کیوایم کا مذاق بناہوا ہے پارٹی قیادت میں اختلافات کے باعث ہم اس وقت کہاں کھڑے ہے ہر جماعت نے ایم کیوایم کو ختم کرنے کی کوشش کی اور پیلزپارٹی نے بہت کوشش کی کہ ایم کیوایم کو ختم کیا جائے ہم نے ماضی میں میڈیا کے سامنے کبھی اپنے اندورنی اختلاقات کا ذکر نہیں کیا اب جو کچھ ہورہا ہے یہ نہیں کرنا چاہیے۔
وسیم آفتاب نے اس موقع پر کہا کہ ایم کیوایم میں چہرے اہمیت نہیں رکھتے پارٹی اہمیت رکھتی ہے اور وہ چئیرمین بنے کی خواہش رکھ رہے ہیں جہیں انٹرا پارٹی الیکشن کا طریقی کار ہی نہیں معلوم ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل